حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جاپان کی محبِ وطن تنظیم (ایسوکائی) کے صدر کیمورا میتسوہیرو نے انقرہ میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس "عالمی تہذیبی اقدامات کے مطالعاتی مرکز" کے نام اپنے پیغام میں امریکہ کی پالیسیوں اور موجودہ عالمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نئے کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایشیائی ممالک کی خودمختاری اور آزادی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکہ کی یک قطبی بالادستی زوال کا شکار
میتسوہیرو نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک تاریخی اور انقلابی دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق، امریکہ کی یک قطبی بالادستی پر مبنی عالمی نظام تیزی سے کمزور ہو رہا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا کثیر قطبی عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے۔
انہوں نے دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کی مداخلت پسند پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کے غیر منصفانہ حملے، بالکل اسی طرح جیسے وینزویلا سمیت لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک میں اس کی فوجی مداخلتیں، کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔
جاپان کی محبِ وطن تنظیم (ایسوکائی) کے صدر نے مغربی بلاک اور شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کو درپیش بحران کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے نیٹو کو "دماغی موت کا شکار" قرار دیا تھا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اتحاد کو "کاغذی شیر" سے تشبیہ دی تھی۔ ان کے بقول، یہ صورتِ حال اس بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ ہے کہ آزاد اور خودمختار ممالک اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔
ایران، روس، ترکیہ اور چین ایشیا میں امن کے محور
میتسوہیرو نے بحرِ اوقیانوس پر مبنی عالمی نظام کے زوال اور یوریشیائی محور کے مضبوط ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایران، ترکیہ، روس اور چین جیسے اہم ممالک ایشیا میں امن، استحکام اور عوام کی زندگی و معاشی خوشحالی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی اشتعال انگیزیوں اور دباؤ کے مقابلے میں دنیا بھر کے آزاد فکر اور باشعور انسان ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
امریکی فوجی اڈے جاپان سے خالی کروائے جائیں
جاپان کی محبِ وطن تنظیم (ایسوکائی) کے صدر نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنے ملک کی امریکہ پر بڑھتی ہوئی انحصاریت پر تنقید کرتے ہوئے جاپان میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے بعد ہمارا ملک ایک ایسے نظام کا حصہ بن گیا جو امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔ ہم جاپان سے امریکی فوجی اڈوں کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے تعاون سے امن، استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر ایک آزاد علاقائی سلامتی کے نظام کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
مشرق کی حکمت کے احیاء کا وقت آ پہنچا
میتسوہیرو نے امید ظاہر کی کہ "مرکزِ مطالعاتِ اقدامِ تہذیبِ عالم" کی بین الاقوامی کانفرنس، جو 18 اور 19 جولائی کو انقرہ میں منعقد ہوئی، نیٹو مخالف فکری و سماجی تحریکوں کو تقویت دینے اور مشرق میں ایک نئی تہذیب کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے انسانی تہذیب کی تشکیل میں ترکیہ اور جاپان کے تاریخی کردار کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر جرمن مفکر اوزوالڈ اشپینگلر کے نظریۂ "زوالِ مغرب" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استحصالی سرمایہ دارانہ نظام، جس نے انسانی روح کے انحطاط اور سماجی ڈھانچوں کی تباہی کو جنم دیا، اب تک صرف فوجی طاقت اور جبر کے سہارے اپنی بقا قائم رکھ سکا ہے، لیکن اب اس نظام کے انہدام کا وقت آ پہنچا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مشرق کی حقیقی حکمت اور ایشیا کی ہم آہنگی، تعاون اور مشترکہ تہذیبی اقدار کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا جائے۔









آپ کا تبصرہ