منگل 21 جولائی 2026 - 18:03
خلیل الحیہ حماس کے نئے سیاسی سربراہ منتخب، مزاحمت کے تسلسل کا پیغام

حوزہ/ حماس نے خلیل الحیہ کو اپنے سیاسی دفتر کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ شہداء کے راستے پر ثابت قدمی، تنظیمی اتحاد اور مزاحمت کے ساتھ سفارتی کوششوں کو بیک وقت جاری رکھنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے خلیل الحیہ کو اپنے سیاسی دفتر کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ وہ شہید یحییٰ السنوار کے نائب رہ چکے ہیں اور حماس کے خارجہ تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

خلیل الحیہ غزہ میں پیدا ہوئے اور حماس کے بانی اراکین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کئی بار صہیونی حکومت کی جانب سے قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جبکہ ستمبر 2025 میں دوحہ میں بھی انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان تمام خطرات کے باوجود ان کی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں، جسے حماس کے اندر ان کی مضبوط حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

خلیل الحیہ نے "طوفان الاقصیٰ" کو ایک تاریخی اور فیصلہ کن کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کاروائی نے اسرائیل کے سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ حماس آئندہ بھی مزاحمت کے راستے پر قائم رہے گی اور ایران اور حزب اللہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو اہمیت دے گی۔

اسی کے ساتھ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بالواسطہ مذاکرات میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق وہ شہید یحییٰ السنوار کی اس حکمت عملی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں جس میں مسلح مزاحمت اور سفارتی کوششوں کو ساتھ ساتھ جاری رکھا گیا۔

حماس کی شوریٰ کی جانب سے خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ تحریک اپنی قیادت کو کسی ایک فرد تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ اجتماعی قیادت اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے پر یقین رکھتی ہے، تاکہ مسلسل خطرات اور صہیونی حملوں کے باوجود تحریک اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha