پیر 3 اگست 2026 - 06:22
کیا حماس واقعی طور پر اپنے ہتھیار حوالے کر دے گی؟ کب اور کیسے؟

حوزہ / حماس کی جانب سے مذاکراتی فریم ورک کو قبول کرنے کا مطلب ہتھیار حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہے جو اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ اس فریم ورک میں حملوں کا خاتمہ، پسپائی، امداد رسانی اور تصدیق کے عمل پر زور دیا گیا ہے جبکہ اس کا مقصد مقاومت کے تحفظ اور سیاسی طور پر وقت حاصل کرنا قرار دیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | اب تک جو کچھ اعلان کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ حماس نے اپنے ہتھیار حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے یا اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ اس وقت جو صورتحال ہمارے سامنے ہے وہ فلسطینی فریق کی جانب سے ایک مذاکراتی فریم ورک کو قبول کرنا ہے؛ ایسا فریم ورک جس میں انتہائی سخت شرائط رکھی گئی ہیں اور جس کے تحت بھاری ہتھیاروں کو محدود کرنے اور ذخیرہ کرنے کا ہر عمل پہلے مرحلے میں قابض حکومت کی جانب سے اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہو گا۔

اس معاہدہ میں حملوں، بمباری اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کا خاتمہ، ’’یلو لائن‘‘ تک پسپائی اور گزشتہ ماہ کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا، فلسطینی قومی کمیٹی اور بین الاقوامی استحکام فورس کی سرگرمیوں کے لیے ماحول فراہم کرنا اور انسانی امداد کے پروٹوکول پر مکمل عمل درآمد شامل ہے۔ اس کے تحت انسانی امداد کی فراہمی، بے گھر افراد کی آبادکاری، ملبہ ہٹانے اور بجلی و پانی سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے۔

فلسطینی فریق کی جانب سے تجویز کردہ فریم ورک تین اصولوں، یعنی تدریج، بیک وقت عمل درآمد اور تصدیق پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق، گزشتہ مرحلہ مکمل ہونے سے قبل کوئی نیا مرحلہ شروع نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہتھیاروں کو محدود کرنے اور ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری ایک فلسطینی ادارے کے سپرد ہوگی اور یہ ہتھیار قابض حکومت یا کسی بھی دوسرے غیر ملکی فریق کے حوالے کیے بغیر غزہ کی پٹی کے اندر محفوظ رکھے جائیں گے۔

سیاسی اعتبار سے اس قدر لچک کو مقاومت کے منصوبے کو ایک اور وجودی جنگ سے محفوظ رکھنے اور اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات اور 3 نومبر 2026ء کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے گزرنے تک وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال میں وقت خود ایک اسٹریٹجک سرمایہ ہے؛ ایسا سرمایہ جو غزہ کو سانس لینے اور علاقائی تبدیلیوں اور طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلیوں کا انتظار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب اس بات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ نیتن یاہو انتخابی مقابلے کے دوران اپنی تمام ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی وعدے کی خلاف ورزی، معاہدے کے مرحلہ وار عمل کو روک دے گی اور مقاومت کو یہ اعلان کرنے کا موقع فراہم کرے گی کہ معاہدے کی خلاف ورزی دوسرے فریق کی جانب سے کی گئی ہے اور اس لیے یہ معاہدہ عملی طور پر ناقابلِ عمل ہے۔ ایسی صورتحال میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے بعض سیاسی اور قانونی جواز بھی ختم ہوجائیں گے۔

فلسطینی مقاومت کا تاریخی تجربہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جنگ بندی اور مرحلہ وار معاہدوں کو متعدد مواقع پر ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے، قوت بحال کرنے اور طاقت کے عناصر کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح لبنان میں قرارداد 1701 کے بعد کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ دریائے لیتانی کے جنوب میں فوجی تعیناتی پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں مکمل خلع اسلحہ نہیں ہوئی اور حزب اللہ بعد کے برسوں میں اپنی صلاحیتوں کو بحال کرنے بلکہ انہیں مزید ترقی دینے میں کامیاب رہی۔

لہٰذا آج بنیادی سوال یہ نہیں کہ ’’حماس اپنے ہتھیار کب حوالے کرے گی؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ کیا قابض حکومت بنیادی طور پر ان ذمہ داریوں پر عمل کرے گی جن سے اس عمل کا آغاز مشروط ہے یا مذاکراتی فریم ورک عین اس مقام پر آکر رک جائے گا جہاں اسے حقیقی پسپائی اختیار کرنا ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha