حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے کہا ہے کہ غزہ میں قتل عام اور بھوک مری اب بھی جاری ہے، جو چھوٹے پیمانے پر جنگ کا تسلسل ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں النونو نے کہا کہ "غاصب صہیونی حکومت وہاں ہر اس شخص کو نشانہ بنا رہی ہے جو زرد خط (خطرناک حد) کے قریب مانا جاتا ہے"۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد سے انکار کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرے مرحلے کے مطالبات پورے کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "غزہ کے عوام صہیونی جرائم کا شکار ہیں، اور انہیں بنیادی ضروریات کی فراہمی کی اجازت دی جانی چاہیے"۔
النونو نے مزید کہا کہ "صہیونی غزہ میں معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان خلاف ورزیوں کے بند ہونے سے پہلے سنجیدہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے"۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس قانونی طریقے سے اپنی تنظیم نو کر رہی ہے جس کے نتائج جلد اعلان کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو غزہ معاہدے پر عمل درآمد پر مجبور کرے، اور کہا کہ پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے بعد حماس دوسرے مرحلے کی بات چیت شروع کرنے کو تیار ہے۔









آپ کا تبصرہ