حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے رہنما محمود مرداوی نے واضح کیا ہے کہ مزاحمت کا اسلحہ فلسطینی عوام کے سیاسی مقاصد سے جڑا ہوا ہے اور اسے کسی صورت ترک نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے قطری ٹی وی چینل "العربی" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک صہیونی قابضین اپنی ٹارگٹ کلنگ اور جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں، مزاحمت سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے۔
مرداوی نے کہا کہ اگر آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے تو مزاحمت کا اسلحہ ریاست کے اختیار میں ہوگا، تاہم موجودہ حالات میں اسے ترک کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس جنگ بندی معاہدے کی پابند ہے، لیکن دشمن کا طرزِ عمل ایسا ہے گویا اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک صہیونی حکومت معاہدے کی مکمل پابندی نہیں کرتی اور غزہ میں قبضے کے مظاہر ختم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک مزاحمت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ ان کے بقول قابض افواج کی واپسی اور معاہدے پر عمل درآمد ہی سیاسی عمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ادھر جہاد اسلامی کے ترجمان محمد الحاج موسیٰ نے بھی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلحہ فلسطینی عوام کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار حماس سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ آئندہ مرحلے میں غیر مسلح ہو جائے، جبکہ صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو غزہ کو غیر مسلح کرنے سے مشروط قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فورس تشکیل دی جا سکتی ہے، تاہم صہیونی حکام چاہتے ہیں کہ یہ فورس مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری بھی سنبھالے۔









آپ کا تبصرہ