حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممتاز جعفری مفتی اور لبنانی شیعہ عالم دین شیخ احمد قبلان نے لبنان کے صدر کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے کہا: میں پوری صداقت اور حب الوطنی کے ساتھ صدر سے کہتا ہوں کہ خطے میں رونما ہونے والے تمام واقعات انتہائی خطرناک ہیں اور اس صورتحال میں ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ لبنان ہے۔
انہوں نے خط میں لکھا: میں پوری صداقت اور حب الوطنی کے ساتھ صدر جوزف عون سے کہتا ہوں کہ خطے میں رونما ہونے والے تمام واقعات انتہائی خطرناک ہیں اور اس صورتحال میں ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ لبنان ہے کیونکہ اس ملک کی تاریخ کسی سیاسی مرحلے، جماعتی وابستگی یا کسی بڑی علاقائی یا بین الاقوامی لہر سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ لبنان کی حقیقت اس کے قیام کے زمانے سے اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ایک پیچیدہ قومی قوت ہے جو رشوت قبول نہیں کرتی اور اپنے سیاسی ڈھانچے اور قومی اتفاقِ رائے کے فارمولے سے باہر کسی کے لیے تقدیس اور تشہیر نہیں کرتی۔
انہوں نے مزید کہا: معاملات کو واضح کرنے کے لیے صدر جوزف عون سے کہتا ہوں کہ واشنگٹن اور تل ابیب لبنان کو ہڑپ نہیں سکتے۔ وہ مشرق وسطیٰ کو تبدیل کر سکتے ہیں لیکن لبنان کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر وینزویلا کا رقبہ 10 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، اس کے باوجود اس کی حکومت صرف پندرہ منٹ میں گرا دی گئی، جبکہ تل ابیب نے واشنگٹن، نیٹو اور جنگی تاریخ کے فیصلہ کن معرکوں میں بے مثال اسلحہ خانے کی مدد سے لبنان کو نگلنے کے لیے تین سال تک مسلسل جنگ مسلط کیے رکھی، یہاں تک کہ دنیا جنوبی سرحد کے ایک گاؤں ’’مجدل زون‘‘ کے مقابلے میں اس کی تزویراتی بے بسی پر حیران رہ گئی۔
شیخ قبلان نے مزید کہا: اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ہمیں واشنگٹن، تل ابیب اور عالمی و علاقائی فتنوں کی فہرستوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے لبنان کی تاریخ انتہائی تلخ اور کٹھن ہے۔ لبنان کے بحران کا حل قومی ڈھانچے کے احترام اور ملک کو بچانے کے لیے قومی اتفاقِ رائے کا فارمولہ اپنانے میں ہے۔ اسی کے ذریعے ہم فرقہ وارانہ فتنوں کے منصوبوں میں پھنسنے سے بچ سکتے ہیں جو کسی سرحد پر رکنے والے نہیں ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب شیعوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے پس منظر میں ’’لبنان کی صہیونی سازی‘‘ اور ہر اس خودمختار قوت کا خاتمہ شامل ہے جو اس ملک کی صہیونی سازی کے منصوبے سے متصادم ہو۔
انہوں نے مزید کہا: خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایسی تبدیلی ہے جس کا ہدف مشرق وسطیٰ کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے، جبکہ اس خطے میں امریکہ کی تاریخ انتہائی منفی اور موقع پرستانہ رہی ہے۔ یہاں تک کہ واشنگٹن کے زیرِ اثر ممالک خود کو کمزور، نازک، فرسودہ اور ایک بکھرے ہوئے علاقائی ماحول میں منتشر حکومتوں کی صورت میں ظاہر کر رہے ہیں اور یہ سب امریکی مکاری اور عیاری کا نتیجہ ہے۔









آپ کا تبصرہ