ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 21:08
پاکستان میں شیعہ حقوق کی جدوجہد کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ ڈاکیومنٹری

حوزہ/پاکستان اسلام کے نام پر شیعہ سنی مسلمانوں نے مل کر بنایا۔ جہاں تمام مکاتبِ فکر کے عقائد کا خیال رکھا جانا تھا۔ مگر وطن عزیز کے قیام کے ابتدائی سالوں میں ہی اسے اسلامی کے بجائے، ایک مسلکی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ جس کے خلاف ملت تشیع مولانا سید محمد دہلوی کی قیادت میں کھڑی ہوئی اور اپنے حقوق کی جدوجہد ایوب خان کے دور میں شروع کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی | پاکستان میں شیعہ حقوق اور مطالبات کیلئے جدوجہد کب شروع ہوئی اور اس کیلئے متحدہ پلیٹ فارم کب بنا اور کن کن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، اس حوالے سے باقاعدہ ایک مفصل ڈاکیومنٹری جاری کی گئی ہے۔ ڈاکیومنٹری میں پہلی ملک گیر جماعت شیعہ مطالبات کمیٹی کے پہلے قائد ملت جعفریہ مولانا سید محمد دہلوی اور جسٹس جمیل حسین رضوی کی خدمات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈاکیومنٹر کے مطابق پاکستان اسلام کے نام پر شیعہ سنی مسلمانوں نے مل کر بنایا۔ جہاں تمام مکاتب فکر کے عقائد کا خیال رکھا جانا تھا۔ مگر وطن عزیز کے قیام کے ابتدائی سالوں میں ہی اسے اسلامی کی بجائے، ایک مسلکی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ جس کے خلاف ملت تشیع مولانا سید محمد دہلوی کی قیادت میں کھڑی ہوئی اور اپنے حقوق کی جدوجہد ایوب خان کے دور میں شروع کی۔ مولانا سید محمد دہلوی کو دارفانی سے رخصت ہوئے بھی 54 سال ہوچکے ہیں۔ قومیں اپنی تاریخ اور جدوجہد پر فخر کرتی ہیں، مگر پہلے قائد ملت جعفریہ کے بارے میں بہت کم لوگ آگاہ ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل کو ان کی ملی سیاسی جدوجہد اور علمی خدمات بارے کوئی آگاہی نہیں۔

جن لوگوں نے قائد ملت جعفریہ کو دیکھا، ان کے ساتھ کام کیا، وہ بھی گنے چنے چند افراد باقی ہیں، جو اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد کو محفوظ کرنے کے لئے کوئی ڈاکیومنٹری نہیں بنائی گئی۔ پہلے قائد ملت جعفریہ مولانا سید محمد دہلوی 1899ء میں پتن ہیڑی ضلع بجنور اتر پردیش ہندوستان میں پیدا ہوئے اور 20 اگست 1971ء کو پاکستان میں انتقال کر گئے۔ وہ 1964ء سے 1971ء تک قائد ملت جعفریہ پاکستان کے منصب پر فائز رہے۔ خطیب اعظم مولانا سید محمد دہلوی کی ہندوستان اور نوزائیدہ مملکت پاکستان میں علمی، سیاسی، سماجی خدمات اور جدوجہد کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ایوب خان کے دور حکومت میں متنازعہ نصاب تعلیم میں موجود دل آزار مواد اور شیعہ عقائد کو نظر انداز کرنے کیخلاف علیحدہ شیعہ دینیات کیلئے قائد ملت جعفریہ نے تحریک چلائی۔ جو ان کی زندگی میں عروج تک پہنچی، مگر بدقسمتی سے زندگی نے ساتھ نہ دیا، وہ 20 اگست 1971ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔

جسٹس جمیل حسین رضوی

اس ڈاکیومینٹری میں مولانا سید محمد دہلوی کی 1971ء میں وفات کے بعد نائب صدر جسٹس جمیل حسین رضوی کے حالات زندگی بھی سامنے لائے جائیں گے۔ جسٹس جمیل حسین رضوی 1905ء میں پیدا ہوئے اور 20 اگست 1981ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ ان کی قیادت میں 1976ء میں شیعہ دینیات کا مطالبہ نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اس پر عملدرآمد بھی ہوا۔ جسٹس جمیل حسین رضوی تحریک پاکستان کے عظیم کارکن اور رہنماء تھے۔ ریاست پٹیالہ کے نامور قانون دان نے پاکستان آکر سیاست، وکالت اور قومیات کے علاوہ طلباء و طالبات کے لئے وظائف کے لئے انجمن وظیفہ سادات و مومنین قائم کی۔ مرحوم جسٹس جمیل حسین رضوی معروف سیاسی تجزیہ کار سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے نانا تھے۔

علامہ سید محمد دہلوی پر ڈاکیومنٹری بنانے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ نسل نوء کو ملت جعفریہ پاکستان کی درخشندہ اور ابتدائی تاریخ سے آگاہی دی جا سکے۔ قائدین کی جدوجہد، قومی خدمات کو آئندہ نسلوں تک پہنچانا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ نوجوان نسل کو آگاہی دینا اور قائدین کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ تاریخ کو محفوظ کرنا اور وطن عزیز پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی شیعہ کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کو بے نقاب کرنا۔ قائدین ملت جعفریہ کی شیعہ مخالف اقدامات کے مقابلے میں حکمت عملی کو عوام تک پہنچانا اور بنیادی شہری مذہبی حقوق کی جدوجہد کو منظر عام پر لانا ہے۔ متحدہ برصغیر اور تقسیم کے بعد کے حالات، قائدین کے نام اور کردار کا تذکرہ، شیعہ دینیات کے نفاذ کے تجربہ کا تجزیہ، منفی اور مثبت دونوں لحاظ سے گفتگو کی گئی ہے۔ متحدہ برصغیر پاکستان اور ہندوستان کے معروف علماء مدارس اور علمی سرمائے سے آگاہی دی۔ ملت جعفریہ کے ساتھ مختلف حکومتوں کے رویوں سے پردہ اٹھانا شامل ہے۔

ڈاکیومنٹری کا مفصل لنک درج ذیل ہے:
https://www.youtube.com/watch?v=jSs2WxtyOVk

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha