حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 11 ستمبر بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح (25 دسمبر 1876 – 11 ستمبر 1948) کے 78ویں یومِ وفات کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح جیسی غیرمعمولی، نظریاتی اور دوراندیش شخصیات اور قیادت صدیوں میں قوموں کو میسر آتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: قائداعظم کی انتھک محنت، عزم اور جدوجہد کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم عوامی جدوجہد کے نتیجے میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کا قیام عمل میں آیا، تاہم سات دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان آج بھی معاشی و داخلی استحکام کا منتظر ہے اور عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ 79 سال بعد بھی ملکی نظام پر انگشت نمائی کا سلسلہ جاری رہنا ایک تشویشناک امر ہے، جس کے ازالے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کہا: 11 ستمبر محض بابائے قوم کا یومِ وفات نہیں بلکہ یومِ خود احتسابی بھی ہے۔ ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ اس عظیم ہستی اور دیگر اکابرین کی جانب سے آزاد مملکت کی صورت میں ملنے والی امانت کے ساتھ ہم نے کس حد تک انصاف کیا ہے!؟۔
انہوں نے کہا: پاکستان کا قیام محض سرحدوں کی تقسیم کا نتیجہ نہیں بلکہ مضبوط دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک آزاد ریاست کا وجود میں آنا تھا۔ قیامِ پاکستان کے موقع پر لاکھوں افراد نے عظیم قربانیاں دیں اور ہجرت کی، جس کے نتیجے میں یہ مملکت وجود میں آئی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: دفاعی اعتبار سے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ادوار میں اقدامات ضرور کیے گئے تاہم ناپائیدار پالیسیوں کے باعث پاکستان بیرونی قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج 79 سال بعد بھی ملکی نظام اور پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا: انگریز دور کے ظالمانہ قوانین کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق سے متصادم پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے، قانون کی حکمرانی اور میرٹ پر مبنی نظام قائم کیا جائے اور ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی نئے یونٹ یا صوبے کے قیام کے حوالے سے حقیقی قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: اگر ملک میں قانون کی حکمرانی، میرٹ اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور قومی مفاد میں مؤثر و مستقل پالیسیاں تشکیل دی جائیں تو پاکستان ترقی پذیر ممالک بلکہ قرض دار ممالک کی فہرست سے نکل کر حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ