حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کولہاپور/ مہاراشٹر کے تاریخی شہر کولہاپور میں ’سمودھان سرکشا سمنوئے سمیتی‘ کے زیر اہتمام مدیر ماہنامہ الفرقان لکھنؤ و بانی دارالعلوم امام ربانی، مہاراشٹر خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی قیادت میں مختلف طبقات، مذاہب اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کی اعلیٰ سطحی نشست منعقد ہوئی، جس میں دستورِ ہند کے تحفظ اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

نشست میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سکھ، مراٹھا، چھتریہ، جین، بودھ، لنگایت اور پسماندہ طبقات سے وابستہ نمائندوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔
شرکاء میں سردار دیا سنگھ (آل انڈیا پیس مشن)، ڈاکٹر سبھاش دیسائی (اکیڈمی آف ریلیجن یونٹی)، ڈاکٹر میگھا پنسارے اور اسمتا پنسارے، ڈاکٹر ولاس کھرات (بودھ سناتن دھمّا)، ڈی بھاسکر (دلت مہاسنگھ)، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ امن راوت (چھتریہ ریپبلکن کونسل)، نتین چوہان (سمبھاجی بریگیڈ)، دگو جے پاٹل (مہاراشٹر سنگھرش سمیتی)، ایڈووکیٹ سوریہ جی پوتلے (شیوراجیہ فاؤنڈیشن) اور محمد جنید ملک سمیت متعدد سماجی کارکنان اور دانشور شامل تھے۔

اس کے علاوہ مراٹھا مہاسنگھ، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور شیتکری کامگار پکش سے وابستہ ذمہ داران نے بھی نشست میں شرکت کی۔
نشست کے دوران شرکاء نے ملک میں مختلف طبقات کو درپیش مسائل اور بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے آئینی حقوق و مساوات کے سلسلے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین نے دستورِ ہند کی روح کے مطابق شہری حقوق، مساوات اور انصاف کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے کہا کہ ملک میں دستور کے ساتھ پیش آنے والی صورتِ حال پر موجود تمام افراد کو تشویش ہے اور مختلف طبقات اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری الگ الگ کوششوں کو برقرار رکھتے ہوئے Common Minimum Programme کے تحت مشترکہ جدوجہد کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ متحدہ اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایسے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جو انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں۔
سجاد نعمانی کی اس تجویز کی نشست میں موجود شرکاء نے تائید کی اور مشترکہ کوششوں میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔









آپ کا تبصرہ