تحریر: مولانا سید عابد حسین الحسینی
تمہید
کتاب ایک عظیم علمی سرمایہ ہے اس علمی سرمایہ کو پرکھنے کے لئے مختلف عوامل گنوائے جاسکتے ہیں مگر موجوده حساس دور میں مذھبی کتب میں مفید اور مضر کتاب کی تمیز کا معیار یہ ہونا چاہئے کہ کوئی بھی کتاب خواہ شیعہ مولف کی لکھی ہوئی عالم تشیع سے منسوب ہو یا سنی مصنف کی لکھی ہوئی اھل تسنن سے منسوب کتاب ہو اگر فرقہ واریت، بغض اور کینہ کو ہوا دیتی ہے تو اس کی اشاعت اور عام تشہیر ممنوع ہے۔
رہبرِ معظم شہید امام خامنہ ای قدس سرہ نے اپنے ایک خطاب میں اس مسئلے کی طرف واضح اشارہ فرمایا ہے:"موجودہ دور میں ہماری بعض کتابیں ایسی ہیں اور یہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میرے نام لینے سے ان غلط کتابوں کی مزید تشہیر ہوگی تو میں یقیناً ان کا نام بھی لیتا۔ ایسی کتاب جو جوان نسل کو مختلف ہنری طریقوں کے ذریعہ گناہ کی طرف دھکیلتی ہے یہ کوئی فکری مسئلہ نہیں ہے کہ ہم یہ کہہ دیں کہ اس کتاب کی اشاعت اور ہے یہ ہمیں اس کتاب کا جواب لکھنا چاہئے کیونکہ اس کا تو کوئی جواب نہیں ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم یہ اجازت دے دیں کہ ایک ملک کی جوان نسل جو ہمارے اعتماد پر آپ سے کتاب خریدے اور کہے کہ یہ دیندار ہیں اور یہاں پر دینداروں کی حکومت ہے، پھر اس طریقے سے گمراہ اور بے راہ روی کا شکار ہو جائیں۔"
آپ نے مزید فرمایا:"ایک اور کام جسے انجام دیا جائے وہ یہ ہے کہ ایسی کتاب کی اشاعت پر بھی پابندی لگائی جائے جو فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہیں، اب چاہے ان کا تعلق شیعہ ماحول سے ہو یا سنی ماحول سے، آج کچھ کتب بغض اور کینہ ایجاد کرنے کے لیے تحریر کی جاتی ہیں اور ان پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے، ان کا سد باب کرنا بھی ایک ضروری امر ہے۔
اسی فریم ورک کے تحت، کتاب سلیم بن قیس کا مطالعہ صرف تخصصاتی، تحقیقی اور علمی دائرہ کار تک محدود رہنا چاہیے تاکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان نہ پہنچے۔ کتاب سلیم بن قیس کے اختلافی منقولات اسی زمرے میں آتے ہیں جنہیں عوامی سطح پر پھیلانے سے گریز ضروری ہے۔
کتاب سلیم بن قیس ہلالی صدرِ اسلام کی تاریخ، حدیث اور کلامی مباحث سے متعلق حساس ترین مکتوبات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ سقیفہ، خلافت کے ابتدائی اختلافات اور بعض فریقین کے مابین شدید تنازعات پر مشتمل ہے۔ ان حساس مضامین کو عامۃ الناس میں نشر کرنا، یا اختلافی مطالب کو عوامی سطح پر پھیلانا، علمی و اجتماعی بنیادوں پر مناسب نہیں۔ مخصوصا کشمیر میں جہاں اتحاد المسلمین علماء کی صدیوں کی کوششوں کا ماحصل ہے۔
شرعی و ولائی نقطۂ نظر سے یہ بنیادی اصول مدِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ فریقین کے مذہبی مقدسات بالخصوص اہل سنت کی محترم شخصیات کی توہین قطعی حرام ہے۔ مراجعِ عظامِ تقلید اور ولی امرِ مسلمین امام خامنہ ای کے صریح فتاویٰ کے مطابق اہل سنت کے مقدسات کی اہانت بلا استثناء حرام ہے، خواہ روایت سند کے لحاظ سے صحیح ہو یا ضعیف۔

کتاب کی بنیادی خصوصیات اور تاریخی و کلامی حیثیت
کتاب سلیم بن قیس کی اصلی کتاب جو مفقود الاثر ہے کو شیعہ روائی تاریخ میں خاص مقام حاصل ہے۔ متعدد متقدمین و متأخرین علماء نے اسے شیعہ مکتوب ورثے کی پہلی یا قدیم ترین کتاب قرار دیا ہے جو پہلی صدی ہجری میں مرتب ہوئی۔ روایات میں اس اثر کو "أبجد الشيعة" اور "سِرٌّ مِنْ أَسْرَارِ آلِ مُحَمَّدٍ" کے القاب سے یاد کیا گیا ہے ۔
موجودہ کتاب کے بارے میں علمائے شیعہ کے چار مختلف نظریہ
کتاب سلیم کی وثاقت اور اس کے متن و سند کے بارے میں شیعہ محدثین، رجالیین اور متکلمین کے درمیان بحث و تمحیص صدیوں سے جاری ہے۔ علمائے شیعہ کے آراء کو مجموعی طور پر چار بنیادی نظریات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
پہلا نظریہ: کامل اعتبار اور مطلق صحت
اس مکتبِ فکر کے بعض علماء کا ماننا ہے کہ کتاب سلیم کی تمام مندرجات صحیح اور معتبر ہیں۔
دوسرا نظریہ: نسبی اعتبار اور متنی تحریف کا قائل ہونا
اس نظریے کے مطابق اصل کتاب اور خود جناب سلیم بن قیس رضوان اللہ تعالی علیہ کی شخصیت واقعی تھی، لیکن صدیوں کے دوران نسخہ برداروں کی دستبرد کے باعث موجودہ نسخوں میں تخلیط، تدلیس اور جعلی احادیث کا اضطراب شامل ہو چکا ہے۔ لہٰذا موجودہ تمام نسخوں پر اندھا دھند اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ممتاز طرفداران
شیخ مفید رضوان اللہ تعالی علیہ: تصحیح الاعتقاد میں فرماتے ہیں کہ اس کتاب کی تمام باتوں پر اعتماد جائز نہیں کیونکہ اس میں تخلیط اور تدلیس واقع ہوئی ہے، لہٰذا متدینین کو چاہیے کہ اس کی تمام روایات کو قبول کرنے سے گریز کریں اور علما سے رجوع کر کے صحیح کو فاسد سے جدا کریں ۔
· علامہ حلی رضوان اللہ تعالی علیہ : خلاصة الاقوال میں سلیم کی تعدیل کرتے ہیں لیکن کتاب کے فاسد حصے کے بارے میں توقف کا حکم دیتے ہیں ۔
· آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی دامت برکاتہ: ان کا موقف ہے کہ کتاب سلیم کے بعض مطالب اچھے ہیں جبکہ بعض میں شدید تردید اور اشکال پایا جاتا ہے، لہٰذا اس کی سند اور متن دونوں تفصیلی تحقیق کے محتاج ہیں ۔
· آیت اللہ استاد احمد عابدی دامت برکاتہ: ان کا کہنا ہے یہ معلوم نہیں ہے کہ جو کتاب سلیم بن قیس فی الحال دستیاب ہے وہ وہی کتاب ہے یا نہیں۔ زیادہ احتمال ہے، بلکہ یقینی طور پر کہاجاسکتا ہے، کہ اس کتاب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور تحریف کی گئی ہے۔
تیسرا نظریہ: کتاب کا جعلی اور ساختہ ہونا
اس نظریے کے قائلین کا ماننا ہے کہ سلیم کی طرف منسوب یہ کتاب اصل سے ہی موضوع ہے اور ابان بن ابی عیاش یا غلات کے کسی گروہ نے اسے گھڑا ہے۔
چوتھا نظریہ: کتاب اور مؤلف دونوں کے وجودِ خارجی کا انکار
جدید دور کی بعض تاریخی و نسخہ شناسی کی تحقیقات کرنے والے اس نقطہ نظر کو پیش کرتی ہیں کہ نہ صرف موجودہ کتاب جعلی ہے، بلکہ خود "سلیم بن قیس" نامی کسی شخصیت کا پہلی صدی ہجری میں کوئی مستقل تاریخی وجود ثابت نہیں ہے۔
متن اور سند کے بنیادی اشکالات، تضادات اور تاریخی نقد
1. سند کا ضعف اور ابان بن ابی عیاش پر اتمام: حدیث شناس محققین کا ماننا ہے کہ کتاب کی تمام تر سندیں بالآخر ایک ہی راوی "ابان بن ابی عیاش" پر جا کر ختم ہوتی ہیں۔ شیعہ و سنی علمائے رجال کے نزدیک ابان بن ابی عیاش ضعفِ حافظہ، نسیان اور روایات میں تسامح کے باعث غیر قابلِ اعتماد اور ضعیف راوی شمار ہوتا ہے۔
2. واضح اور مسلم تاریخی تضادات
· اموی حکمرانوں کا دور اور خلافتِ علوی کی عدم اشاعت: کتاب سلیم بن قیس میں عثمان بن عفان کی وفات کے بعد فوراً معاویہ اور اس کی اولاد کے حکومت پر آنے کا ذکر ملتا ہے، جبکہ امام علی علیہ السلام کی پانچ سالہ خلافت اور حکومت کا کوئی ذکر موجود نہیں، جو مسلمہ تاریخی واقعات کے بالکل خلاف ہے۔
· کم سن بچے کی گفتگو: حدیث نمبر ۳۷ میں چار سالہ بچے کی زبانی اس کے والد کے احتضار کے وقت انتہائی دقیق و فصیح وصیتیں نقل کی گئی ہیں، جو فطری انسانی صلاحیتوں کے ادراک کے منافی ہے۔
3. متنی انتحال اور دیگر متون سے مواد کی چوری: جناب کاظم استادی کی متنی مشابہت یابی پر مبنی جدید تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کتاب سلیم میں موجود متعدد طویل احادیث اور خطبے دیگر متقدم راویوں (جیسے اصبغ بن نباتہ، جندب بن عبداللہ، قبیصہ بن جابر، عامر شعبی) کی منقولات سے من وعن یا معمولی تغیر کے ساتھ کاپی کر کے سلیم کی طرف منسوب کر دیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے مرتبین نے متفرق کتب سے مواد جمع کر کے اسے سلیم کے نام سے ثبت کر دیا۔
4. غیر منطقی نقل اور غلو آمیز ارقام
· جنگِ جمل کے اعداد و شمار: جنگِ جمل میں مقتولین اور لشکر کی تعداد کے بارے میں مبالغہ آمیز اعداد و شمار دیے گئے ہیں جو دیگر معتبر تاریخی کتب کے موافق نہیں ہے۔
· دشمن کے خفیہ اجلاسوں کی رپورٹنگ: شام میں معاویہ اور عمرو بن عاص کی تنہائی کی خفیہ سیاسی گفتگو نقل کی گئی ہے، جبکہ سلیم کے لیے ان خفیہ مجلسوں میں موجودگی اور انضباط عقلاً ناممکن تھا۔
5. طعن و تشنیع: گر چہ نقل کفر کفر نباشد مگر اجمالی طور یہی کہا جاسکتا ہے اس غرض سے کہ میرا یہ تنقیدی مقالہ دوسروں کو تشیع کی بدنامی کا ابزار نہ بنے ان کی نشاندھی اور توضیح سے پرہیز کیا جارہا ہے، جبکہ شخصی طور دقیق احادیث کی نشاندہی بھی کی جاسکتی ہے۔
6. فقرے گھڑنا: کتاب میں بعض روایات میں فضیلت کو ثابت کرنے کے لیے راہ حق سے انحراف کیا ہے اور ایسے معاملات بیان کیے جو نہ صرف روایت میں منفرد ہیں بلکہ دوسری روایتوں سے متضاد بھی ہیں۔ جیسا کہ گیارہویں حدیث صفحہ نمبر ۶۴۲ میں ہے، امام علی علیہ السلام کا بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی اپنے نام سے نہیں پکارا اور ہمیشہ میرے بھائی کا لقب استعمال کیا۔ لیکن اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فوراً امام علی علیہ السلام سے ایک اور روایت نقل کرتے ہیں جو اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔
7. تیرہ امام: سلیم کی کتاب پر جو تنقید کی گئی ہے ان میں سے ایک روایت کا وجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اماموں کی تعداد تیرہ ہے جیسے علامہ حلی رضوان اللہ تعالی علیہ خلاصة الاقوال میں اسے اس کتاب کی کمزوری کی دلیل کے طور پر لیا ہے۔ کتاب کی حدیث نمبر 45 میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ معصوم اماموں کی تعداد تیرہ ہے۔ چون بعدی نہیں بلکہ بعدنا ذکر ہوا۔ حدیث کا متن حسب ذیل ہے أَلَا وَ إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ نَظْرَةً ثَانِيَةً فَاخْتَارَ بَعْدَنَا اثْنَيْ عَشَرَ وَصِيّاً مِنْ أَهْلِ بَيْتِي جان لو کہ خدا نے دوسری نظر کی اور ہمارے بعد میرے اہل بیت میں سے بارہ جانشینوں کو چن لیا اور انہیں میری امت کا برگزیدہ بنایا۔
اس کے باوجود یہ بات قابل ذکر و ناقابل انکار ہے متعدد بار اس کتاب میں اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل اور نصوصِ امامت ذکر ہوئے ہیں: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے امام علی علیہ السلام کی بلا فصل وصایت اور بارہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے اسمائے گرامی اور ان کی امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف پر اختتام کی صریح نصوص۔جو کتاب کا طرہ امتیاز بھی ہے۔
8. تحریف در قرآن: کتاب سلیم میں صفحہ نمبر ۷۸۱ پر نقل شدہ روایت کے مطابق: والذي انزل الله جل اسمه فيه انما انت منذر لكل قوم هاد . والله لقد نزلت و على لكل قوم هاد فاسقطتم ذلك.
9. اغیار مصداقٍ ایہ تطہیر: آیہ تطہیر کے مطابق شیعہ اعتقاد میں جو مسلم اور قابل قبول ہے وہ پانچ افراد ہیں، اور شیعوں نے ائمہ معصومین کے علاوہ کبھی کسی کو اہلبیت قبول نہیں کیا۔ روایت ۶۱، ص۔ 905 عبدالمطلب کے تمام بچے خواہ وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے، سب اہل بیت میں سے شمار کئے گئے تمام بنی الزہراء، بنی عباس اور بنی ابوطالب سبھی اہل بیت میں گنے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ عمر بن ابی سلمہ اور اسامہ بن زید کو بھی اہلبیت میں شمار کیا گیا ہے۔
10. امام علی علیہ السلام کا خلفاء کے ساتھ تعاون مددگاروں کی کمی یا مسلمانوں کے اتحاد کی وجہ سے تھا؟ کتاب میں امام علی علیہ السلام سے نقل شده روایات میں بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ میں نے اس لیے جنگ نہیں کی کہ میرے پاس مددگار نہیں تھے۔ اور بعض جگہوں پر کہا گیا ہے کہ اگر میرے چالیس مددگار ہوتے تو میں لڑتا۔ یہاں پر جو سوال پیدا ہوتا ہے کیا یاروں کی کمی موضوعیت رکھتا ہے تو کربلا میں کم تعداد بھی موضوع بن سکتا ہے اگر اتحاد مسلمین محور ہے تو دو متضاد بیان مولا کے ساتھ منسوب کئے گئے ہیں۔
نسخوں کا شدید اختلاف
نسخہ شناسی کی رو سے اس کتاب کے کم از کم ۸ مختلف مخطوطات اور ۶۰ سے زائد متأخر نسخے (گیارہویں صدی ہجری کے بعد کے) پائے جاتے ہیں جن میں باہمی شدید تضاد ہے۔ جناب کاظم استادی کے مطابق مختلف نسخوں میں حتیٰ ایک مشترک حدیث بھی نہیں ملتی ۔
· بحار الانوار کے ساتھ تباین: آیت اللہ استاد عابدی کا کہنا ہے کہ علامہ مجلسی رحمتہ اللہ علیہ نے بحار الانوار میں کتاب سلیم سے جو روایات نقل کی ہیں، ان میں سے بعض موجودہ مطبوعہ نسخوں میں نہیں ملتیں، اور موجودہ نسخوں کے بعض مطالب بحار میں غائب ہیں؛ یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ علامہ مجلسی کے دور کے بعد بھی نسخوں میں دستبرد کا سلسلہ جاری رہا۔
نتیجہ گیری اور محققانہ تجویز
حاصلِ کلام یہ ہے کہ موجودہ دستیاب کتاب سلیم بن قیس کے نسخوں کو بغیر تحقیق و سندی جانچ کے بالکلیہ صحیح ماننا علمی موازین کے خلاف ہے۔ اگرچہ اصل سلیم بن قیس اور ان کی تحریر کی بنیاد قابلِ انکار نہیں، لیکن تحریفات اور تخلیط کے باعث اس کی روایات پر تکیہ کرنے کے لیے علمِ رجال اور فقہ الحدیث کے اصولوں کے مطابق ایک ایک حدیث کی انفرادی جانچ ضروری ہے۔
علماء اور محققین کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ چوتھی صدی ہجری سے پہلے کے معتبر شیعہ مصادر (جیسے الکافی، الخصال، بصائر الدرجات) میں موجود روایات سے موازنہ کر کے اس کے متون کی بازسازی کی جائے۔ اور سب سے اہم: شہید رہبرِ معظم کے فرمان کے مطابق، اختلافی یا اہانت آمیز منقولات کو عامۃ الناس میں نشر کرنے سے مکمل پرہیز کیا جائے، کیونکہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والی کتب کی اشاعت، خواہ شیعہ ماحول سے ہو یا سنی، اسلامی اتحاد کے منافی ہے اور اس کا سد باب ضروری ہے۔ کتاب سلیم بن قیس کے وہ حصے جو اہل سنت کے مقدسات سے متعلق اختلافی و اہانت آمیز مواد پر مشتمل ہیں، انہیں صرف تخصصی علمی حلقوں میں تنقیدی مطالعے تک محدود رکھا جائے، اور عوامی سطح پر ان کی تشہیر سے گریز کیا جائے۔
تنقیدی مقالہ کے اختتام پر یہ واضح کرتے چلوں غرض تنقیدی مقالہ لکھنا نہیں تھا اگر چہ میرا مقصد کشمیر میں کتاب کی اشاعت کرنے والوں کو متوجہ کرنا تھا کہ کسی کتاب کا قدیمی ہونے یا ایران میں چھپنے یا ایران میں موثر ہونے سے یہ لازمی نہیں ہے کہ کتاب مورد اعتبار، اثر انداز اور مفید ہو بلکہ ہمیں اپنے علاقائی مسلہ و مسائل کو مدنظر رکھنااوجب الوجبات ہے، حال ہی میں امیر کبیر میر سید علی ہمدانی کی کتاب "مودہ القربی"پر ایک علمی نشست برگزار ہوئی محققین نے کتاب کی مہجوریت اور افادیت کو اظہر من الشمس واضح کیا۔ گویا ہمارے لئے اہلبیت اطہار علیہم السلام کے فضائل و مناقب کا وہ انمول سرمایہ موجود ہے جس پر تمام مسلمان کشمیر متفق علیہ ہے۔










آپ کا تبصرہ