جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 02:24
مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا

حوزہ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ شیعہ دینیات کے زیرِ اہتمام مولانا آزاد لائبریری کے کلچرل ہال میں شبیہ زہرا حسینی قانون پوری کی کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی رسمِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں اہلِ علم نے قرآنی معارف، توحید اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کتاب کی علمی اہمیت کو اجاگر کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری کے کلچرل ہال میں شعبۂ شیعہ دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام معروف علمی و دینی تصنیف ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا نہایت وقار، علمی شان اور ادبی حسن کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس کتاب کی مصنفہ محترمہ شبیہ زہرا حسینی قانون پوری ہیں۔ تقریب میں دانش وران، اساتذۂ کرام، اہلِ علم اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے اس علمی و دینی محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔

مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا

کتاب ’’حبل الودود‘‘ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک اہم اور قابلِ قدر تصنیف ہے، جس میں توحید کے مختلف مدارج اور انسانی زندگی کے گوناگوں حالات و مراحل کو قرآنِ کریم کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ اس میں قرآنی تعلیمات کی رہنمائی میں انسانی زندگی، اس کے فکری و روحانی تقاضوں اور توحید کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تصنیف قارئین کو قرآنی معارف سے قریب کرنے اور دینی فکر و شعور کو جلا بخشنے کی ایک قابلِ تحسین علمی کاوش ہے۔

خطبۂ استقبالیہ: پروفیسر نشاط فاطمہ

تقریب کا آغاز پروفیسر نشاط فاطمہ، لائبریرین مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خطبۂ استقبالیہ سے ہوا۔ انہوں نے حاضرینِ مجلس کا خیرمقدم کرتے ہوئے تقریب کی علمی و ادبی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا استقبالیہ خطاب اس حقیقت کی ترجمانی کرتا تھا کہ کتب کی اشاعت اور ان کی علمی پذیرائی معاشرے میں علم و آگہی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے ذریعے اس امر کی اہمیت کو نمایاں کیا کہ جامعات اور کتب خانے محض علمی مواد کے ذخیرے نہیں ہوتے، بلکہ وہ تحقیق، تدبر اور فکری بالیدگی کے مراکز بھی ہیں۔ ایسی علمی تقریبات نئی تصانیف کو اہلِ علم کے سامنے متعارف کرانے اور ان کے افکار و نظریات کو وسیع تر حلقۂ مطالعہ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

مہمانِ اعزازی ڈاکٹر مرزا شفیق حسین شفق کا خطاب

تقریب کے مہمانِ اعزازی ڈاکٹر مرزا شفیق حسین شفق نے اپنے خطاب میں کتاب اور اس کی علمی اہمیت کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ ان کی شرکت نے تقریب کی علمی معنویت میں اضافہ کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے ذریعے اس نوعیت کی تصانیف کی قدر و منزلت اور دینی و فکری موضوعات پر سنجیدہ علمی کام کی ضرورت کو نمایاں کیا۔

’’حبل الودود‘‘ جیسی کتابیں اس اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں کہ وہ قاری کو محض معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ اسے قرآنی تعلیمات کے تناظر میں انسانی زندگی اور اس کے بنیادی سوالات پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ اس نوعیت کی علمی کاوشیں دینی شعور کی بیداری اور فکری مکالمے کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کرتی ہیں۔

مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا

ڈاکٹر پروفیسر مولانا اصغر اعجاز قائمی کا جامع علمی مقالہ

تقریب کا ایک اہم اور نمایاں حصہ پروفیسر مولانا اصغر اعجاز قائمی، چیئرمین شعبۂ شیعہ دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا جامع علمی مقالہ تھا۔ انہوں نے کتاب ’’حبل الودود‘‘ پر ایک مبسوط مقالہ پیش کیا، جس میں کتاب کے مختلف مضامین، اس کے موضوعات اور اس کے فکری و قرآنی مباحث کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔

ان کے مقالے کی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے کتاب کے مندرجات کو مجموعی تناظر میں پیش کرتے ہوئے اس کے علمی پہلوؤں اور موضوعاتی وسعت کو نمایاں کیا۔ توحید کے مدارج اور انسانی زندگی کے مختلف حالات کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کتاب کو ایک بامقصد علمی کاوش بناتی ہے۔ اس تناظر میں ان کا مقالہ سامعین کے لیے کتاب کے فکری خدوخال کو سمجھنے اور اس کے مضامین کی معنویت تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔

ان کی گفتگو نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ قرآنی موضوعات پر تحریر کردہ کتابوں کا مطالعہ محض علمی ذوق کی تسکین نہیں، بلکہ دینی بصیرت، فکری پختگی اور روحانی شعور کی آبیاری کا وسیلہ بھی ہے۔ ان کا تفصیلی مقالہ تقریب کے علمی معیار کو بلند کرنے میں اہم ثابت ہوا۔

پروفیسر فائزہ عباسی کا اظہارِ خیال

پروفیسر فائزہ عباسی نے بھی اپنے خطاب میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کے حوالے سے گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کتاب کے موضوع اور اس کی علمی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس طرح کی تصنیفی کاوشوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

کتاب میں توحید اور انسانی زندگی کے مسائل کو قرآنِ کریم کی روشنی میں پیش کرنا ایک ایسا موضوع ہے جو قاری کو اپنے عقائد، افکار اور طرزِ زندگی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس اعتبار سے ’’حبل الودود‘‘ کا مطالعہ دینی موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ پروفیسر فائزہ عباسی کی گفتگو نے تقریب میں کتاب کے حوالے سے جاری علمی تبادلے کو مزید وسعت عطا کی۔

پروفیسر عزیز الدین حسین کی گفتگو

جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے سابق استاد پروفیسر عزیز الدین حسین نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کتاب ’’حبل الودود‘‘ کے حوالے سے گفتگو فرمائی۔ ان کی شرکت نے تقریب کو علمی و فکری اعتبار سے مزید وقعت عطا کی۔

انہوں نے کتاب کے موضوعات کی اہمیت کے تناظر میں دینی و قرآنی تصانیف کے مطالعے اور ان کی علمی پذیرائی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ ایسی کتابیں انسان کو قرآنی تعلیمات کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنانے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دینی بصیرت کے ساتھ دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا خطاب اس علمی محفل کے مجموعی تاثر کو مزید مؤثر بنانے کا ذریعہ بنا۔

صدرِ تقریب پروفیسر علی محمد نقوی کا صدارتی خطاب

تقریب کی صدارت پروفیسر علی محمد نقوی، سابق ڈین فیکلٹی آف دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے فرمائی۔ ان کی صدارت نے اس علمی تقریب کو وقار و اعتبار بخشا۔ ان کی علمی شخصیت اور دینیات کے شعبے سے وابستگی اس محفل کے لیے باعثِ افتخار تھی۔

اپنی صدارتی حیثیت سے انہوں نے تقریب کی علمی اہمیت کو سمیٹنے اور کتاب کی افادیت کو وسیع تر علمی تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ ’’حبل الودود‘‘ جیسی تصانیف کی پذیرائی اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ قرآنِ کریم کے معارف کو مطالعے اور تدبر کے ذریعے عام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسی علمی سرگرمیاں جامعات میں تحقیق و تصنیف کے ماحول کو تقویت پہنچاتی ہیں اور نئی نسل میں سنجیدہ مطالعے کا ذوق پیدا کرتی ہیں۔

مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا

نظامت: ڈاکٹر مولانا رضا عباس

تقریب کی نظامت ڈاکٹر مولانا رضا عباس نے انجام دی۔ انہوں نے اپنی نظامت کے ذریعے پروگرام کے مختلف مراحل کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا اور مقررین کے خطابات کے درمیان خوش اسلوبی کے ساتھ ربط قائم رکھا۔ کسی بھی علمی تقریب کی کامیابی میں نظامت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ ایک عمدہ ناظم پروگرام کے تسلسل، وقار اور حسنِ ترتیب کو برقرار رکھتا ہے۔

پروفیسر رضا عباس کی نظامت نے تقریب کے مختلف علمی و ادبی مراحل کو یکجا رکھتے ہوئے محفل کے مجموعی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اظہارِ تشکر: ڈاکٹر حیدر حسینی

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر حیدر حسینی نے اظہارِ تشکر کے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے تقریب میں شریک معزز مہمانوں، اساتذۂ کرام، اہلِ علم، سامعین اور دیگر شرکائے محفل کے تئیں ممنونیت کا اظہار کیا۔ ان کے اظہارِ تشکر کے ساتھ تقریب اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوئی۔

بعد ازاں مہمانانِ گرامی اور سامعین کی موجودگی میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ اس موقع پر کتاب کی رونمائی علمی و ادبی فضا میں انجام پائی اور شرکائے تقریب کو مصنفہ کی اس کاوش سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔

علمی و دینی اعتبار سے ایک قابلِ قدر کاوش

کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا محض ایک تصنیف کی رونمائی کا پروگرام نہیں تھی، بلکہ یہ قرآنی معارف، دینی فکر اور علمی تصنیف و تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک بامقصد علمی نشست بھی تھی۔ کتاب کے موضوعات، بالخصوص توحید کے مدارج اور انسانی زندگی کے حالات کو قرآنِ کریم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش، اسے دینی و فکری مطالعے کے شائقین کے لیے قابلِ توجہ بناتی ہے۔

اس تقریب میں مختلف علمی شخصیات کی شرکت اور ان کے خطابات نے کتاب کے موضوعات پر غور و فکر کے متعدد پہلو سامنے لائے۔ اس طرح کی تقریبات علمی مکالمے کو فروغ دینے، تصنیفی خدمات کی حوصلہ افزائی کرنے اور طلبہ و محققین میں کتاب دوستی کا جذبہ بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس تقریب میں اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد کی شرکت نے علمی سرگرمیوں کے تئیں جامعہ کے ماحول میں موجود دلچسپی کی عکاسی کی۔ شعبۂ شیعہ دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے اس پروگرام کا انعقاد علمی و دینی تصانیف کی پذیرائی اور تحقیق و تصنیف کے فروغ کی ایک خوش آئند مثال ہے۔

مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا

امید کی جاسکتی ہے کہ مصنفہ شبیہ زہرا حسینی قانون پوری کی یہ علمی کاوش اہلِ علم، طلبہ اور عام قارئین کے لیے استفادے کا ذریعہ بنے گی اور قرآنِ کریم کے معارف و تعلیمات سے شغف رکھنے والوں کو مزید مطالعے اور تدبر کی طرف راغب کرے گی۔

مجموعی طور پر کتاب ’’حبل الودود‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجرا ایک بامقصد، باوقار اور علمی اعتبار سے قابلِ قدر اجتماع تھا، جس نے تصنیف و تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنی فکر اور دینی شعور کے فروغ کا پیغام بھی دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha