حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ/ ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہونے والی نیشنل ہسٹری کانفرنس جسکا موضوع ’’علوم و فنون اور تہذیب کے ارتقا میں ہندوستانی مسلمانوں کا کردار‘‘ ہے۔ کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں محمد رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ بظاہر اس موضوع کا تعلق ماضی کی تاریخ سے ہے، لیکن حقیقت میں اس کا تعلق موجودہ دور اور مستقبل دونوں سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کو اگر صرف چند سیاسی واقعات، جنگوں یا حکمرانوں تک محدود کردیا جائے تو یہ تاریخِ ہند کے ساتھ ناانصافی اور تاریخی حقیقت کے منافی ہوگا۔ ہندوستان صرف بادشاہوں، جنگوں اور حکومتوں سے تشکیل نہیں پایا، بلکہ صنعت کاروں، کاریگروں، معماروں، ادیبوں، شاعروں، طبیبوں، سائنس دانوں، مدارس، علمی اداروں، کتب خانوں اور ان بے شمار گمنام افراد کی محنت سے بھی اس کی اجتماعی زندگی تشکیل پائی ہے۔ اس پورے تاریخی عمل میں ہندوستانی مسلمانوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
محمد رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ ضرورت صرف یہ ثابت کرنے کی نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں نے بھی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، بلکہ اس امر کی تحقیقی دریافت ضروری ہے کہ انہوں نے علم، سائنس، ٹیکنالوجی، طب، تعلیم، زبان و ادب، فنون، فنِ تعمیر، صنعت، تجارت، سماجی ادارہ سازی اور تہذیبی تشکیل کے میدانوں میں کیا کردار ادا کیا، ان خدمات کی نوعیت کیا تھی، ان کے تاریخی اثرات کیا رہے اور ان کے پس پشت کون سے علمی ادارے اور فکری عوامل کارفرما تھے۔ ان کے بقول آج یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس علمی و تہذیبی ورثے سے موجودہ نسل کیا رہنمائی حاصل کرسکتی ہے۔ یہی پہلو اس کانفرنس کو محض ماضی کے تذکرے کے بجائے ایک اہم تحقیقی اور فکری ضرورت بناتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی قوم کے تاریخی کردار کا اعتراف دوسری قوموں کے کردار کی نفی نہیں کرتا۔ ہندوستان ایک کثیر تہذیبی ملک ہے، جس کی تعمیر میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، جین، بدھ اور مختلف لسانی و علاقائی برادریوں نے اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک طبقے کی خدمات کو تسلیم کرنے سے دوسرے طبقات کے حصے کی اہمیت کم نہیں ہوتی، بلکہ صحیح تاریخ وہی ہوگی جس میں ہر فریق کے کردار کو اس کے حقیقی تاریخی وزن کے ساتھ بیان کیا جائے۔
اسلامی تہذیب میں علم کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب کے عروج کے زمانے میں بغداد، دمشق، قاہرہ، قرطبہ، بخارا، سمرقند اور دیگر مراکز بین الاقوامی علمی مراکز بن گئے تھے۔ مسلمانوں نے ریاضی، طب، فلکیات، کیمیا، بصریات، جغرافیہ، فلسفہ، تاریخ، لسانیات اور دیگر علوم میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے صرف قدیم علمی ذخیرے کو محفوظ نہیں کیا بلکہ اس میں اضافہ کیا، اس پر تنقید کی، تجربات کیے اور نئی دریافتیں بھی سامنے لائیں۔
انہوں نے کہا کہ جب مسلمان ہندوستان پہنچے تو یہاں پہلے ہی ایک عظیم علمی اور تہذیبی روایت موجود تھی۔ سنسکرت، طب، ریاضی، فلسفہ، فلکیات، فنون اور مختلف دست کاریوں کی قدیم روایات ہندوستانی معاشرے میں موجود تھیں۔ مسلمانوں کی آمد کے بعد مختلف علمی و تہذیبی روایات کے درمیان تعامل پیدا ہوا اور ہندوستانی، اسلامی، ایرانی، وسط ایشیائی اور مقامی روایات کے امتزاج سے ایک نئی مرکب تہذیب وجود میں آئی، جس کے اثرات زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
محمد رضی الاسلام ندوی نے ہندوستانی مسلمانوں کی خدمات کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک اہم میدان علوم کے تبادلے اور ترسیل کا تھا۔ مسلمان اہلِ علم نے ہندوستانی علمی ذخیرے سے استفادہ کیا، بعض علوم کو عربی و فارسی دنیا تک پہنچایا اور دوسری جانب اسلامی دنیا کے علمی ذخیرے کو ہندوستان میں متعارف کرایا۔ اس علمی تعامل نے دونوں جانب علمی و فکری روایتوں کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے اردو زبان کی تشکیل و ترقی کو بھی ہندوستانی مسلمانوں کی اہم علمی و تہذیبی خدمات میں شمار کیا۔ ان کے مطابق اردو نے ہندوستان کی مختلف زبانوں، بالخصوص عربی و فارسی، کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا اور اس زبان میں دینی علوم، تاریخ، فلسفہ، طب، سائنس، سماجیات، سیاسی فکر اور ادب کے وسیع ذخیرے وجود میں آئے۔
طب کے میدان میں مسلمانوں کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونانی طب کو ہندوستان میں فروغ ملا اور اس کا ہندوستانی طب، یعنی آیوروید، کے ساتھ بھی تعامل ہوا۔ اس علمی امتزاج کے نتیجے میں علم و حکمت اور علاج و معالجے کے مختلف مراکز قائم ہوئے۔ انہوں نے ماضی قریب میں خاندانِ عزیزی اور خاندانِ شریفی کی خدمات کو بھی اہم قرار دیا اور بالخصوص حکیم محمد اجمل خاں (م 1927ء) کی علمی و طبی خدمات کا ذکر کیا۔
فنِ تعمیر کے میدان میں ہندوستانی مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی اور مقامی فنون کے امتزاج سے ہندوستان میں ایک منفرد Indo-Islamic Architectural Tradition وجود میں آئی۔ مساجد، مدارس، مقابر، خانقاہیں، قلعے، سرائیں، باغات، پل، آبی نظام اور شہری تعمیرات اسی وسیع تہذیبی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ان منصوبوں اور عوامی فلاح کے کاموں کے لیے بڑی بڑی جائیدادیں وقف کیں، جن کے ذریعے مذہب و ملت کی تفریق کے بغیر عام انسانوں کی خدمت اور راحت رسانی کے مختلف ذرائع فراہم ہوئے۔
تعلیمی و علمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے مختلف ادوار میں مکاتب، مدارس، کتب خانے اور علمی مراکز قائم کیے۔ دینی تعلیم کے میدان میں دارالعلوم دیوبند کی تاسیس ہوئی، جس کے بعد مظاہر علوم سہارنپور، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دیگر تعلیمی ادارے وجود میں آئے۔ ان اداروں نے مسلمانوں کی مذہبی وابستگی اور تہذیبی تشخص کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے جدید تعلیم کے میدان میں سرسید احمد خاں (م 1898ء) کی تحریک کو بھی ایک اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کارنامہ صرف ایک کالج کا قیام نہیں تھا، بلکہ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے جدید علوم کی ضرورت کو پوری قوت کے ساتھ پیش کیا اور ان میں سائنسی ذہن، جدید تعلیم اور تحقیقی مزاج پیدا کرنے کی کوشش کی۔
محمد رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ موجودہ ہندوستانی ماحول میں علوم و فنون اور تہذیب کے ارتقا میں ہندوستانی مسلمانوں کے کردار کو تاریخی شواہد کی بنیاد پر اجاگر کرنا ایک اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کی جانب سے اس موضوع پر کانفرنس کے انعقاد کو اسی ضرورت کا احساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ گزشتہ صدی کے نصف آخر سے، اور بالخصوص 1981ء میں نئی تشکیل شدہ صورت کے بعد، خاموشی کے ساتھ علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قرب و جوار میں قائم ہونے کی وجہ سے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کو یہاں کے اہلِ علم سے استفادہ کے بھرپور مواقع حاصل رہے ہیں۔ موجودہ کانفرنس میں بھی یونیورسٹی کے اساتذہ کی سرگرم شرکت کے علاوہ دیگر اہلِ علم نے اپنے تحقیقی مقالات ارسال کیے ہیں اور کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں پیش کیے جانے والے تحقیقی مقالات ہندوستانی مسلمانوں کے علمی و تہذیبی کردار کے مختلف پہلوؤں کو مستند شواہد کے ساتھ سامنے لانے اور ہندوستان کی تاریخ کو زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے میں معاون ثابت ہوں گے۔









آپ کا تبصرہ