بدھ 15 جولائی 2026 - 02:01
ایران اور ہندوستان کے تاریخی تعلقات کو علمی، ثقافتی اور تعلیمی تعاون کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جائے گا

حوزہ/ ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ، حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات محض سیاسی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور روحانی رشتوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نمائندگی کا دفتر ہندوستان کے آئین اور قوانین کا مکمل احترام کرتے ہوئے صرف علمی، ثقافتی اور دینی شعبوں میں سرگرم رہے گا، داخلی سیاسی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ، حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات محض سیاسی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور روحانی بنیادوں پر استوار ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہیں گی۔

انہوں نے ایک علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک عظیم تہذیب، قدیم تاریخ اور علمی و ثقافتی سرمایہ رکھنے والا ملک ہے، جبکہ ایران بھی ایک قدیم تمدن کا حامل ملک ہے۔ دونوں قوموں نے صدیوں تک علم، فلسفہ، ادب، عرفان، تجارت اور ثقافت کے میدان میں ایک دوسرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فارسی زبان طویل عرصے تک ہندوستان میں علم و ادب کی زبان رہی اور اس مشترکہ ورثے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات وقتی یا حالات کے تابع نہیں بلکہ تاریخی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہیں، اس لیے انہیں آئندہ نسلوں تک محفوظ اور مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ کے دفتر کی بنیادی ذمہ داری دونوں ممالک کے درمیان علمی، ثقافتی، تعلیمی اور روحانی روابط کو فروغ دینا، باہمی ہم آہنگی کو مستحکم کرنا اور دوستی کے رشتوں کو مزید وسعت دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے اقتصادی، سیاسی، علمی، تعلیمی، تحقیقی، ثقافتی اور جامعاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ یونیورسٹیوں، حوزات علمیہ، تحقیقی مراکز، ثقافتی اداروں اور دانشوروں کے درمیان روابط کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ کا دفتر ملک کے داخلی معاملات یا سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔ یہ دفتر ہندوستان کے آئین، قوانین، قومی خودمختاری اور ریاستی اداروں کا مکمل احترام کرتا ہے اور اپنی تمام سرگرمیاں قانونی دائرے میں انجام دے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دفتر ہندوستانی حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر امن، سلامتی، بین المذاہب ہم آہنگی، علمی و ثقافتی تعاون، اخلاقی اقدار کے فروغ اور خاندانی نظام کے استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ دفتر کی ایک اہم ذمہ داری ہندوستانی عوام کے سامنے اسلامی جمہوریہ ایران کا حقیقی اور مثبت تعارف پیش کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک قدیم تہذیب، علمی ترقی، متحرک جامعات، مضبوط اقتصادی صلاحیتوں اور ثقافتی ورثے کا حامل ملک ہے، جس کی درست تصویر ہندوستانی معاشرے تک پہنچائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ایران کو ہندوستان میں متعارف کرانا ضروری ہے، اسی طرح ہندوستان کی تہذیبی، ثقافتی، سائنسی، اقتصادی اور انسانی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی، تعلیم، طب، صنعت، جمہوری نظام اور بین المذاہب ہم آہنگی کی کامیابیوں کو بھی ایرانی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، سیاحت، علمی تبادلوں اور ثقافتی روابط میں اضافہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ نمائندۂ ولی فقیہ کا دفتر ایران اور ہندوستان کے درمیان ایک ثقافتی اور تہذیبی پل کا کردار ادا کرے گا، جس کا مقصد باہمی اعتماد، دوستانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق دونوں قومیں ایک دوسرے کو جتنا بہتر سمجھیں گی، تعاون اور ترقی کے نئے مواقع اتنے ہی زیادہ پیدا ہوں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی دنیا کو تصادم کے بجائے مکالمے، باہمی احترام، انصاف، تعاون اور پرامن بقائے باہمی کی ضرورت ہے۔ اسی سوچ کے تحت دفتر تمام مذاہب، مکاتب فکر اور اقوام کے درمیان گفت و شنید، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور ہندوستان ایشیا کی دو بڑی اور مؤثر تہذیبی طاقتیں ہیں، جن کے پاس بے پناہ انسانی، سائنسی، ثقافتی، اقتصادی اور روحانی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر ان صلاحیتوں کو باہمی تعاون اور احترام کی بنیاد پر بروئے کار لایا جائے تو دونوں ممالک خطے اور دنیا میں امن، استحکام، انصاف اور پائیدار ترقی کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ کا دفتر ملک کے آئین اور قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہوئے حکومت، یونیورسٹی، علمی، ثقافتی اور دینی اداروں کے تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، باہمی اعتماد بڑھانے اور ایران و ہندوستان کی دیرینہ دوستی کو فروغ دینے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

آخر میں حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے حکومتِ ہند، علمی و ثقافتی شخصیات، مذہبی رہنماؤں، جامعات، دانشوروں اور ہندوستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایران اور ہندوستان کے عوام کو امن، ترقی، عزت، خوشحالی اور باہمی دوستی کی راہ پر ہمیشہ کامیاب و کامران رکھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha