منگل 12 مئی 2026 - 14:32
حوزہ علمیہ قم شیعہ کے عظیم علمی سرمائے کا وارث ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ قم اپنے ہزار سالہ علمی ذخیرے کے ساتھ آج فقہ میں بتدریج ترقی سے بڑھ کر توقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ فقہ کو جدید زندگی کے پیچیدہ اور بے مثال مظاہر کا جواب دینا ہے نیز شریعت کے انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں پر وسیع تر نقطہ نظر پیش کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حوزہ کے موجودہ طریقہ کار میں دو نکات کی اصلاح ضروری ہے: طویل اور قابل اعتراض متن خوانی کے دورانیے کو کم کرنا اور نظام اسلامی سے پیدا ہونے والی فقہی ترجیحات جیسے حکمرانی، عدالت اور ریاست و عوام کے درمیان تعلقات پر سنجیدگی سے توجہ دینا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ذیل کا متن شہید رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا حوزہ علمیہ قم کی صد سالہ تاسیس کی بین الاقوامی کانفرنس کے لیے بھیجے گئے پیغام سے ماخوذ ہے جو حوزہ نیوز کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

حوزہ علمیہ قم شیعہ کے عظیم علمی سرمائے کا وارث ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا بے مثال ذخیرہ، ہزار سال کے دوران فقہ، کلام، فلسفہ، تفسیر اور حدیث جیسے علوم میں ہزاروں دینی علماء کی فکری و تحقیقی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

حالیہ صدیوں میں قدرتی علوم کی دریافتوں سے پہلے، شیعہ حوزات علمیہ دیگر علوم کے لیے بھی میدان تھے لیکن تمام ادوار میں حوزاتِ علمیہ میں بحث و تحقیق کا مرکزی محور فقہ رہا ہے اور اس کے بعد کلام، فلسفہ اور حدیث کا نمبر آتا ہے۔

شیخ طوسی سے لے کر محقق حلی تک، وہاں سے شہید اول تک، وہاں سے محقق اردبیلی تک اور وہاں سے شیخ انصاری تک اور پھر موجودہ دور تک فقہ کی بتدریج ترقی اہل فن کے لیے قابل احساس ہے۔

فقہ میں ترقی کا معیار موجودہ علمی سرمائے میں اضافہ ہے یعنی عالی علمی تخلیقات اور علمی سطح اور نئی دریافتوں میں بلندی۔ لیکن آج، معاصر ادوار میں خاص طور پر پچھلی صدی میں تیز اور شدید فکری و عملی تبدیلیوں کے پیش نظر حوزہ کی علمی ترقی کے بارے میں اس سے بڑھ کر توقعات کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

طلبہ کے متن خوانی کا دورانیہ ایک قابل اعتراض طریقے سے گزارا جاتا ہے۔ طالب علم مجبور ہے کہ کسی بڑے عالم کی ضخیم اور محققانہ کتاب کو بطور درسی کتاب پڑھے۔ یہ کتاب درحقیقت اس مرحلے سے متعلق ہے جب وہ اجتہادی تحقیق کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے اور اسے اس مرحلے سے پہلے سونپنے کا واحد اثر متن خوانی کے وقت کو طول دینا ہے۔ درسی کتاب میں ایسا مادہ اور ایسی زبان ہونی چاہیے جو طالب علم کے لیے تحقیق کے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے کے محدود دور کے لیے مناسب ہو۔

بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ بعض علمی مہارتیں جو عمومی طور پر شرعی حکم تک پہنچنے کے لیے آلہ اور مقدماتی حیثیت رکھتی ہیں یا بعض فقہی و اصولی موضوعات جو ترجیحات سے باہر ہیں، فقیہ اور محقق کو اپنی دلکش شیرینی میں اس قدر غرق کر دیتی ہیں کہ ان کے ذہن کو مکمل طور پر ان اہم اور اولین مسائل سے ہٹا دیتی ہیں اور انمول مواقع اور انسانی و مالی سرمایوں کو اس طرح ضائع کر دیتی ہیں کہ اس سے کفر کے حملے کے اس گرداب میں اسلامی طرز زندگی کی تبیین اور معاشرے کی ہدایت میں کوئی مدد نہیں پہنچتی۔

اگر علمی کام کا مقصد علم و فضل کا اظہار، علمی شہرت اور فاضل بننے کی دوڑ ہو تو یہ دنیا پرستانہ فعل اور "اتَّخَذَ إلٰهَهُ هَوَاهُ" کا مصداق قرار پائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha