حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام باڑہ گلشن باغ اپر سرینگر میں انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کی جانب سے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع سرینگر کی انجمنِ شرعی کے اراکین و عاملین کے ساتھ ساتھ نوحہ خوان حضرات، دائرہ حسینی کی انتظامیہ کمیٹیوں، ضلعی و زونل کمیٹیوں کے عہدیداران اور ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد ماہ محرم الحرام کے سلسلے میں مرتب کردہ تفصیلی ایجنڈا حاضرین کے سامنے پیش کیا گیا۔
ایجنڈے میں مجالس و جلوس ہائے عزاء کے انتظام و انصرام، نظم و ضبط، صفائی و ستھرائی، ٹریفک نظم، وقت کی پابندی، عزاداروں کی سہولیات، سماجی ذمہ داریوں اور تنظیمی امور سمیت مختلف اہم نکات شامل تھے جن پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں مختلف مقررین، ضلعی و زونل کمیٹیوں کے عہدیداران اور ذمہ داران نے خطاب کرتے ہوئے ماہ محرم الحرام کے انتظامات، درپیش مسائل اور ان کے حل سے متعلق اپنے قیمتی خیالات اور تجاویز پیش کیں، جنہوں نے اجلاس کو مزید مؤثر اور بامقصد بنایا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے تمام کارکنان، نوحہ خوان اور عزاداروں کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ ماہ محرم الحرام نہ صرف عبادت اور عقیدت کا مہینہ ہے، بلکہ یہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور باہمی اتحاد، نظم و نسق اور دینی شعور کے ساتھ معاشرے میں مثالی کردار ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام عزادار، انتظامی کمیٹیاں، نوحہ خوان اور انجمن کے کارکنان مجالس اور جلوس ہائے عزاء کے دوران نظم و نسق کو اولین ترجیح بنائیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے اس عظیم ایام عزا کو بہتر اور منظم انداز میں منانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عزاداری صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایک زندہ تحریک ہے جسے آئمہ معصومینؑ نے ہمیں امانت کے طور پر سونپا ہے اور اسے اخلاص، اتحاد، باہمی تعاون اور تنظیمی ہم آہنگی کے ساتھ جاری رکھنا ہماری شرعی، اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے متفقہ طور پر اُن سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا جن راستوں سے ماہ محرم الحرام کے دوران جلوس ہائے عزا گزرتے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ متعلقہ سرکاری محکمے اور حکام ان راستوں سے بخوبی واقف ہیں اور ہر سال انہی شاہراہوں اور سڑکوں سے عزاداری کے بڑے اجتماعات اور جلوس ہائے عزا برآمد ہوتے ہیں، اس کے باوجود متعدد مقامات پر سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ اور ناقابل اطمینان ہے، جس سے عزاداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اجلاس میں اُن نوجوانوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز اور عائد کیے گئے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مقدمات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا جو شہید رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت پر سوگ، عزاداری اور پُرامن احتجاج میں شریک تھے۔

مقررین نے کہا کہ اپنے مذہبی جذبات، غم و اندوہ اور پُرامن جمہوری حق اظہار کا مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں نہ صرف افسوسناک ہیں، بلکہ انصاف کے تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان نوجوانوں کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز اور نافذ کیے گئے پی ایس اے احکامات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور زیر حراست افراد کی بلا تاخیر رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس نے عوام، مذہبی تنظیموں، سماجی اداروں اور تمام انصاف پسند طبقات سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ان نوجوانوں کے حق میں آواز بلند کریں اور ان کے خلاف عائد تمام مقدمات اور پی ایس اے کارروائیوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور شہریوں کے مذہبی و جمہوری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں متعلقہ حکام اور محکمہ جات سے مطالبہ کیا کہ محرم الحرام کی آمد سے قبل ان سڑکوں اور راستوں کی فوری مرمت، صفائی اور ضروری بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عزاداران امام حسینؑ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور مذہبی اجتماعات پُرامن اور منظم ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ ماہ محرم الحرام کے دوران عزاداری کے جملہ پروگراموں کو پُرامن، باوقار، منظم اور حسینی تعلیمات کے شایان شان انداز میں انجام دیا جائے گا اور انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام تمام سرگرمیوں کو مکمل نظم و ضبط اور باہمی تعاون کے ساتھ کامیاب بنایا جائے گا۔










آپ کا تبصرہ