حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ محمد تقی مصباح یزدی نے کہا ہے کہ شیطان ہمیشہ گناہ کے ذریعے ہی انسان کو گمراہ نہیں کرتا، بلکہ بعض اوقات حلال اور مستحب کاموں کے ذریعے بھی انسان کو اس کی اصل اور اہم ذمہ داریوں سے دور کر دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر زمانے میں اپنے حقیقی فریضے کو پہچانے اور شیطانی فریب سے ہوشیار رہے۔
علامہ مصباح یزدی نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے زمانے کا شیطان کون سا جال بچھا رہا ہے اور کس راستے سے اسے اس کے فرائض سے غافل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات شیطان انسان کو بہتر معاشی سہولیات اور آرام دہ زندگی کا لالچ دیتا ہے۔ بظاہر یہ سب حلال امور ہوتے ہیں، لیکن اگر یہی چیزیں کسی اہم دینی یا سماجی فریضے کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو ان کی حیثیت بدل جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ذمہ داری معاشرے کی رہنمائی، نوجوانوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ اور حق کی تبلیغ ہو، تو صرف ذاتی مفادات کے پیچھے جانا ایک اہم فریضے کو ترک کرنے کے مترادف ہوگا۔
مرحوم مصباح یزدی نے کہا کہ شیطان کا ایک اور فریب یہ ہے کہ وہ انسان کو سماجی اور اجتماعی ذمہ داریوں سے دور رکھنے کے لیے عبادت کے نام پر بہکاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نماز پڑھو، قرآن کی تلاوت کرو، زیارت کرو اور معاشرتی مسائل یا امت کے اہم معاملات سے دور رہو، جبکہ بعض مواقع پر حق کے دفاع، اصلاحِ معاشرہ اور جدوجہد بھی شرعی اور واجب ذمہ داری بن جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مستحب عمل کے مقابلے میں ایک اہم واجب فریضہ موجود ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں واجب کو چھوڑ کر مستحب میں مشغول ہو جانا درست نہیں۔ شیطان اسی نکتے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ آخرت کے کام میں مشغول ہے، حالانکہ وہ ایک اہم دینی ذمہ داری سے غفلت برت رہا ہوتا ہے۔
علامہ مصباح یزدی کے مطابق شیطان ہر شخص کے حالات اور مزاج کے مطابق اس کے لیے الگ جال تیار کرتا ہے، اس لیے مؤمن کو ہمیشہ بصیرت، شعور اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض کا تعین کرنا چاہیے تاکہ وہ حقیقی معنوں میں دین اور معاشرے کی خدمت انجام دے سکے۔









آپ کا تبصرہ