پیر 23 فروری 2026 - 07:37
ضیافتِ علوی | حقیقی تقرّب واجبات کے راستے سے گزرتا ہے

حوزہ / تقرّب کا صحیح راستہ یہ ہے کہ پہلے واجبات کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے، پھر نوافل کے ذریعے روحانی کمال حاصل کیا جائے۔ یہی حکمتِ علوی کا پیغام ہے اور یہی بندگی کا متوازن راستہ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان حکمت و بصیرتِ علوی کے بے مثال خزانے سے آشنائی کا سنہرا موقع ہے۔ خصوصی سلسلہ "ضیافتِ علوی" میں نہج البلاغہ کی منتخب حکمتوں کو حجۃ الاسلام والمسلمین جواد محدثی، ماہرِ نہج البلاغہ، کی توضیحات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ آپ اہلِ علم و فکر افطار کی ساعتوں میں اس روحانی دسترخوان سے فیض یاب ہو سکیں۔

نهج البلاغه کی حکمت نمبر 39 میں امام علی ارشاد فرماتے ہیں: «لَا قُرْبَةَ بِالنَّوَافِلِ إِذَا أَضَرَّتْ بِالْفَرَائِضِ»

یعنی: جب نوافل (مستحبات) واجبات کو نقصان پہنچائیں تو ان کے ذریعے خدا کا تقرّب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

وضاحت: نوافل (نافله کی جمع) اُن اعمال کو کہا جاتا ہے جو واجب عبادات کے علاوہ انجام دیے جاتے ہیں؛ جیسے مستحب عبادات، صدقات، دیگر نیکی کے کام وغیرہ۔ یقیناً نوافل اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

لیکن بنیادی معیار ترتیب اور ترجیح ہے: پہلے واجبات، پھر مستحبات۔

ایک اہم نکتہ

یہ بات ایک مشہور حدیثِ قدسی کے ساتھ مل کر سمجھی جانی چاہیے جس میں ارشاد ہوتا ہے:

«... و لا یزال العبد یتقرب إلیّ بالنوافل حتی أُحبه...»

(میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں…)

پس ایک طرف نوافل قربِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہیں، یہاں تک کہ روایات میں آیا ہے کہ وہ واجبات کی کمی کو بھی پورا کر دیتے ہیں؛ لیکن دوسری طرف امام علیؑ کی یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ راستہ اسی وقت صحیح اور بامعنی ہے جب واجبات محفوظ رہیں۔

امام علیؑ کی رہنمائی

اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اصل اور فرع میں فرق پہچانیں۔

مستحبات عبادت کی تکمیل کرتے ہیں، مگر انہیں کبھی بھی واجبات میں کوتاہی یا نقصان کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

حقیقی تقرّب یہ ہے کہ پہلے واجبات کو مکمل طور پر ادا کیا جائے، پھر نوافل کے ذریعے روحانی ترقی حاصل کی جائے۔

ایک عملی مثال

محرم میں سیدالشہداءؑ کی عزاداری یا اربعین کی مجالس میں شرکت نہایت فضیلت والا اور باعثِ اجر عمل ہے۔ لیکن اگر یہی مستحب عمل اس طرح انجام دیا جائے کہ نمازِ فجر قضا ہو جائے یا سستی و بے دلی کے ساتھ ادا کی جائے، تو درحقیقت مستحب نے واجب کو نقصان پہنچایا۔ ایسی صورت میں یہ عمل انسان کو خدا کے قریب کرنے کے بجائے عبادت کے راستے میں انحراف کی علامت بن سکتا ہے۔

اسی مفہوم کو نهج البلاغه کی حکمت نمبر 271 میں یوں بیان کیا گیا ہے: «إِذَا أَضَرَّتِ النَّوَافِلُ بِالْفَرَائِضِ فَارْفُضُوهَا»

(جب نوافل واجبات کو نقصان پہنچائیں تو انہیں چھوڑ دو۔)

یہ ایک واضح حکم ہے کہ جب مستحب اور واجب میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو مستحب کو ترک کر دینا چاہیے۔

اعتدال اور گہرائی کی ضرورت

اگر ہم دین کے ظاہری پہلوؤں میں حد سے زیادہ الجھ جائیں اور اس افراط کی وجہ سے دین کی اصل روح سے دور ہو جائیں، یہاں تک کہ واجبات بھی صحیح طور پر ادا نہ کر سکیں، تو ایسا طرزِ عمل ہرگز قربِ الٰہی کا ذریعہ نہیں بنتا۔

ہم ہر عبادت میں نیت کرتے ہیں: "قربةً إلی اللہ" — یعنی اللہ کی قربت کے لیے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے واجبات کو بنیادی اور لازمی ذمہ داری کے طور پر مقرر کیا ہے، جن کے ترک کی کوئی گنجائش نہیں۔

لہٰذا اگر مستحبات میں مشغولیت واجبات سے غفلت کا سبب بن جائے تو مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اور رضائے الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی۔

خلاصہ : تقرّب کا صحیح راستہ یہ ہے کہ پہلے واجبات کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے، پھر نوافل کے ذریعے روحانی کمال حاصل کیا جائے۔ یہی حکمتِ علوی کا پیغام ہے اور یہی بندگی کا متوازن راستہ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha