حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان حکمت اور بصیرتِ علوی کے بے مثال خزانے سے آشنائی کا سنہری موقع ہے۔ خصوصی سلسلہ "ضیافتِ علوی" میں نہج البلاغہ کے منتخب خطبات کے اقتباسات کے ساتھ، حجۃ الاسلام والمسلمین محمود لطیفی (ماہرِ نہج البلاغہ) کی گفتگو پیش کی جائے گی، تاکہ آپ اہلِ دانش کی افطار کی محفلیں علمی و معنوی نور سے منور ہوں۔
نہج البلاغہ؛ حکمت و بصیرت کا سرچشمہ
ماہِ رمضان، نہج البلاغہ سے شناسائی کا بہترین موقع ہے۔ یہ حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، خطوط اور حکمت آمیز اقوال کا ایسا عظیم ذخیرہ ہے جس میں بلاغت، معرفت، اخلاق اور عدالت اپنے اعلیٰ ترین درجے میں جلوہ گر ہیں۔
آج کی بحث کا موضوع ہے: سیاستِ علوی (منسوب بہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام) اور سیاستِ اموی (بنی امیہ سے متعلق) کا تقابلی جائزہ۔
اس گفتگو کے نکات نہج البلاغہ اور بعض احادیث کی روشنی میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
شہید صدر کی وضاحت
محمد باقر صدر نے اپنی تحریر «اہل البیتؑ تنوع الادوار و وحدة الهدف» میں لکھا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام نے مختلف زمانوں میں مختلف طریقے اختیار کیے، لیکن ان کا ہدف ہمیشہ ایک رہا۔ طریقوں میں تنوع تھا، مگر مقصد میں وحدت موجود تھی۔ یہی نکتہ اس بحث کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
سیاستِ علوی اور سیاستِ اموی کا بنیادی فرق
اس فرق کو دو قسم کے سیاسی اخلاق میں سمیٹا جا سکتا ہے:
۱ سیاستِ علوی: صراحت اور صداقت کا اخلاق
یہ سیاست سچائی، شفافیت اور اصولی استقامت پر قائم ہے۔ حکومت مستقل اخلاقی اصولوں کے مطابق چلائی جاتی ہے۔ عدل اور حق ہر فیصلے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اس طرز میں عوامی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے۔
۲ سیاستِ اموی: بازاری پن اور سودے بازی کا اخلاق
یہ سیاست تجارت کی مانند ہے۔ اس کی بنیاد مصلحت اندیشی، موقع پرستی اور لین دین پر ہے۔ فیصلوں کا محور ذاتی یا گروہی فائدہ ہوتا ہے۔ اخلاقی اصول مستقل نہیں ہوتے بلکہ حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں۔ اصل مقصد اقتدار کا تحفظ اور اضافہ ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ:
سیاستِ علوی اصولوں کی پابند رہتی ہے، چاہے اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو؛
جبکہ سیاستِ اموی مفاد کی پابند ہوتی ہے، چاہے اصول پامال ہو جائیں۔
صدرِ اسلام کی تاریخ، خصوصاً حضرت امیر علیہ السلام کے مخالفین کے ساتھ مختلف ادوار میں برتاؤ اور سیاسی حکمتِ عملی کا مطالعہ کرنے سے یہ دونوں طرزِ سیاست واضح طور پر سامنے آ جاتے ہیں۔
دینی سیاست کا اصل مقصد کیا ہے؟
بسا اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاست دان کا ہدف اقتدار اور منصب حاصل کرنا ہے، اور اس کے بعد وہ معاشرے کی کچھ خدمت بھی کر لیتا ہے۔
لیکن حضرت امیر علیہ السلام کے کلام سے ایک بلند تر تصور سامنے آتا ہے۔ آپ ایک خطبے میں فرماتے ہیں:
فَبَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّداً (صلی الله علیه وآله) بِالْحَقِّ لِیُخْرِجَ عِبَادَهُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ إِلَی عِبَادَتِهِ
وَ مِنْ طَاعَةِ الشَّیْطَانِ إِلَی طَاعَتِهِ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے محمد (ص) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ وہ بندوں کو بتوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف لائیں، اور شیطان کی اطاعت سے ہٹا کر خدا کی اطاعت میں لے آئیں۔
یعنی دین کا اصل ہدف انسان کو غیرِ خدا کی غلامی سے نکال کر خدا کی بندگی تک پہنچانا ہے۔
علامہ طباطبائی کی تشریح
علامہ طباطبائی کے مطابق، انبیائے کرام اور مشرکین کے درمیان بنیادی نزاع یہی تھا۔ مشرکین آسمانوں کے خدا کو مانتے تھے، مگر ایسے خدا کو قبول نہیں کرتے تھے جو ان کی زندگی کا مدیر، قانون ساز اور حاکم بنے۔
وہ چاہتے تھے کہ اپنے فیصلے خود کریں، اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں اور کوئی ان پر حاکم نہ ہو۔ اسی لیے وہ کہتے تھے کہ ہم آسمان کے خدا کو مانتے ہیں، لیکن ایسے رب کو نہیں مانتے جو ہماری زندگی میں تدبیر اور حاکمیت رکھتا ہو۔ حقیقت میں وہ بت، ان کے قبائلی سرداروں اور اشرافیہ کے نمائندے تھے، جو اقتدار اور نظم و نسق سنبھالتے تھے۔
بنیادی اختلاف
یہی اصل اور بنیادی فرق ہے جو سیاستِ علوی اور سیاستِ اموی کے درمیان پایا جاتا ہے۔
سیاستِ علوی کا مقصد انسان کو خدا کی اطاعت کے نظام میں لانا ہے، جبکہ سیاستِ اموی کا مقصد اقتدار کو اصل قرار دینا اور دین کو وسیلہ بنانا ہے۔
یہ ایک کلی اور بنیادی اصول ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ گفتگوؤں میں نہج البلاغہ کے مختلف خطبات اور حضرت امیر علیہ السلام کی عملی سیرت کی روشنی میں ان دونوں طرزِ سیاست کے مزید مظاہر پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔









آپ کا تبصرہ