اتوار 8 مارچ 2026 - 04:14
ضیافتِ علوی | سیاستِ علوی میں حاکم کا عوام کی غربت اور دکھ درد کو محسوس کرنا

حوزہ/ نہج البلاغہ کے اس خطبے میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ حکمران کو چاہیے کہ وہ بھوکوں کے ساتھ بھوکا رہے، تاکہ وہ ان کے درد اور تکلیف کو قریب سے محسوس کر سکے۔ یہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا ایسا ابدی پیغام ہے جو پوری تاریخ کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ طرزِ فکر اموی اور استکباری حکمرانی کے انداز کے بالکل برعکس ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان کے موقع پر ہم آپ معزز قارئین کی خدمت میں نہج البلاغہ کے خطبات کے بعض حصے پیش کر رہے ہیں، جن کی تشریح حجۃ الاسلام والمسلمین محمود لطیفی نے کی ہے۔

اسلامی اور علوی سیاست کا غیر اسلامی اور اموی سیاست سے ایک بنیادی اور نمایاں فرق یہ ہے کہ علوی سیاست میں حاکم کو عوام کے دکھ درد اور مشکلات کے ساتھ شریک ہونا چاہیے۔ اسلام کی نظر میں حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو عوام کے ساتھ رکھے اور ان کے دکھ سکھ کو محسوس کرے۔

حکومتی ذمہ داران اور پارلیمنٹ کے نمائندوں کو بھی ایسے افراد میں سے منتخب ہونا چاہیے جو محروم اور مصیبت زدہ طبقات سے تعلق رکھتے ہوں۔ کیونکہ جن لوگوں نے خود سختیوں اور مشکلات کا تجربہ کیا ہوتا ہے وہ عوام کے درد کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے زیادہ اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ کوشش کرتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ سیاست جو استکباری فکر سے جنم لیتی ہے، عوام کے دکھ درد سے بے خبری پر قائم ہوتی ہے۔ اس سوچ کے مطابق سیاستدان ایسے لوگوں میں سے منتخب کیے جاتے ہیں جو ہمیشہ آسائش، سرمایہ اور عیش و عشرت میں زندگی گزارتے رہے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے آرام و آسائش کی زندگی گزاری ہو، جبکہ ان کی عوام غربت اور تنگدستی میں مبتلا ہوں۔

حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے عثمان بن حنیف کے نام اپنے مشہور خط میں اس سوچ پر نہایت خوبصورت انداز میں تنقید کرتے ہوئے فرمایا:أَ أَقْنَعُ مِنْ نَفْسِی بِأَنْ یُقَالَ هَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ، وَلَا أُشَارِکُهُمْ فِی مَکَارِهِ الدَّهْرِ، أَوْ أَکُونَ أُسْوَةً لَهُمْ فِی جُشُوبَةِ الْعَیْشِ؟!

“کیا میں اس بات پر راضی ہو جاؤں کہ مجھے امیر المؤمنین کہا جائے اور اسلامی معاشرے کا سربراہ سمجھا جاؤں، مگر زندگی کی سختیوں میں لوگوں کے ساتھ شریک نہ ہوں اور ان کے دکھ درد میں ان کا ساتھی نہ بنوں؟”

شیعہ روایات میں بھی اس واقعے سے متعلق ایک اور بات نقل ہوئی ہے۔ عثمان بن حنیف کا ایک بھائی تھا جو نہایت عبادت گزار اور پرہیزگار انسان تھا۔ اس نے یہ سمجھ کر کہ یہی بہترین راستہ ہے، دنیاوی زندگی کو ترک کر دیا اور صرف عبادت میں مشغول ہو گیا۔ عثمان بن حنیف نے اس کی شکایت حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے کی۔

حضرت نے اسے بلایا اور فرمایا: “کیا تم اپنے آپ کے دشمن بن گئے ہو؟ تم نے زندگی کو کیوں چھوڑ دیا؟ اپنے گھر، بیوی اور بچوں کو کس لیے ترک کر دیا؟”

اس شخص نے عرض کیا: “میں نے آپ کو اپنا نمونہ بنایا ہے، آپ بھی تو اسی طرح زندگی گزارتے ہیں۔”

یہ سن کر حضرت کو ناگواری ہوئی اور فرمایا: “میری ذمہ داری تم سے مختلف ہے۔ میں اسلامی معاشرے کا امام اور حاکم ہوں، اس لیے مجھے چاہیے کہ میں خود کو غریبوں کے برابر رکھوں اور ان کے ساتھ زندگی گزاروں تاکہ ان کی غربت اور بھوک کا دباؤ کم ہو۔ میری ذمہ داری تم سے الگ ہے؛ یہ ایک حاکمِ اسلامی کی ذمہ داری ہے۔”

کیا یہ مناسب ہے کہ میں ریاست کے منصب پر فائز ہو جاؤں اور میرا نام اسلامی معاشرے کے سربراہ کے طور پر لیا جائے، لیکن میں عوام کے ساتھ نہ رہوں اور زندگی کی مشکلات میں ان کے لیے نمونہ اور رہنما نہ بنوں؟

یہ بھی ایک مثال ہے جو علوی سیاست اور اموی سیاست کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔

راوی بیان کرتا ہے: میں ایک دن معاویہ کے پاس گیا۔ اس نے مجھے اپنے دسترخوان پر کھانے کی دعوت دی۔ میں بیٹھ گیا تو طرح طرح کے عجیب و غریب اور قیمتی کھانے لائے گئے جو ہمارے لیے بالکل اجنبی تھے۔ جب میں نے وہ رنگین اور پُرتعیش دسترخوان دیکھا تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ معاویہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟

میں نے کہا: ایک دن میں حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی۔ جب دسترخوان بچھایا گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک تھیلی میں نان رکھا ہوا ہے جس کا منہ بند اور مہر بند کیا گیا تھا۔

میں نے عرض کیا: یا علی! کیا آپ کو خوف ہے کہ کوئی اس نان کو اٹھا لے گا؟ یا آپ بخل کر رہے ہیں کہ کوئی اور اسے نہ کھا لے؟

حضرت نے فرمایا: “نہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں حسن اور حسین علیہما السلام اس میں کوئی اور چیز شامل نہ کر دیں۔”

جب کھانا لایا گیا تو وہ خشک روٹی تھی اور اس کے ساتھ کھٹا دوغ تھا جس کی کھٹاس کی بو دور سے محسوس ہو رہی تھی۔ یہ تھا علی بن ابی طالب علیہ السلام کا کھانا، اور وہ تھا معاویہ کا پُرتعیش دسترخوان۔

یہی ہے ان دو سیاستوں کے درمیان فرق؛ ایک وہ سیاست جو عوام کے درد اور مشکلات میں شریک ہوتی ہے اور دوسری وہ جو ان کے دکھوں میں اضافہ کرتی ہے۔

آج بھی بعض مقامات پر ایسے پُرتعیش دسترخوانوں کی تصاویر کھینچی جاتی ہیں اور فخر کے ساتھ نشر کی جاتی ہیں تاکہ بتایا جائے کہ فلاں ذمہ دار کے گھر، اس کے ادارے اور اس کے بچوں کی زندگی کس قدر آسائش میں گزر رہی ہے۔

جبکہ دوسری طرف غریب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اپنے بچوں کے پاس اسکول جانے کے لیے روزانہ جیب خرچ تک موجود نہیں ہوتا کہ وہ اسکول میں کوئی معمولی چیز خرید سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha