حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کے مطابق ماہِ مبارک رمضان ایک ایسا بابرکت موقع ہے جس میں انسان علوی حکمت و بصیرت کے بے مثال خزانے سے آشنائی حاصل کر سکتا ہے۔ خصوصی سلسلہ "ضیافتِ علوی" کے تحت ہم آپ اہلِ فکر و دانش کی افطار کی محفلوں میں نہج البلاغہ کے خطبات کے منتخب حصوں کے ساتھ حاضر ہوں گے، جن کی تشریح حجۃ الاسلام والمسلمین محمود لطیفی (ماہرِ نہج البلاغہ) بیان کریں گے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۰ میں فرماتے ہیں: «أَلاَ وَ إِنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ جَمَعَ حِزْبَهُ وَ اسْتَجْلَبَ خَیْلَهُ وَ رَجِلَهُ وَ إِنَّ مَعِی لَبَصِیرَتِی: مَا لَبَّسْتُ عَلَی نَفْسِی وَ لاَ لُبِّسَ عَلَیَّ"
"آگاہ رہو! شیطان نے اپنے تمام لشکر کو جمع کر لیا ہے، اپنے گھوڑ سوار اور پیادہ سپاہیوں کو بلا لیا ہے، لیکن میرے پاس میری بصیرت موجود ہے؛ نہ میں نے خود کو دھوکے میں ڈالا ہے اور نہ ہی کوئی مجھے دھوکے میں ڈال سکتا ہے۔"
سیاست کا راستہ انتہائی پھسلن بھرا راستہ ہے۔ شیطان اپنی مختلف وسوسوں اور دل فریب عنوانات کے ساتھ انسان کے سامنے آتا ہے اور اسے اقتدار، اختیار، قیادت اور فرمانروائی جیسے دلکش ناموں سے فریب دیتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ سب دراصل وسائل اور امانتیں ہیں، جو انسان کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتی ہیں۔
شیطان ماحول کو اس طرح کے نعروں اور مصروفیات سے آلودہ کر دیتا ہے کہ انسان اپنی ان قیمتی صلاحیتوں اور امکانات کو ایسے راستے میں خرچ کر دیتا ہے جس کا انجام صرف پشیمانی ہوتا ہے۔ پھر اچانک اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی اور معاشرے کی سعادت کے بجائے سراب کو منتخب کر لیا ہے اور طاقت کو خدا کے قانون اور حق کے مقابلے میں سرکشی کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اختیار اور قدرت کے باوجود خود اپنے اوپر سب سے بڑا ظلم ڈھا بیٹھتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: "خود کیے کا علاج نہیں ہوتا۔" یہ وہ ذلت کا گڑھا ہے جسے بہت سے طاقت ور لوگ اپنی آزادی اور اختیار کے باوجود خود اپنے لیے کھود لیتے ہیں۔
تو پھر کیا کرنا چاہیے؟
انسان کو یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی وسیلے کو حاصل کرنا بظاہر باعثِ فخر ہو سکتا ہے، لیکن ہر انتخاب قابلِ فخر نہیں ہوتا۔ انسان کو طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو کچھ اس کے ہاتھ آ جائے وہ سب درست اور حق ہو۔ لہٰذا طاقت اور آزادی جیسے قیمتی مواقع کو آسانی سے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اس انتخاب کے قیمتی موقع کو آنکھیں بند کر کے استعمال نہیں کرتا، بلکہ بصیرت کی آنکھ کھولتا ہوں تاکہ کوئی حقیقت مجھ پر مشتبہ نہ ہو جائے اور میں جیت کے موقع کو ہار میں تبدیل نہ کر بیٹھوں۔
یہ کلام دراصل جنگِ جمل کے پس منظر میں فرمایا گیا تھا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان نے ناکثین (عہد توڑنے والوں) کے لباس میں اپنے تمام وسائل اور طاقتوں کو میدان میں جمع کر دیا تھا۔
لیکن میں بھی ایسا شخص نہیں ہوں کہ بغیر سوچے سمجھے کوئی ردِعمل دکھاؤں یا بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھاؤں۔ وہ لوگ اپنے تمام حربے میدان میں لے آئے ہیں تاکہ میں کسی جلد بازی میں آ کر اپنے شرعی فریضے کے خلاف قدم اٹھا لوں، یا غلط راستہ اختیار کر لوں، یا افواہوں اور دوسروں کی تجاویز سے متاثر ہو کر کوئی غلط اقدام کر بیٹھوں۔
لیکن علی علیہ السلام ایسے نہیں ہیں کہ ان چیزوں کے جال میں پھنس جائیں۔
"اِنَّ مَعِیَ لَبَصِیرَتِی" میرے ساتھ میری بصیرت ہے؛ وہی بصیرت جو مجھے رسولِ خدا (ص) کی تربیت اور رہنمائی میں حاصل ہوئی۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:
"کہہ دو: میں اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں، میں بھی اور میرے پیروکار بھی۔"
«... ادعو الی الله علی بصیرة انا و من اتبعنی (سوره کهف آیه۱۰۴)»
انسان کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے نفس کے فریب اور اپنی غلط فہمیوں سے محفوظ رہے، تاکہ دوسروں کا دھوکہ اس پر اثر انداز نہ ہو سکے۔
اسی لیے امیرالمؤمنین فرماتے ہیں: "مَا لَبَّسْتُ عَلَی نَفْسِی وَ لَا لُبِّسَ عَلَیَّ"
یعنی میں نہ تو خود حقیقت کو اپنے اوپر مشتبہ ہونے دیتا ہوں اور نہ ہی دوسروں کو یہ موقع دیتا ہوں کہ وہ حقیقت کو میرے سامنے مشکوک بنا کر پیش کریں۔ میں نہ ظاہری چمک دمک سے دھوکہ کھاتا ہوں اور نہ نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتا ہوں۔ شاید اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نہ آج مجھے کوئی شک ہے اور نہ ہی رسولِ خدا (ص) کی پیشین گوئیوں نے مجھے کسی شبہے میں ڈالا ہے۔









آپ کا تبصرہ