منگل 10 مارچ 2026 - 17:40
ضیافتِ علوی | عمر سعد سے آج تک: وہ لوگ جنہوں نے دنیا کے لیے دین بیچ دیا اور انجام کار ناکام رہے۔

حوزہ/ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نہج البلاغہ کی حکمت نمبر 106 میں فرماتے ہیں کہ اگر انسان اپنی دنیاوی خواہشات اور مفادات کے حصول کے لیے اپنے دینی اصولوں اور اقدار کو نظر انداز کر دے تو ایسا سودا نہ صرف یہ کہ اس کی دنیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا، بلکہ اس دین فروشی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے اس سے بھی بڑا نقصان پہنچا دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان حکمت اور علوی بصیرت کی ایک بے مثال خزانے سے آشنائی کا بہترین موقع ہے۔ خصوصی سلسلہ «ضیافتِ علوی» میں نہج البلاغہ کی بعض حکمتوں کو حجۃ الاسلام والمسلمین جواد محدثی، ماہرِ نہج البلاغہ، کی تشریح کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ آپ اہلِ علم و دانش افطار کی ساعتوں میں ان معارف سے فیض یاب ہو سکیں۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کی حکمت نمبر 106 میں فرماتے ہیں:

وَ قَالَ (علیه السلام): لَا یَتْرُکُ النَّاسُ شَیْئاً مِنْ أَمْرِ دِینِهِمْ لِاسْتِصْلَاحِ دُنْیَاهُمْ، إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَیْهِمْ مَا هُوَ أَضَرُّ مِنْهُ

ترجمہ: حضرت علیؑ نے فرمایا: لوگ جب بھی اپنی دنیا کی اصلاح اور بہتری کے لیے اپنے دین کے کسی حصے کو چھوڑ دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان پر ایسی مصیبت یا نقصان کا دروازہ کھول دیتا ہے جو اس دین کو چھوڑنے سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔

اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایسے مواقع آتے ہیں جب وہ ایک دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے: آیا وہ اپنے دین کو ترجیح دے یا دنیاوی فائدوں کو۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ انسان کس چیز کو دوسری کے لیے قربان کرے؟

حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہم اکثر ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے قربان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر انسان بیمار ہو جائے تو اگرچہ اس کے لیے پیسہ قیمتی ہوتا ہے، لیکن صحت اس سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے وہ اپنی دولت خرچ کر دیتا ہے تاکہ علاج کروا کر صحت حاصل کر سکے۔

اصل سوال یہ ہے کہ دین کو ترجیح دی جائے یا دنیا کو؟

کیا ہم دنیا کو اپنے دین پر قربان کریں یا دین کو اپنی دنیا کے لیے قربان کر دیں؟

امیرالمؤمنینؑ کے کلام کا محور یہی ہے کہ بعض لوگ اپنی دنیا کی بہتری کے لیے اپنے دین کو قربان کر دیتے ہیں۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مالی حالت بہتر ہو، زندگی زیادہ آرام دہ ہو، اچھی آمدنی حاصل ہو، بڑا گھر ہو، قیمتی گاڑی ہو، بہتر کھانے پینے کی چیزیں ہوں اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل ہو۔

اس مقصد کے لیے وہ اپنے دین سے سمجھوتہ کرتے ہیں۔ گویا وہ دین کو بیچ کر دنیا کو آباد کرنا چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ صرف ان کا دین تباہ ہو جاتا ہے بلکہ دنیا میں بھی ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

لہٰذا جب انسان دین اور دنیا کے درمیان دوراہے پر کھڑا ہو تو اسے چاہیے کہ دین کو ترجیح دے اور اگر قربانی دینی پڑے تو دنیا کی دے، تاکہ اس کا دین محفوظ رہ سکے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی اپنے دشمنوں کے بارے میں ایک موقع پر فرمایا:

إنَّ الناسَ عَبیدُ الدُّنیا و الدِّینُ لَعقٌ علی ألسِنَتِهِم یَحوطُونَهُ ما دَرَّت مَعائشُهُم، فإذا مُحِّصُوا بالبلاءِ قَلَّ الدَّیّانُونَ

ترجمہ: لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے۔ جب تک دین کے ذریعے ان کے مفادات پورے ہوتے رہتے ہیں وہ اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں، لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو حقیقی دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔

جب امتحان کا مرحلہ آتا ہے تو دینداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر عمر سعد نے وہ سنگین جرم کیوں کیا اور امام حسینؑ کو شہید کرنے میں کیوں شریک ہوا؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اسے ری کی گورنری حاصل کرنے کا لالچ تھا۔ اس کے نزدیک حکومتِ ری اس قدر پرکشش تھی کہ وہ اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہ ہوا۔

اسی لالچ میں اس نے کربلا کے لشکر کی قیادت قبول کی، جنگ کی اور امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ وہ بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے دنیا حاصل کرنے کے لیے اپنے دین کو قربان کر دیا۔

لیکن انجام یہ ہوا کہ نہ وہ دنیا حاصل کر سکا اور نہ ہی اس کے پاس دین باقی رہا۔

لہٰذا دین اور دنیا کے اس دوراہے پر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دنیا کے لیے دین کو قربان نہ کریں، بلکہ اگر ضرورت پڑے تو دنیا کو چھوڑ دیں تاکہ ہمارا دین محفوظ رہ سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha