حقانیت بھی علیؑ کی، مظلومیت بھی علیؑ کی

حوزہ/ تاریخِ اسلام میں امام علی علیہ السلام کی زندگی ایک عجیب امتزاج ہے؛ ایک طرف علم، شجاعت اور عدالت کا وہ بلند مقام جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ملتی ہے، اور دوسری طرف مظلومیت اور تنہائی کا ایسا باب جسے پڑھ کر دل بے اختیار بھر آتا ہے۔

تحریر : مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخِ اسلام میں امام علی علیہ السلام کی زندگی ایک عجیب امتزاج ہے؛ ایک طرف علم، شجاعت اور عدالت کا وہ بلند مقام جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ملتی ہے، اور دوسری طرف مظلومیت اور تنہائی کا ایسا باب جسے پڑھ کر دل بے اختیار بھر آتا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد جب امت ایک نئے دور میں داخل ہوئی تو حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ علیؑ جیسے عظیم انسان کو صبر، برداشت اور خاموشی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ وہ علیؑ جو میدانِ جنگ میں کبھی دشمن کے سامنے نہ جھکے، امت کی بقا اور اسلام کی وحدت کے لیے اپنے حق کے باوجود صبر کا دامن تھامے رہے۔ اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: “میں نے صبر کیا حالانکہ آنکھ میں کانٹا اور گلے میں ہڈی تھی” (نہج البلاغہ)۔ یہ جملہ دراصل اس زمانے کی پوری تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے خود امام علیؑ کے دروازے پر آ کر خلافت قبول کرنے کی درخواست کی۔ جب آپ حکومت کے منصب پر آئے تو دنیا نے ایک ایسی حکومت دیکھی جس کی بنیاد طاقت یا دولت پر نہیں بلکہ عدل اور تقویٰ پر تھی۔ امام علیؑ کے نزدیک حکومت کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ انصاف قائم کرنا تھا۔ اسی لیے آپ نے فرمایا: “اگر مجھے سات اقلیم بھی دے دی جائیں کہ میں ایک چیونٹی سے اس کا چھلکا چھین لوں تو میں ایسا نہیں کروں گا” (نہج البلاغہ)۔ یہ الفاظ صرف اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں عدل کا ایک ابدی معیار ہیں۔ آپ کی حکومت میں بیت المال کو ذاتی خزانہ بنانا ممکن نہ تھا، غریب اور امیر کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا جاتا تھا، اور حاکم بھی قانون کے سامنے ایک عام شہری کی طرح جواب دہ ہوتا تھا۔

لیکن یہی عدل بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرا۔ جن لوگوں کو اقتدار اور دولت کی عادت ہو چکی تھی وہ علیؑ کے اصولوں کو برداشت نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امام علیؑ کے دورِ خلافت میں تین بڑی جنگیں ہوئیں: جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان۔ یہ صرف سیاسی جھگڑے نہیں تھے بلکہ حق اور مفاد کے درمیان ٹکراؤ کی علامت تھے۔ علیؑ کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے اکثر وہی لوگ تھے جو کبھی اسلام کے نام پر جمع ہوئے تھے۔ اسی لیے امام علیؑ نے فرمایا تھا: “مجھے دو قسم کے لوگ ہلاک کریں گے: ایک وہ جو محبت میں حد سے بڑھ جائیں گے اور دوسرے وہ جو دشمنی میں حد سے آگے نکل جائیں گے” (نہج البلاغہ)۔

رمضان کی ایک خاموش رات آئی۔ کوفہ کی فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔ 19 رمضان 40 ہجری کی صبح امام علی علیہ السلام حسبِ معمول نمازِ فجر کے لیے مسجد کوفہ تشریف لائے۔ آپ لوگوں کو نماز کے لیے بیدار کر رہے تھے کہ اچانک خارجی عبدالرحمن بن ملجم نے زہریلی تلوار سے آپ کے سر پر وار کیا۔ مسجد کی فضا میں ایک ہلچل مچ گئی، مگر اس لمحے بھی علیؑ کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے: “فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ” — ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ یہ الفاظ اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ علیؑ کے نزدیک شہادت شکست نہیں بلکہ کامیابی تھی۔

جب خبر گھر تک پہنچی تو امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام فوراً مسجد پہنچے۔ انہوں نے اپنے والد کو زخمی حالت میں دیکھا اور لوگوں کی مدد سے انہیں گھر لے جایا گیا۔ دو دن تک امام علیؑ بسترِ علالت پر رہے اور اسی دوران انہوں نے اپنے بیٹوں اور اہلِ بیت کو اہم وصیتیں کیں۔ آپ نے فرمایا: “اللہ سے ڈرتے رہنا، یتیموں کا خیال رکھنا، اور ظلم کے مقابلے میں ہمیشہ حق کا ساتھ دینا۔” حتیٰ کہ اپنے قاتل کے بارے میں بھی آپ نے انصاف کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر میں اس ضربت سے شہید ہو جاؤں تو اسے صرف ایک ہی ضرب لگانا، اس سے زیادہ نہیں۔

آخرکار 21 رمضان کی رات آئی اور وہ عظیم شخصیت اس دنیا سے رخصت ہو گئی جس کی زندگی عبادت، علم، شجاعت اور عدالت کا پیکر تھی۔ امام علیؑ کی شہادت صرف ایک انسان کی شہادت نہیں تھی بلکہ انسانی تاریخ میں عدل کے ایک روشن باب کا اختتام تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ علیؑ کا نام کبھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی جب عدالت کی بات ہوتی ہے تو علیؑ یاد آتے ہیں، جب علم کی بات ہوتی ہے تو علیؑ کا دروازہ یاد آتا ہے، اور جب مظلومیت کا ذکر ہوتا ہے تو مسجدِ کوفہ کا وہ سجدہ یاد آتا ہے جہاں ایک عادل ترین انسان نے اپنی جان خدا کے حضور پیش کر دی۔

اسی لیے تاریخ کی زبان آج بھی یہ کہتی ہے کہ علیؑ صرف ایک نام نہیں بلکہ حق، عدالت اور قربانی کا ہمیشہ زندہ رہنے والا عنوان ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha