جمعرات 12 مارچ 2026 - 02:06
فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ: شہادتِ حضرت علیؑ میں پوشیدہ پانچ روشن نصیحتیں

حوزہ/ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت صرف ایک المیہ نہیں، بلکہ اس امت کے لیے ایک عظیم “بشارت” اور “نشانِ راہ” ہے۔ یہ وہ دن ہے جب حق و باطل کی جنگ میں حق کا پلڑہ ہمیشہ کے لیے بھاری ہو گیا۔

تحریر: مولانا شیخ ریحان حیدر

حوزہ نیوز ایجنسی I حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کو اگرچہ ایک دردناک سانحہ ہے، لیکن اس میں اہلِ بصیرت کے لیے بے شمار “نصیحتیں” پوشیدہ ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں غم کو رحمت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

مولا علیؑ کی یومِ شہادت دراصل ان کی “کامرانی” (فزت ورب الکعبة) کی خبر ہے۔ آئیے، اس غم میں چھپی نصیحتوں کو تفصیل سے دیکھتے ہیں:

السلام علیک یوم ولدت و یوم استشہدت

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت صرف ایک المیہ نہیں، بلکہ اس امت کے لیے ایک عظیم “بشارت” اور “نشانِ راہ” ہے۔ یہ وہ دن ہے جب حق و باطل کی جنگ میں حق کا پلڑہ ہمیشہ کے لیے بھاری ہو گیا۔

پہلی نصیحت: “فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ” (ربِ کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا)

ضربت لگنے کے بعد جب آپ کے لبِ مبارک سے یہ صدا نکلی ، تو یہ دنیا والوں کے لیے پیغام تھا کہ شہادت فنا نہیں، بقا کا دروازہ ہے۔

غم کی آنکھوں سے دیکھو تو: ایک نمازی، محرابِ بندگی میں، ظالم کے ہاتھوں قتل ہوا۔

عقلِ سلیم کی آنکھوں سے دیکھو تو: ایک عاشقِ خدا، سجدے میں جا کر اپنے محبوبِ حقیقی (اللہ) سے جا ملا۔ یہ اس محبت کی انتہا ہے جہاں بندہ ہمیشہ کی زندگی پا لیتا ہے .

دوسری نصیحت : شہادت کی پیاس کا بجھ جانا

حضرت علیؑ غزوہ اُحد کے دن سے شہادت کی تمنا رکھتے تھے۔ جب انہیں غزوات میں شہادت نہ مل سکی تو آپؑ ہمیشہ اس کے طالب رہے ۔

تیسری نصیحت: امت کے لیے آخری درسِ وفا

شہادت کے وقت آپ نے وصیت فرمائی کہ میرے قاتل کو ایک ہی ضرب لگائی جائے، اسے مثلہ نہ کیا جائے اور اسے کھانا پانی دیا جائے .

اس امت کو یہ بتا دیا گیا کہ عدل کا رنگ بھی رحمت سے جدا نہیں ہوتا۔ آپ کی شہادت نے “انسانیت” کو یہ سبق دیا کہ دشمن سے بدلہ لینے میں بھی حدودِ الٰہی کو نہیں بھولنا۔

چوتھی نصیحت : ظلمت کدہ میں نورِ حق

مورخین لکھتے ہیں کہ آپ راتوں کو خفیہ طور پر غریبوں اور یتیموں کے گھروں پر کھانا پہنچاتے تھے ۔ شہادت کے بعد جب وہ راشن بند ہوا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ ان کا “راہدار” کون تھا۔

اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ حکمران اگر سچا ہو تو وہ تختِ خلافت پر بیٹھ کر بھی اپنے بچوں سے زیادہ غریبوں سے پیار کرتا ہے۔ یہ خبر آج کے حکمرانوں کے لیے بھی ایک “انتباہ” اور عوام کے لیے ایک “تسلی” ہے کہ اسلام میں عدل و احسان کا نمونہ موجود ہے۔

پانچویں نصیحت: اسلام کی بقا

آپ نے نہروان میں خوارج کا قلع قمع کیا تھا ، لیکن انہیں کے ایک فرد کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

اس سے امت کو یہ پیغام ملا کہ اسلام کو اندرونی سازشوں (جیسے کہ ابن ملجم کی تلوار) سے خطرہ ہے، لیکن یہ دین کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آپ کی شہادت نے “دینِ محمدی” کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

چنانچہ، 21 رمضان المبارک صرف گریہ و زاری کا دن نہیں، بلکہ یہ غیور مسلمانوں کے لیے “عزمِ علی” کو زندہ کرنے کا بھی دن ہے۔ آپ کی شہادت میں چھپی نصیحتیں یہ ہے کہ “سچائی کبھی مرتی نہیں، وہ صرف ایک جہان سے دوسرے جہان میں منتقل ہوتی ہے۔”

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha