تحریر: سید اظہار مہدی بخاری
حوزہ نیوز ایجنسی| اپنے عدل کی شدت سے قتل ہونے والے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ؑ کے قضاوت اور عدل کے قصے اور چرچے تو کائنات کی وسعت میں پھیلے ہیں۔ کتب تاریخ میں ان کی زندگی میں ہونے والے واقعات کا تذکرہ کثرت سے ملتا ہے۔ خلفاء اور حکمران طبقے کی رہنمائی سے لے کر ایک عام مسلمان کو عدل و مساوات کی ترسیل تک ہر موڑ پر علی ؑ کا کردار روشن اور مسلمہ ہے۔آپ ؑ کے ظاہری دور خلافت اور دنیا میں موجودگی کے ایام میں پیش آنے والے واقعات زبان زد عام ہیں جن سے علی ؑ کے عدل کا ایک مستحکم معیار سامنے آتا ہے جو بعد میں آنے والے ہر صاحب عدل اور عنان عدل پر براجمان انسان کے لیے مشعل کا کام دیتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ علی ؑ کا عدل ہی علی ؑ کی شہادت کا باعث بنا لیکن علی اس خدائی عدل پر مایوس نہیں بلکہ سجدہ شکر بجا لا کر خدا کے سامنے خدا کی قسم اٹھا کر فرماتے ہیں فزت برب الکعبہ۔روایت سے ہٹ کر آج ہم علی ؑ کے دور زندگانی کے واقعات کے ذریعے عدل علی ؑ کا بیان نہیں کریں گے اور نہ ہی علی ؑ کے فرامین کی روشنی میں عدل کا معیار پیش کریں گے بلکہ علی ؑ کی وصیتوں کا جائزہ لے کر معلوم کریں گے کہ علی ؑ کے نزدیک عدل‘ اعتدال‘ مساوات‘ برابری اور حقوق کا مقام اور اہمیت کیا ہے۔
جب ابن ملجم نے ضرب لگائی تو اس سے کچھ وقت بعد وصیت میں ارشاد فرمایا:”تم لوگوں سے میری وصیت ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو ضائع وبرباد نہ کرنا۔ ان دونوں ستونوں کو قائم رکھنااور ان دونوں چراغوں کو روشن رکھنا“۔ یعنی توحید و رسالت کے عقائد سے ہی علی ؑ نے عدل کا آغاز فرما دیا ہے اور لوگوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ اگر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں گے تو یہ بے عدلی ہوگی اور اسی طرح اگر رسول اکرم ﷺ کی سنت و سیرت سے منہ موڑیں گے تو بھی عدل و انصاف کا قتل ہوگا کیونکہ توحید اور رسالت یعنی اللہ اور اس کا رسول مسلمانوں اور انسانوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے معاملے میں بے عدلی نہ کی جائے۔ ساتھ ہی توحید و رسالت کو دو ستون بھی قرار دے دیا اور دو چراغ بھی کہہ دیا۔ یہ مزید روشن مثال ہے کہ اگر ایک ستون اور دوسرے ستون میں فرق‘ تفریق‘ تجاوز یا اختلاف یا کمزوری پیدا ہوگئی تو سمجھیں بے عدلی پیدا ہوگئی۔ ایک چراغ کی روشنی ماند پڑی تو جانیں عدل ختم ہوگیا لہذا دونوں ستونوں کو مضبوط رکھنا اور دونوں چراغوں کو روشن رکھنا ہی دراصل عدل ہے۔
اپنی ظاہری خلافت کے دوران آپ ؑ نے جن کارندوں کو زکواۃ و صدقات کے وصول کرنے پر مقرر فرمایا انہیں اپنی وصیت میں ارشاد فرمایا:”دیکھو کسی مسلمان کو خوفزدہ نہ کرنا اور ا س کے املاک پر اس طرح نہ گذرنا کہ اسے ناگوار گذرے اور جتنا اس کے مال میں سے اللہ کا حق نکلتا ہو اس سے زائد نہ لینا“۔ یہاں معاملات دنیاوی میں عدل کے قیام کی تاکید فرمائی گئی ہے۔کیونکہ ماضی اور حال میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ سرکاری عہدوں پر حاوی افراد عدل و انصاف کی تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی بالخصوص مالیاتی نظام سے وابستہ محکمے اور ان کے کرپٹ عہدیدار لوگوں کو اموال کے وصولی کے نام لوٹتے ہیں۔ لیکن امیرالمومنین ؑ نے اس رویے کے خاتمے اور اور اموال یعنی ٹیکس کی وصولی پر متعین عملے کو اس بات کی طرف سختی سے متوجہ کیا کہ وہ لوگوں سے اس انداز سے پیش آئیں کہ انہیں حکومت کو اپنے اموال دیتے ہوئے خوف یا مجبوری محسوس نہ ہو بلکہ وہ اس ادائیگی کو اپنی ذمہ داری اور فریضہ سمجھتے ہوئے ادا کریں۔ وصول کرنے والے کے لیے عدل کا یہی معیار مقرر فرمایا کہ وہ اللہ کے مقرر کردہ حق سے ایک پائی بھی زیادہ نہ لے۔ اگر اس نے رشوت یا تحفہ یا بھتے کے نام پر زیادہ وصولی کی تو اس نے اللہ اور علی ؑ کے معیار عدل کی خلاف ورزی کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؑ نے وصولی پر مامور عملے کو تاکید کی ہوئی تھی کہ جونہی وہ مال وصول کریں تو سارے کا سارا مال ایک بار آپ ؑ کی خدمت میں بھیجیں تاکہ آپ ؑ اس کے مصرف کا تعین فرما کر عدل کے ساتھ مستحقین میں تقسیم فرما سکیں۔
علی ؑ نے عدل کی نصیحتیں اور وصیتیں فقط امت اور پیروکاروں کے لیے نہیں تھیں بلکہ اپنے جگر گوشوں اور زمانے کے اماموں حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ کے لیے بھی اسی سخت انداز میں جاری کی گئی تھیں۔ جنگ صفین سے پلٹتے ہوئے امام حسین ؑ کے نام وصیت میں فرمایا:
”اے فرزند۔ اپنے اور دوسروں کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قرار دو‘ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو‘ اور جو اپنے لیے نہیں چاہتے وہ دوسروں کے لیے بھی نہ چاہو۔ جس طرح تم چاہتے ہو کہ تم پر زیادتی نہ ہو اسی طرح دوسروں پر بھی زیادتی نہ کرو۔ جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حُسن سلوک ہو یونہی دوسروں کے ساتھ بھی حُسن سلوک سے پیش آؤ۔ دوسروں کی جس چیز کو بُرا سمجھتے ہو اسے اپنے لئے بھی ہو تو بُرا سمجھو۔ لوگوں کے ساتھ تمہاراجو رویہ ہو اسی رویہ کو اپنے لئے بھی درست سمجھو۔دوسروں کے لیے وہ بات نہ کہو جو اپنے لئے گوارا نہیں کرتے۔ روزی کمانے میں دوڑ دھوپ کرو اور دوسروں کے خزانچی نہ بنو۔ اپنی طاقت سے زیادہ اپنی پیٹھ پر بوجھ نہ ڈالو۔“ اپنی ذات کو معیار قرار دینے کی اعلی مثال بھی عدل ہی کا نمونہ ہے کیونکہ جو شخص اپنے ساتھ عدل نہیں کرسکتا وہ دوسروں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ جو اپنے لئے کچھ اور اور دوسرے کے لیے کچھ اور معیار قائم کرے گا وہ کس طرح عدل قائم کرسکتا ہے؟ جو انسان رزق کے حصول کے ذرائع میں عدل قائم نہیں کرسکتا‘ لوگوں سے حسن سلوک کے معاملے میں انصاف سے کام نہیں لے سکتا وہ بھلا کس طرح اپنی ذات کا عدل کا نمونہ قرار دے سکتا ہے اور پھر یہی انسان اپنے معاشرے اور اردگرد بسنے والے انسانوں سے کس طرح توقع رکھ سکتا ہے کہ اس کے ساتھ عدل کریں گے؟پھر فرمایا ”طلب میں نرم رفتاری اور کسب معاش میں میانہ روی سے کام لو کیونکہ اکثر طلب کا نتیجہ مال کا گنوانا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ رزق کی تلاش میں لگا رہنے والا انسان ہی کامیاب ہو اور کدوو کاش میں اعتدال سے کام لینے والا محروم ہی رہے“۔ ہمارے معاشروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ عدل اور انصاف کے قتل کے معاملے میں مال کے حصول کا موضوع سب سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے مال کے حصول میں لوگ عدل و انصاف کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ اعتدال اور حق پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا جہاں سے کرپشن اور استحصال جنم لیتا ہے۔ اگر مال کے حصول اور تقسیم میں عدل اور اعتدال سے کام لیا جائے تو علی ؑ کی وصیت اور خواہش پوری ہوسکتی ہے۔ وہاں ہم بھی خوشحال ہوسکتے ہیں کیونکہ رزق کی اور مال کی مساوی تقسیم اگر عدل سے ہوتو لالچ‘ کرپشن اور استحصال کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔غرض یہ کہ عدل کے بارے میں علی ؑ کے اقوال‘ علی ؑ کے فیصلے‘ علی ؑ کی نصیحتیں اور علی ؑ وصیتوں پر سرکاری‘ اجتماعی‘ حکومتی‘ عوامی اور ذاتی سطح پر عمل کیا جائے تو معاشرے عدل کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور ہمیں ہزارہا مسائل و مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ