بدھ 4 مارچ 2026 - 05:48
ضیافتِ علوی | نہج البلاغہ کی نظر میں کسی حکمران کی حکومت؛ ہدف یا وسیلہ؟!

حوزہ/ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام جنگِ صفین سے واپسی پر جب اپنی پرانی جوتی کو پیوند لگا رہے تھے تو حضرت عبد اللہ ابنِ عباس سے فرمایا: یہ پھٹی ہوئی جوتی میرے نزدیک حکومت کرنے سے زیادہ محبوب ہے مگر یہ کہ میں اس کے ذریعے کسی حق کو قائم کروں یا کسی باطل کو مٹا دوں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان حکمت و بصیرتِ علوی کے بے مثال خزانے سے آشنائی کا سنہرا موقع ہے۔ خصوصی سلسلہ «ضیافتِ علوی» میں نہج البلاغہ کے منتخب خطبات کے اقتباسات، ماہرِ نہج البلاغہ حجت الاسلام والمسلمین محمود لطیفی کے بیان کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ اہلِ علم و فضل افطار کی ساعتوں میں ان معارف سے مستفید ہو سکیں۔

«سیاستِ علوی» (جو دراصل سیاستِ الٰہی ہے) اور «سیاستِ شیطانی» کے درمیان اصل فرق حکومت کے ہدف اور اقتدار کے مقصد میں ہے۔

ایک طرف خالص خدمتِ خلق ہے، اور دوسری طرف تسلط، مفاد پرستی اور طاقت کا اظہار۔

واپسی کے سفر میں ایک مقام پر معاویہ کی سرگرمیوں کی خبریں پہنچیں جس سے لشکرِ امیرالمؤمنینؑ میں بے چینی پھیل گئی۔ ابنِ عباس نے صورتِ حال کو نازک دیکھا تو حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:

"یا امیرالمؤمنین! اٹھئے، لوگوں کو مطمئن کیجئے، ان سے خطاب فرمائیے اور ان کیلئے راہِ عمل واضح کیجئے۔"

اسی پس منظر میں نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 33 میں یہ واقعہ مذکور ہے۔

حکمة بعثة النبی:

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلْتُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ (علیه السلام) بِذِی قَارٍ وَ هُوَ یَخْصِفُ نَعْلَهُ، فَقَالَ لِی مَا قِیمَةُ هَذَا النَّعْلِ؟ فَقُلْتُ لَا قِیمَةَ لَهَا. فَقَالَ (علیه السلام) وَ اللَّهِ لَهِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ إِمْرَتِکُمْ إِلَّا أَنْ أُقِیمَ حَقّاً أَوْ أَدْفَعَ بَاطِلًا؛ ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:

إِنَّ اللَّهَ [سُبْحَانَهُ] بَعَثَ مُحَمَّداً (صلی الله علیه وآله) وَ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ یَقْرَأُ کِتَاباً وَ لَا یَدَّعِی نُبُوَّةً، فَسَاقَ النَّاسَ حَتَّی بَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ وَ بَلَّغَهُمْ مَنْجَاتَهُمْ، فَاسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ وَ اطْمَأَنَّتْ صَفَاتُهُمْ

ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ میں ذی قار کے مقام پر امیرالمؤمنینؑ کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا کہ آپ خیمے کے قریب بیٹھے اپنی جوتی میں پیوند لگا رہے ہیں۔ آپؑ نے مجھ سے پوچھا: "اس جوتی کی کیا قیمت ہے؟" میں نے عرض کیا: "اس کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ تو بے وقعت ہے۔" آپؑ نے فرمایا: "خدا کی قسم! یہ جوتی تم پر حکومت کرنے سے میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے، مگر یہ کہ اس کے ذریعے کسی حق کو قائم کروں یا کسی باطل کو مٹا دوں۔"

پھر آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب فرمایا:

"اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں مبعوث فرمایا کہ عرب میں کوئی کتاب پڑھنے والا نہ تھا اور نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا تھا۔ آپؐ نے لوگوں کی رہنمائی کی، یہاں تک کہ انہیں ان کے مقام تک پہنچایا اور نجات کی راہ دکھائی۔ پس ان کے نیزے سیدھے ہوئے اور ان کی صفیں منظم و مطمئن ہو گئیں۔"

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا امیرالمؤمنینؑ کے نزدیک حکومت کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی؟

نہیں؛ مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت بے وقعت ہے، بلکہ اصل نکتہ یہ ہے کہ حکومت بذاتِ خود ہدف نہیں، بلکہ وسیلہ ہے۔

ابنِ عباس اور اس معاشرے کی نگاہ میں، جس نے انہیں تربیت دی، عموماً اقتدار اس لئے حاصل کیا جاتا ہے کہ اقتدار ہو، شان و شوکت ہو، آسائش ہو، اور کم از کم اپنی جوتی کو پیوند نہ لگانا پڑے!

مگر علیؑ فرماتے ہیں: "لِأُحِقَّ بِهِ حَقًّا أَوْ أُبْطِلَ بِهِ بَاطِلًا" (تاکہ اس کے ذریعے حق کو ثابت کروں اور باطل کو مٹا دوں۔)

غیر مسلم معاشروں میں عموماً سیاسی پارٹیاں اسی لئے بنتی ہیں کہ اقتدار حاصل کیا جائے اور سیاسی مناصب تک رسائی ہو لیکن ایک باایمان، باخبر اور ذمہ دار مسلمان اُس وقت سیاسی میدان میں قدم رکھتا ہے جب: حق کے قیام کی ضرورت ہو، باطل کے خاتمے کی ذمہ داری ہو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تقاضا ہو، عدل کو نافذ کرنا مقصود ہو، لوگوں کو ان کے حقوق دلانے ہوں، ظلم اور ناانصافی کو روکنا ہو، سیاستِ مؤمن کا اصل ہدف، ایک مؤمن مسلمان کیلئے سیاست کا بنیادی مقصد خدمتِ خلق ہے، نہ کہ اقتدار کا لطف۔

اصل ہدف یہ ہے کہ: معاشرے میں حق اور معروف رائج ہو، عدالت قائم ہو، لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں، ہر شخص اپنے حق تک پہنچے، برائیاں روکی جائیں اور بھلائی کو فروغ دیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha