ہفتہ 21 فروری 2026 - 06:00
ماہِ مبارک رمضان کا ایک لمحہ انسان کی پوری زندگی کو بدل سکتا ہے

حوزہ / آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے کہا: ماہِ رمضان میں سب سے بہترین عمل قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس میں غور و فکر ہے اور خدا پر توکل اور اس پر یقین انسان کے عمل اور فکر کے میدان میں عملی طور پر نمایاں ہونی چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ خراسانِ رضوی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے ماہِ مبارک رمضان میں حسینیہ دفتر نمائندہ ولی فقیہ خراسانِ رضوی میں منعقدہ درسِ تفسیر قرآنِ کریم کے میں خطاب کے دوران کہا: میں آپ سب کو ماہِ مبارک رمضان، ماہِ ضیافتِ الٰہی کی آمد پر مبارکباد اور تہنیت پیش کرتا ہوں۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اس مہینے کے تمام لمحات اور دنوں کو ہمارے لیے بابرکت قرار دے اور وہ برکت جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینے کے بارے میں وعدہ فرمائی ہے، ان شاء اللہ ہر لمحہ ہمارے شاملِ حال رہے۔

انہوں نے مزید کہا: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں: وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَات یعنی اس مہینے کی ساعتیں سب سے افضل ساعتیں ہیں۔ بعض بزرگوں کے مطابق یہاں ساعات سے مراد ساٹھ منٹ کا محدود وقت نہیں بلکہ لمحات ہیں یعنی اس مہینے کا ہر لمحہ تمام دوسرے لمحات سے برتر ہے۔

آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا: جس برکت کے بارے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «قَدْ أَقْبَلَ إِلَیْکُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَة» بعض اوقات اس قدر اثر رکھتی ہے کہ ماہِ رمضان کا ایک لمحہ انسان کی پوری زندگی کو بدل سکتا ہے۔ ایسا انسان جو بدبختی اور پریشانی میں مبتلا ہو، محض ایک لمحے کی برکت سے سعادت اور خوش بختی کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: انسانی زندگی ایک عجیب کیفیت رکھتی ہے۔ ہم مشکلات اور سختیوں کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ درد اور مصیبت ہمارے لیے معمول بن جاتی ہے اور ہم ان سے نجات کے لیے سوچنے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ ماضی میں دیہاتوں میں ملیریا عام تھا خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ٹھہرا ہوا پانی موجود ہوتا تھا۔ لوگ بخار کے اس قدر عادی ہو گئے تھے کہ اسے زندگی کا فطری حصہ سمجھنے لگے تھے حتیٰ کہ بچے اپنے والد کے روزانہ بخار کو بھی زندگی کے لوازمات میں شمار کرتے تھے۔

خراسانِ رضوی میں نمائندہ ولی فقیہ نے مزید کہا: بسا اوقات انسان بھی زندگی کی تاریکی اور ابہام کا عادی ہو جاتا ہے۔ زندگی ہر انسان کے لیے خواہ وہ عالم ہو یا ان پڑھ، خواہ عارف ہو یا معاشی جدوجہد کرنے والا، تاریکی سے بھری ہوتی ہے۔ اگر زندگی کی مثال دی جائے تو اسے تارکول سے بھرے ایک تالاب سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جہاں انسان کو اپنے اطراف دکھائی نہیں دیتا اور جتنا آگے بڑھتا ہے تاریکی مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس تاریک زندگی میں ہم اپنا مستقبل نہیں دیکھ سکتے، ہم اپنے اگلے لمحے کا بھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ جو انسان آج طاقت کے عروج پر ہے، کل وہ صفر پر پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح جو انتہائی دولت مند ہے شاید اچانک وہ اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتا ہو۔ زندگی کی اصل فطرت غیر متوقع ہونا اور ابہام کا عادی ہونا ہے۔

مجلس خبرگان رہبری کے اس رکن نے کہا: ایسی حالت میں، ہمیں ایسی ہستی کی پناہ لینی چاہیے جو مستقبل اور زندگی کے رازوں کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور وہ ہے اللہ کی ہدایت۔ وجود کے تاریک راستے میں، کبھی روشنی کی جھلکیاں اور سانس لینے کے مواقع ملتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لمحات کو "نفحات" کا نام دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "رَبُّکُمْ فِی أَیَّامِ دَهْرِکُمْ نَفَحَاتٌ؛ أَلَا فَتَعَرَّضُوا لَهَا" تمہارا رب تمہاری زندگی کے دنوں میں نسیمِ رحمت (رحمت کی ہوائیں) بھیجتا ہے، پس کوشش کرو (کہ ان کے سامنے رہو اور) تاکہ ان سے محروم نہ رہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha