حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں مدرسہ علمیہ حضرت قائم(عج) کے مؤسس آیتالله هاشمیعلیا نے کہا ہے کہ ماہِ مبارک رمضان کی حقیقی برکات سے مستفید ہونا صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں، بلکہ روزے کی حقیقی شرائط کی پابندی اور ولایتِ اہلبیت(ع) سے عملی وابستگی ہی اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔
انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں ماہِ رمضان کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ رمضان بذاتِ خود مبارک ہے، لیکن انسان کے لیے اس کی برکت کا دارومدار اس کے صحیح استعمال پر ہے۔ اگر اس مہینے کو تقویٰ، عبادت اور اصلاحِ نفس کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہ حقیقی معنوں میں مبارک ثابت ہوتا ہے، ورنہ صرف نام کافی نہیں۔
آیتاللہ ہاشمیعلیا نے ماہِ رمضان کے اہم تاریخی واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس مہینے میں مختلف عظیم الشان واقعات پیش آئے، جن میں ائمہ اہلبیت(ع) سے متعلق اہم ایام، جنگِ بدر، فتح مکہ اور نزولِ قرآن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شبِ قدر اسی ماہ میں ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور قرآنِ کریم بھی اسی مہینے میں نازل ہوا۔
انہوں نے خطبۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص عبادت ہے اور انسان کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے، بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ادا کیا جائے۔ ان کے بقول روزہ صرف ظاہری بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور دیگر اعضاء کا بھی روزہ ہونا ضروری ہے۔
آخر میں انہوں نے امام صادق(ع) کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص رمضان میں مغفرت حاصل نہ کر سکے وہ بڑی محرومی کا شکار ہے، لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ ذکرِ الٰہی اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے اس بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔









آپ کا تبصرہ