ہفتہ 2 مئی 2026 - 14:57
دنیا میں انصاف اور امن کے لیے دینی رہنماؤں کا اہم کردار، برادری اور اتحاد پر زور

حوزہ/ بین الاقوامی علمی نشست میں مقررین نے کہا ہے کہ دنیا میں پائیدار امن اور انصاف کے قیام کے لیے دینی رہنماؤں کا کردار نہایت اہم ہے، اور اس مقصد کے لیے انسانی برادری، مشترکہ اقدار اور اجتماعی ذمہ داری کے فروغ پر سنجیدہ توجہ دینا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی علمی نشست "پل میان جہان‌ها، ساختن صلح" یعنی "دنیا کو جوڑ کر امن قائم کرنا" میں مقررین نے کہا کہ دنیا میں امن اور انصاف کے قیام کے لیے دینی رہنماؤں اور دانشوروں کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مشترکہ سوچ اور نیک اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جائے۔

یہ نشست حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی شعبے کے زیر اہتمام، امام خمینی (رحمة‌الله‌علیہ) تعلیمی و تحقیقی ادارے، جامعۃ الزہرا (سلام‌الله‌علیہا) اور ویٹیکن میں ایران کے سفارت خانے کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔

دنیا میں انصاف اور امن کے لیے دینی رہنماؤں کا اہم کردار، برادری اور اتحاد پر زور

حجۃ الاسلام والمسلمین علی مصباح یزدی نے کہا کہ اسلام کے مطابق دین صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انصاف کا مطلب انسان کے حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن قائم کرنا ہے، اور آج کے دور میں کسی ایک ملک میں انصاف اسی وقت ممکن ہے جب پوری دنیا میں انصاف ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ دینی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایسے اصول بیان کریں جو سب کے لیے قابلِ فہم ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مادہ پرستی کے مقابلے میں روحانیت، ذمہ داری کا احساس اور بڑے مقاصد کے لیے قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور حقیقی دینی تعلیمات کے مطابق نظام قائم کرنا انصاف کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا میں انصاف اور امن کے لیے دینی رہنماؤں کا اہم کردار، برادری اور اتحاد پر زور

دوسری طرف اٹلی کے پروفیسر آندریا بیزوزرو نے کہا کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی اور مفاد پرستی نے معاشروں میں خودغرضی اور ناانصافی کو بڑھا دیا ہے، جس سے سماجی اتحاد کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب لوگ صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتے ہیں تو معاشرہ آہستہ آہستہ ٹکراؤ کی طرف بڑھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خوف، طاقت کی خواہش اور اختیارات کا غلط استعمال جھگڑوں کی بڑی وجوہات ہیں، اس لیے دینی رہنماؤں کو انسانی عزت اور مشترکہ اقدار کا تحفظ کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاپ فرانسس کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "انسانی برادری" ہی پائیدار امن کی اصل بنیاد ہے، اور اس کے بغیر نہ انصاف قائم ہو سکتا ہے اور نہ دیرپا امن۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آج کے عالمی مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب اخلاقی اقدار، انسانی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دیا جائے، اور ناانصافی کے خلاف خاموش رہنے کے بجائے عملی قدم اٹھائے جائیں۔

دنیا میں انصاف اور امن کے لیے دینی رہنماؤں کا اہم کردار، برادری اور اتحاد پر زور

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha