ہفتہ 21 مارچ 2026 - 20:51
حوزہ علمیہ کے نام آیت اللہ علی رضا اعرافی کا اہم پیغام: ثقافتی ہم آہنگی اور تبلیغی وسائل کے اتحاد پر زور

حوزہ/ آیت اللہ علیرضا اعرافی، مدیرِ حوزہ ہائے علمیہ اور قرارگاہ "بلاغِ مبین" کے رئیس نے ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علیرضا اعرافی، مدیرِ حوزہ ہائے علمیہ اور قرارگاہ "بلاغِ مبین" کے رئیس کا اہم پیغام اس طرح ہے:

بسمہ تعالیٰ

محترم طلاب، فضلاء، اساتذہ، بسیجی حضرات، جہادی گروہوں، حوزوی مواکب، اور تمام معزز شخصیات، اداروں، مدیران، ذمہ داران، اور دینی و ثقافتی میدان سے وابستہ افراد کی خدمت میں سلام عرض ہے۔

اللہ تعالیٰ کے انبیاء و اولیاء، خصوصاً خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور خاتم الاوصیاء حضرت امام مہدیؑ پر درود و سلام کے ساتھ، ہم امام خمینیؒ، عظیم الشان شہداء، بالخصوص ہمارے عزیز شہید رہبر، شہید بچوں، نوجوانوں، خواتین، شخصیات، کمانڈرز اور اسلامی ایران کی مسلح افواج کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اسی مناسبت سے عید سعید فطر کی آمد اور نئے سال کی آمد پر آپ سب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میں ماہِ مبارک رمضان اور نئے سال کی تعطیلات کے دوران آپ تمام حضرات، اداروں، حوزوی و روحانی مواکب اور قرارگاہ "بلاغِ مبین" کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے ثقافتی، تبلیغی، خدماتی اور جہادی میدان میں بھرپور کردار ادا کیا، خاص طور پر "جنگِ رمضان" کے دوران عوام اور نوجوانوں کے ساتھ عملی اور حماسی موجودگی قابلِ تحسین ہے۔

مزید چند اہم نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں:

1۔ "جنگِ رمضان" اسلامی ایران، عالم اسلام، انقلاب اسلامی، خطے اور محورِ مقاومت کے لیے ایک نیا، تاریخی اور اسٹریٹجک مرحلہ ہے۔ یہ ایک عظیم تمدنی معرکہ ہے جس میں اسلام اور کفر کے درمیان ہمہ گیر مقابلہ جاری ہے، جو تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

اللہ کے فضل، اہل بیتؑ کی عنایات، رہبرِ معظم کی حکیمانہ رہنمائی، اور مسلح افواج و ذمہ دار اداروں کی کوششوں سے یہ میدان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

عوام اور مسلح افواج کی موجودگی نے دشمن کے حساب کتاب بدل دیے ہیں اور دفاع و جہاد کا ایک نیا نمونہ پیش کیا ہے، جو آخری کامیابی تک جاری رہے گا۔

اس میدان میں حوزہ، روحانیت اور ہم سب کی ذمہ داری بہت بڑی اور تاریخ ساز ہے۔ ہمیں امام خمینیؒ، رہبرِ معظم اور مراجع کرام کی ہدایات کی روشنی میں اس فریضے کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور جہادِ تبیین، فوجی اداروں کی حمایت اور میدان میں عملی موجودگی کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔

2۔ نئی قیادت کے ساتھ بیعت، اس کی مضبوطی، اور مسلح، سیکیورٹی و خدماتی اداروں کی مکمل حمایت، نیز عوام کی میدان میں موجودگی کو برقرار رکھنا تین بنیادی نکات ہیں جن پر بھرپور توجہ ضروری ہے۔

3۔ ثقافتی سرگرمیوں کو منظم اور مربوط بنانا آج کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی، مشترکہ منصوبہ بندی، نوجوان طلاب، بسیجی و جہادی گروہوں پر اعتماد، اور مساجد و سوشل میڈیا میں سرگرم افراد کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔

4۔ عالمی سطح پر اسلامی تعلیمات، انقلاب کے نظریات اور اس جنگ کی حقیقت کو دنیا تک پہنچانا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے عالمی حالات، فکری جنگ اور عوامی ذہن سازی کو سمجھنا ضروری ہے۔

5۔ تاریخ گواہ ہے کہ حوزہ اور روحانیت ہمیشہ مشکل حالات میں آگے بڑھ کر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان میں جہاد، مقاومت اور عوامی خدمت کا جذبہ ہمیشہ زندہ رہا ہے، اور اب بھی یہی روش جاری رکھنی ہوگی۔ علمی، اخلاقی اور تربیتی ترقی کے ساتھ ساتھ میدانِ عمل میں بھی سرگرم رہنا ضروری ہے۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ تمام مؤمنین، عوام اور نوجوانوں کو صحت، عزت اور کامیابی عطا فرمائے، اور اسلام کو کفر پر فتح نصیب کرے۔

وَ مَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ

علیرضا اعرافی

مدیرِ حوزہ ہائے علمیہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha