حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران حیدرآباد پاکستان میں یومِ شعر و ادبِ فارسی اور استادِ سخن محمد حسین شہریارؔ کی یاد میں ایک باوقار ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ثقافتی اتاشی اور ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ڈاکٹر سعید ہاشمی کی میزبانی میں منعقدہ اس تقریب میں شہر بھر سے نامور ادبا، دانشوروں، مصنفین، شعراء، سماجی شخصیات اور خواتین و حضرات کے علاوہ فارسی زبان و ادب کے شائقین اور زبانِ فارسی کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز پاکستان اور ایران کے قومی ترانوں سے ہوا، جس کے بعد استاد شہریار کی علمی و ادبی خدمات اور فارسی زبان کی تاریخی اہمیت پر مبنی معلوماتی ویڈیو کلپس پیش کیے گئے۔
محفل کی نظامت اور ترجمے کے فرائض جناب محمد حسن لاشاری نے بہترین انداز میں انجام دیے۔

اہم مقررین میں استادِ زبانِ فارسی جناب سجاد نظامانی نے فارسی زبان کی افادیت اور استاد شہریار کی شاعرانہ عظمت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
خصوصی اسپیکر آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے امام خمینی بین الاقوامی یونیورسٹی قزوین کے شعبۂ تدریس کے ممتاز رکن ڈاکٹر رضا چہرقانی نے فارسی زبان و ادبیات کی تاریخ اور عالمی اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی؛ جس کے بعد فارسی کے طلاب نے ڈاکٹر چھرقانی سے سوالات بھی کیے ۔
اس موقع پر سندھ یونیورسٹی کے عربی و فارسی شعبے کے ڈائریکٹر پروفیسر مفتی صاحبداد سکندری اور ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ڈاکٹر سعید ہاشمی نے بھی اپنے خطابات ثقافتی و ادبی روابط کی مضبوطی اور فارسی ادب اور امن و جنگ کے اھم موضوعات پر گفتگو کی۔
ہالا شہر کی مرکزی مسجد کے عالم دین مولانا دوست علی سعیدی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نشست کی افادیت کو سراہا۔

نشست کے ایک اہم مرحلے میں میناب اسکول کے شہید بچوں کی یاد میں لکھی گئی معروف ایرانی کتاب کے سندھی ترجمے "امن و جنگ" کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔
مترجم علامہ نبی بخش دانش نے کتاب کے مقدمے، پس منظر اور اس کی آفاقی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے انسانی و اخلاقی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔

تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے اس کامیاب اور یادگار ادبی کاوش پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔









آپ کا تبصرہ