از قلم: سلمان عابدی
موت ہے وہ عقل جو ادراک کے قابل نہیں
خاک اس دل پر کہ جو احساس کا حامل نہیں
اے مرے دل تو ذرا محتاط رہ یاروں کے بیچ
دشت وحشت خیز ہے یہ ناقہء محمل نہیں
وہ چلا جائے کہ جو ناواقف آداب ہے
عشق کی یہ مملکت ہے عقل کی محفل نہیں
حوصلہ ہو دل میں تو آؤ سر مقتل چلو
شیوۂ مرداں تماشائے دم بسمل نہیں
یہ سبق معراج کی شب سے ملا انسان کو
مانعء سیر فلک زنجیر آب و گل نہیں
وہ ملک تھا رک گیا اب عبد کی پرواز دیکھ
قاب اور قوسین کی حد بھی مرے حائل نہیں
پردۂ شب، بر سر محراب ، ہنگام نماز
کیا تمہارا ہاتھ میرے قتل میں شامل نہیں
عشق میں دیکھو شکست و ریخت ہے رمز کمال
جو اشارے سے نہ ڻوڻے وہ مہ کامل نہیں
یہ حجاب غیب کب تک یہ عذاب ہجر کیوں
کیا مری آنکھیں ترے دیدار کے قابل نہیں
عشق سے پہلے بہت سی مشکلیں در پیش تھیں
عاشقی کے بعد لگتا ہے کوئی مشکل نہیں
مطلع ثانی رقم کر منقبت کے رنگ میں
مدح زہراء کے بنا کوئی ادب کامل نہیں










آپ کا تبصرہ