ہفتہ 17 اکتوبر 2026 - 18:23
کرچکا دستِ یہودی پہ سعودی بیعت
اب تو کعبے کو بھی آزاد کرانا ہوگا

حوزہ/ مولانا عرفان عالم پوری نے اپنے ان اشعار میں واقعۂ کربلا، حضرت زینبؑ کے عزم و استقامت، تحفظِ قرآن اور احیائے سیرتِ حسینیؑ کے پیغام کو شعری انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری میں کربلا سے فلسطین تک مظلوموں کی آزادی، ظلم و استبداد کے خلاف مزاحمت اور حق و انصاف کے قیام کا عہد نمایاں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

از قلم: مولانا عرفان عالم پوری

بھائی کےساتھ بہن نے بھی یہ ٹھانا ہوگا
کربلا تیرا مرا شام نشانہ ہوگا

تو سناں پر تو میں ناقےپہ رھوں گی بھیا
ہر سفر میرا ترے شانہ بہ شانہ ہوگا

وارثِ الا جمیلہ ہیں ہم اے ابنِ زیاد
موت سے خوف زدہ تیرا گھرانہ ہوگا

ہاتھ رسی میں بنے رحل تو چادر جزدان
عزم زینب کا ہے قرآن بچانا ہوگا

دستِ زینب کو ہیں سب باندھنے والے مجرم
یہ وہ قرضہ ہے جو نسلوں کو چکانا ہوگا

زندہ کرنی ہے حسین اور حسن کی سیرت
یعنی تلوار و قلم ساتھ اٹھانا ہوگا

عشقِ شبیر کا دریا بھی عجب دریا ہے
پار ھونا ہے تو پھر ڈوب کے جانا ہوگا

میرے ہیروں کی چمک دیکھ لےساری دنیا
شاہ بولے کہ چراغوں کو بجھانا ہوگا

بھرگئےاِتنی کشش جون کےچہرے میں حسین
کربلا مصر سے یوسف کو بھی آنا ہوگا

مسندِ شاہِ ولایت پہ اگر بیٹھنا ہے
ٹھوکروں سے کوئی مردہ بھی جِلانا ہوگا

کرچکا دستِ یہودی پہ سعودی بیعت
اب تو کعبے کو بھی آزاد کرانا ہوگا

ہونے ہی والی ہے عرفان یہ دنیا تبدیل
اب بہت جلد ہمارا ہی زمانہ ہوگا

کرچکا دستِ یہودی پہ سعودی بیعت
اب تو کعبے کو بھی آزاد کرانا ہوگا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha