۲۴ تیر ۱۴۰۳ |۷ محرم ۱۴۴۶ | Jul 14, 2024
جشن صادقین

حوزہ/طلاب جامعۃ الامام امیرالمؤمنین نجفی ہاؤس مقیم ایران کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی ولادت سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) اور امام جعفر صادق(ع) کی مناسبت سے ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہند و پاک کے شعراء کرام نے جشن صادقین میں حصہ لیتے ہوئے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،طلاب جامعۃ الامام امیرالمؤمنین نجفی ہاؤس مقیم ایران کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی ولادت سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) اور امام جعفر صادق(ع) کی مناسبت سے ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہند و پاک کے شعراء کرام نے جشن صادقین میں حصہ لیتے ہوئے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

واضح رہے کہ یہ جشن صادقین ولادت سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) اور امام جعفر صادق(ع) کی مناسبت سے ہر سال بڑے ہی عقیدت و احترام کے ساتھ سرزمین قم پر طلاب جامعۃ الامام امیرالمؤمنین نجفی ہاؤس مقیم ایران کی جانب سے منعقد ہوتا ہے جس میں اردو زبان علماء و فضلاء کثیر تعداد میں حصہ لیتے ہیں۔ اور اس سال بھی حسب سابق اس بزم میں علماء و فضلاء و شعراء نے کثیر تعداد میں شرکت فرماتے ہوئے بارگاہ محمد و آل محمد علیہم السلام میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

اس سال اس جشن صادقین کے لیے دو مصرع پیش کیے گئے ’’ اک شیشے میں دو نور بہم دیکھ رہےہیں، اک روح  رسالت ہے اک جان امامت ہے"۔ جس پر شعراء کرام نے طبع آزمائی کرتے ہوئے بہترین کلام پیش کیے، جن شعراء کرام کے کلام ہمیں دستیاب ہوسکے ہم انھیں یہاں پیش کرتے ہیں۔

آمادۂ مدحت جو قلم دیکھ رہے ہیں
افلاک کو ہم زیرِ قدم دیکھ رہے ہیں

مجھ کو ہی نہیں آتا گدائی کا طریقہ
سرکار تو مائل بہ کرم دیکھ رہے ہیں

ہر لفظ نکلتا ہے مدینے کی گلی کو
کاغذ پہ خیابانِ ارم دیکھ رہے ہیں

ہر لفظ میں جنت کے نظارے نظر آئیں
پھر بھی یہی لگتا ہے کہ کم دیکھ رہے ہیں

یہ احمدؐ و صادقؑ کے تبسّم کی جھلک ہے
یہ نور کی برسات جو ہم دیکھ رہے ہیں

کھولے ہوئے صادقؑ کی حدیثوں کا دریچہ
ہم لوگ سوئے شاہِ اممؐ دیکھ رہے ہیں

صادقؑ کی ثنا اصل میں ہے نعتِ  محمدؐ
’’اک شیشے میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں‘‘

ثاقبؔ! مرے ہمراہ ہے مدحت کا قبیلہ
سب لوگ مرا جاہ و حشم دیکھ رہے ہیں

جناب عباس ثاقبؔ

جامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیران ہمیں رنج و الم دیکھ رہے ہیں
ہم جب سے درِ شاہ امم دیکھ رہے ہیں

ایک چاند سرِ عرش جو ہم دیکھ رہے ہیں
ہاں سمتِ مدینہ اسے خم دیکھ رہے ہیں

انگلی کے اشارے سے ہوئے چاند کے ٹکڑے 
حیرت سے عرب اور عجم دیکھ رہے ہیں

اب رزقِ ثنائے شہِ لولاک عطا کر 
یارب مجھے اب اہلِ قلم دیکھ رہے

وہ جا کے جہاں پر نہ ملائک کا گزر ہو
 ہم وا بھی محمد(ص) کے قدم دیکھ رہے ہیں

 آغوش محمد(ص) میں علی(ع)  بول رہے ہیں
 سہمے ہوئے پتھر کے صنم دیکھ رہے ہیں

جن لوگوں کو آئی نہ سمجھ سیرت احمد(ص)
 ہاتھوں میں اُنہی لوگوں کے بم دیکھ رہے ہیں

ہو دشمن حیدر(ع) سے بصیرت کی توقع
ہم اُن کی تو بینائی بھی کم دیکھ رہے ہیں

اے کاش کوئی پوچھے کہاں ہو تو کہیں ہم 
یثرب میں ہیں آقا حرم دیکھ رہے ہیں

طیبہ کبھی مکہ کبھی کربل کبھی مشہد
ہم لوگ تو دنیا میں ارم دیکھ رہے ہیں

غربت میں بھی رہ کر ذرا بیچین نہیں ہیں
معصومہ قم(س)  تیرا کرم دیکھ رہے ہیں

ہے پاس ہی بابا کے مگر قبر ہے ٹوٹی
ہم آج بھی زہرا(س) پہ ستم دیکھ رہے ہیں

آتی ہے نظر علم و صداقت کی شعائیں
اک شیشے میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں

خوشبوئے نبی(ص) آتی ہے اوراق سے حیدر
ہم نعت نبی(ص) کر کے رقم دیکھ رہے ہیں

جناب حیدر جعفری

جامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا بخت ہے اس در کو ہی ہم دیکھ رہے ہیں۔
پیشانی جہاں شاہوں کی خم دیکھ رہے ہیں۔

اس در کے فقیر وں میں سلیماں کی قسم ہم۔
شاہوں سے سوا جاہ و حشم دیکھ رہے ہیں۔

قسمت میں لکھی جب سے ولا آل نبی کی۔
تقدیر میری لوح و قلم دیکھ رہے ہیں۔

آئینۂ عصمت میں رسالت و امامت۔
اس رات میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں۔

خالق کی عطا سورہ رحمان سے پوچھو۔
ہم اس کی عنایات کو کم دیکھ رہے ہیں۔

ہر بیت پہ غلمان نیا بیت بنا کر۔
حیرت سے میرے دست و قلم دیکھ رہے ہیں۔

اس محفل مدحت کی طرف کرکے نگاہیں‌۔
بولے یہ ملک سوئے ارم دیکھ رہے ہیں۔

اس قوم کو کیا خاک مٹا پائے گی دنیا۔
14 کی جہاں نظر کرم دیکھ رہے ہیں۔

جلوے میں میرا لفظ نہیں کم کوئی مظہر۔
اشعار میرے شاہ امم دیکھ رہے ہیں۔

جناب مختار علی جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الفاظ سخن تیرا کرم دیکھ رہے ہیں 
افلاک ترا نقش قدم دیکھ رہے ہیں
۔
دنیا کی نظر قدس و ارم پر ہے مسلسل
قدسی تری چوکھٹ پہ ارم دیکھ رہے ہیں
۔
اُمّی کی عجب شان کہ مصروف تحیّر
سب اہل سخن اہل قلم دیکھ رہے ہیں
۔
طیبه میں مجلّی رخ زیبائے محمد ص
یوسف میرے آقا کا حشم دیکھ رہے ہیں
۔
مشکات کی آیت سے ملا ہم کو وہ شیشہ
"اک شیشہ میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں"
۔
وہ صادق اول ہیں تو یہ صادق ثانی
دونوں کو ہم اک رخ سے بھم دیکھ رہے ہیں
۔
اکبر ع سر جنگاہ پکارے کہ اب آؤ
اب کس میں لڑائی کا ہے دم دیکھ رہے ہیں
۔
ہاں عشق میں کھلتے ہیں سب اسرار ولایت
کیونکر تمہیں دکھ جائے جو ہم دیکھ رہے ہیں
۔
عباس ع کی آمد کی خبر ہے کہ اجل ہے
سن کر ہی نکلتے ہوئے دَم، دیکھ رہے ہیں
۔
للکار کے زینب ع نے کہا ابن نحس کو
مٹتا ہوا ہم تیرا بھرم دیکھ رہے ہیں
۔
ٹک جائیں لب نہر بھلا کیسے بھگوڑے
عباس ع کی ابرو پہ جو خم دیکھ رہے ہیں
۔
 اب ذکر نبی ص اور خوئی سا تہی داماں
عمران کی دہلیز کو ہم دیکھ رہے ہیں

[زین العابدین خوئی]
16 ربیع الاول 1443ھجری
قم المقدسه، ایران

جامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم غور سے  مولا کا حرم دیکھ رہے ہیں 
محسوس یہ ھوتا ہے ارم دیکھ رہے ہیں 

سلمان کو وہ دیکھو گلے سے ہیں لگائے
سرکار عرب اور نہ عجم دیکھ رہے ہیں 

گستاخِ نبی اصل میں گستاخِ خدا ہے
یہ بات بخاری میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں 

پیشانئیِ قرآن پہ ہے آیۂِ بلّغ
یہ بغضِ ولایت ہے جو کم دیکھ رہے ہیں 

ھو کیسے نہ تاریکیوں کے رُخ پہ پسینہ
اک شیشے میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں 

جو ظلم کو للکار دے اے رہبرِ ملّت
بس آپ کے بازو میں وہ دم دیکھ رہے ہیں 

کل کعبے میں آئے جو چھپائے ھوئے خنجر
اُن لوگوں کےہاتھوں میں ہی بم دیکھ رہےہیں 

میں شاہِ مدینہ کے چلا نقشِ قدم پر
اب لوگ مرا نقشِ قدم دیکھ رہے ہیں 

یہ مرجعِ تقلید کے ھونے کا اثر ہے
اونچا جو یہ شیعت کا علم دیکھ رہے ہیں 

کیسے ابولولو نے کیا وار عدو پر
پی پی کے شراب اپنا شکم دیکھ رہے ہیں 

عرفان یہ بس نعرۂِ حیدر کا کرم ہے 
جو اللٰہُ اکبر کا بھرم دیکھ رہے ہیں 

             جناب عرفان عالم پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہستی کے گلستاں میں جو دم دیکھ رہے ہیں
سب آپ کے الطاف بہم دیکھ رہے ہیں

ہیں واسطہ در فیض حقیقت میں محمد
ہر ذرہ پہ یوں ان کا کرم دیکھ رہے ہیں

کرنی ہے انہیں ثبت جو تقدیر دو عالم
احمد کی طرف لوح و قلم دیکھ رہے ہیں

آدم ہیں در سید لولاک پہ خوش باش
جبریل کھڑے باغ ارم دیکھ رہے ہیں

عالم ہے سبھی کھوج میں جنت کی پہ عشاق
جنت کو ترا نقش قدم دیکھ رہے ہیں

مصباح کی مشکات و زجاجہ کی ہے تفسیر
اک شیشے میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں

دنیا کے مقر منکر سرکار یہ بد عقل
وجدان کو فقدان میں ضم دیکھ رہے ہیں

ق
اے امی لقب تیری فصاحت کے گلستان
حیرت سے عرب اور عجم دیکھ رہے ہیں

قرآن کے انداز میں حیدر کے بیاں میں 
سب تیری بلاغت کا بھرم دیکھ رہے ہیں

یہ انفس آفاق حقیقت کی نگہ سے
جعفر میں محمد کا حشم دیکھ رہے ہیں

دریائے حوادث کے تھپڑے ہیں فراواں
یہ عشق محمد ہے جو کم دیکھ رہے ہیں

اے گردش دوراں نہ ستا جان لے اتنا
ہم.لوگ ابھی سوئے حرم.دیکھ رہے ہیں

آنکھوں سے رواں اشک ہیں خاموش زباں ہے
یعنی کہ.مجھے شاہ امم دیکھ رہے ہیں

ہر جلوۂ بے پردہ کے پردے میں وہ موجود 
ہم اندھے ہیں غائب انہیں ہم دیکھ رہے ہیں

وہ کہتے ہیں اخلاص سے انجام دو اعمال
دنیا کی نہ پروا کرو ہم دیکھ رہے ہیں

دل کہتا ہے روضہ سے بقیعہ کو مسلسل
سرکار کئے چشم کو نم دیکھ رہے ہیں

دیتے ہیں نبی حیدر کرار کو پرچم
کچھ لوگ بصد رنج و الم دیکھ رہے ہیں

خیبر تو نہ سر کرسکے اصحاب پیمبر
پر مال غنیمت کو بہم دیکھ رہے ہیں

صائب یہ عرق ریزی جعفر کا اثر ہے
کردار محمد جو علم دیکھ رہے ہیں

جناب صائب جعفری
قم مقدس
۱۷ ربیع الاول ۱۴۴۳
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کی دھرتی  پر یہ ان  کی عنایت ہے 
کچھ اور نہیں احمد اللہ کی رحمت ہے 

آیا ربیع الاول خوشیوں کی بہاریں ہیں
پھولوں میں طراوت ہے خوشبو میں متانت ہے 
 

مرکز ہے نبوت کا منبع ہے  امامت کا 
گھر ہے ابوطالب کا یا رب کی سفارت ہے ؟ 

بس ایک حقیقت کے دو رخ  ہیں بظاہر یہ
باطن میں یقیناً ایک دونوں کی حقیقت ہے


اس جھوٹی خلافت کا اب نام و نشاں تک نئیں  
 روشن ہے جہاں جس سے وہ شمع ولایت ہے 

اک دین کا سرور ہے اک فقہ کا محور ہے 
وہ نور نبوت ہے یہ شمع امامت ہے


اک دین کا سورج ہے اک چاند ہے مذہب کا  
اک روح رسالت ہے اک جان امامت ہے

  اللہ کی جانب سے مومن  کا فریضہ ہے 
جو اجر رسالت ہے قربیٰ کی مودت ہے 

ہے عشق نبی  تنہا امید دل  دانش  
پہلے بھی محبت تھی اور اب بھی محبت ہے 

جناب کاچو یوسف دانش بلتستانی
جامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکارؐ کا ہم جاہ و حشم دیکھ رہے ہیں
جبریلؑ کے رکتے سے قدم دیکھ رہے ہیں

بس گرنے ہی والی ہے عمارت یہ حُبل کی
ہم شرک کی بنیاد میں نم دیکھ رہے ہیں

اے پردۂ واجب ترے امکان کے اندر
اک ہاتھ کو اک ہاتھ میں ضم دیکھ رہے ہیں

حر ہاتھ کو باندھے ہوئے روتا ہوا بولا
ہم اپنی خطا ان کا کرم دیکھ رہے ہیں

جنت کی طرف دھیان نہ جائے گا ہمارا
اے خلد ابھی ہم تو حرم دیکھ رہے ہیں

شہزادی جنتؑ تیری تعظیم کی خاطر
سرکار رسالت کو بھی خم دیکھ رہے ہیں

سید لیاقت علی کاظمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

پھر بندوں پہ مالک کا کرم دیکھ رہے ہیں
اک شیشے میں دو نور بہم دیکھ رہے ہیں

محبوبیت شاہ امم دیکھ رہے ہیں
ہر دل میں محمد کا حرم دیکھ رہے ہیں

ہر بستی میں بڑھتا ہوا توحید کا جلوہ
سہمے ہوئے پتھر کے صنم دیکھ رہے ہیں

مصروف ہوں لکھنے میں میں اوصاف محمد
جبریل امیں تاب قلم دیکھ رہے ہیں

شہزادی قم شاہ خراسان کی صورت
فارس پہ محمد کا کرم دیکھ رہے ہیں

دی کس نے خبر آمد محبوب خدا ہے
بت خانوں میں ہر سمت ادھم دیکھ رہے ہیں

تنہا چلے محبوب خدا جانب سدرا
جبریل کھڑے نقش قدم دیکھ رہے ہیں

دیکھیں گے کبھی بعد میں فردوس کی جانب
فی الحال تو ہم سوئے حرم دیکھ رہے ہیں

پہوچا دو اے جبریل یہ آیات مزمل
محبوب کے پاؤں میں ورم دیکھ رہے ہیں

سیفی ہے یہ سب شاہ مدینہ کی عنایت
قرطاس پہ جو کچھ بھی رقم دیکھ رہے ہیں

جناب سید معراج مہدی سیفی الہ' آبادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیاجامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیاجامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیاجامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیاجامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیاجامعۃ الامام امیر المؤمنین(ع) نجفی ہاؤس کی جانب سے منعقد طرحی محفل میں شعراء کرام نے نذرانۂ عقیدت پیش کیا

تبصرہ ارسال

You are replying to: .