اتوار 4 اکتوبر 2026 - 21:15
پیام اعظمی:لفظ کا اضطراب، فکر کا انقلاب

حوزہ/اردو ادب میں بعض لوگ لکھتے ہیں، بعض لوگ شعر کہتے ہیں اور بعض لوگ اپنے عہد کے سوئے ہوئے ضمیر کو آواز دیتے ہیں۔ پیام اعظمی کا تعلق اسی آخری قبیلے سے ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| اردو ادب میں بعض لوگ لکھتے ہیں، بعض لوگ شعر کہتے ہیں اور بعض لوگ اپنے عہد کے سوئے ہوئے ضمیر کو آواز دیتے ہیں۔ پیام اعظمی کا تعلق اسی آخری قبیلے سے ہے۔ ان کے یہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں، بیداری کی قوت ہے؛ شعر محض جمالیاتی تجربہ نہیں، فکری اضطراب ہے اور نثر محض معلومات کی ترسیل نہیں، ذہن کے بند دریچوں پر دستک ہے۔ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے قاری صرف مصنف کے خیالات سے واقف نہیں ہوتا، وہ اپنے اندر موجود اس انسان سے بھی آشنا ہوتا ہے جسے زمانے کی مصلحتوں، عادتوں اور خاموشیوں نے کہیں دبا دیا ہے۔

پیام اعظمی کی اصل شناخت اسی فکری بے قراری میں ہے۔ وہ مطمئن ذہن کے شاعر نہیں؛ سوال اٹھانے والے قلم کار ہیں۔ ان کا مزاج قبولِ عام کے سکون سے زیادہ حقیقت کے اضطراب سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں مذہب محض رسوم کا مجموعہ نہیں، ایک زندہ فکری نظام ہے؛ کربلا صرف ماضی کا المیہ نہیں، انسانی ضمیر کا دائمی امتحان ہے؛ اور اہل بیت علیہم السلام سے محبت صرف جذباتی وابستگی نہیں، حق، عدالت، شجاعت، آزادی اور انسانی کرامت کے ایک مکمل تصور سے وابستگی ہے۔

ان کی شاعری کی تہہ میں اترنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ واقعہ نہیں، اس کے باطن کو موضوع بناتے ہیں۔ کربلا ان کے لئے صرف شہادتوں کا بیان نہیں بلکہ اس سوال کا نام ہے کہ انسان طاقت کے سامنے اپنی اخلاقی آزادی کہاں تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اسی لئے ان کے یہاں امام حسین علیہ السلام تاریخ کے ایک مقدس کردار سے آگے بڑھ کر ایک زندہ معیار بن جاتے ہیں۔ ان کا معروف مصرعہ؛

’’چودہ صدیاں بیت گئیں

شبیرؑ کا چرچا باقی ہے‘‘

بظاہر سادہ ہے مگر اپنے اندر تاریخ کا پورا فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ اقتدار گزر جاتا ہے، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، جبر کے ایوان خاک ہوجاتے ہیں مگر وہ کردار زندہ رہتا ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کے لئے قربانی دے۔ یہی پیام اعظمی کے شعری شعور کی ایک بنیادی جہت ہے

ان کے یہاں انقلاب شور نہیں، شعور ہے۔ انقلاب کا مطلب محض حکومت یا نظام کی تبدیلی نہیں؛ انسان کے اندر معیارِ حق کی تبدیلی، نگاہ کی اصلاح، ضمیر کی بیداری اور مصلحت کے مقابلے میں اصول کا انتخاب بھی انقلاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم کسی ایک سیاسی نعرے کا اسیر نہیں دکھائی دیتا۔ وہ انسان کے اندر انقلاب چاہتے ہیں؛ ایسا انقلاب جس میں خوف کی جگہ حریت، جہالت کی جگہ معرفت، بے حسی کی جگہ احساس اور جمود کی جگہ حرکت پیدا ہو۔

پیام اعظمی کی انقلابی فکر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ عقیدت کو شعور سے جدا نہیں کرتے۔ اہل بیت علیہم السلام کی محبت ان کے ہاں محض آنکھوں کی نمی نہیں، کردار کی ذمہ داری ہے۔ اگر امام حسین علیہ السلام سے محبت انسان کو ظلم کے سامنے خاموش رکھے تو ایسی محبت کے معنی پر سوال اٹھنا چاہیے۔ اگر امام علی علیہ السلام کا نام زبان پر ہو مگر عدل زندگی میں نہ ہو تو نسبت کا دعویٰ اپنے اندر ایک اخلاقی خلا رکھتا ہے۔ اگر زینب سلام اللہ علیہا کا ذکر ہو مگر حق گوئی، استقامت اور عزتِ نفس زندگی سے غائب ہوں تو کربلا ابھی ہمارے اندر داخل نہیں ہوئی۔ پیام اعظمی کی فکر کا اصل ہیجان اسی مقام سے پیدا ہوتا ہے جہاں عقیدہ کردار کا مطالبہ بن جاتا ہے۔

ان کی شاعری میں فن اور فکر کا رشتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ وہ محض پیغام کو شعر نہیں بناتے؛ شعر کے فنی امکانات سے پیغام کی تأثیر بڑھاتے ہیں۔ ان کے کلام میں خطیبانہ آہنگ، منظر آفرینی، تاریخی شعور اور جذباتی ارتعاش ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شعر صرف پڑھا نہیں جاتا، آواز میں زندہ ہوتا ہے۔ سامع تک پہنچتے ہوئے مصرع اپنے لفظی وجود سے آگے بڑھ کر ایک کیفیت بن جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مذہبی شاعری مجلس کی حدود سے نکل کر ادبی تجربہ بن جاتی ہے۔

ان کے کلام کا ایک اور وصف حافظے میں اتر جانے والی شعری ساخت ہے۔ بڑا شعر ہمیشہ مشکل شعر نہیں ہوتا۔ کبھی ایک سادہ سا مصرع صدیوں کی تاریخ کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ پیام اعظمی کے یہاں ایسے مصرعے ملتے ہیں جو کتاب سے نکل کر زبانِ خلق کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ منزل ہے جہاں شعر ’’کلام‘‘ سے ’’یاد‘‘ بن جاتا ہے، اور یاد سے ’’شعور‘‘۔

ان کے فکری مزاج کو سمجھنے کے لئے ان کی نثر کو بھی شاعری کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ اسلام ہی کیوں؟ جیسا عظیم نثری شاہکار اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے لئے مذہب محض جذباتی وابستگی کا موضوع نہیں بلکہ عقلی، کلامی اور فکری سوال بھی ہے۔ ان کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں صرف شاعر کے خانے میں بند ہونے سے بچاتا ہے۔

پیام اعظمی کے یہاں قلم ایک ذمہ داری ہے۔ والقلم جیسا مجموعہ خود اس علامت کو نمایاں کرتا ہے۔ قرآن نے قلم کی قسم کھائی؛ اس لئے قلم ان کے لئے محض ادبی صنعت نہیں رہتا، ایک اخلاقی امانت بن جاتا ہے۔ قلم کا کام صرف خوب صورت جملے پیدا کرنا نہیں؛ باطل کے پردے چاک کرنا، سوال کو زندہ رکھنا اور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری یاد دلانا بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پیام اعظمی کی تحریر میں کبھی کبھی ایک ایسا ہیجانی آہنگ پیدا ہوتا ہے جو قاری کو آرام سے پڑھنے نہیں دیتا۔ ان کے الفاظ سوال کرتے ہیں، سوال جواب کا تقاضا کرتا ہے اور جواب انسان کو خود اپنے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہی ادب کی بلند ترین منزلوں میں سے ایک ہے: جب مصنف ختم ہوجاتا ہے اور قاری کے اندر مکالمہ شروع ہوجاتا ہے۔

ان کی شخصیت کو صرف مذہبی ادب کے ایک معروف نام کے طور پر دیکھنا بھی ان کے فکری دائرے کو محدود کرنا ہوگا۔ ان کے ہاں انسان ایک زندہ مسئلہ ہے۔ اس کی آزادی، اس کی عزت، اس کا انتخاب، اس کی اخلاقی ذمہ داری اور اس کا تاریخی شعور یہ سب ان کے فکری منظرنامے کا حصہ ہیں۔ اسی لئے ان کے ہاں مذہب اور انسانیت ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوتے؛ مذہب انسان کو اس کی حقیقی قدر سے آشنا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

پیام اعظمی کی فکر میں غیرت بھی ایک بنیادی اخلاقی قدر ہے مگر یہ غیرت جذباتی اشتعال نہیں۔ یہ اس شعور کا نام ہے جس کے بعد انسان ظلم کو معمول، ذلت کو تقدیر اور خاموشی کو حکمت سمجھنے سے انکار کردے۔ ان کے یہاں غیرت کا مطلب تلوار اٹھانا نہیں، پہلے اپنے اندر وہ اخلاقی قوت پیدا کرنا ہے جو حق کو پہچان سکے اور پھر اس کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ بھی رکھے۔

یہاں ان کی شاعری کربلا سے ایک گہرا رشتہ قائم کرتی ہے۔ کربلا کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ انسان کو ہر عہد میں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ آسان زندگی چاہتا ہے یا درست زندگی۔ پیام اعظمی کا قلم اس انتخاب کو نرم نہیں کرتا؛ اسے محسوس کراتا ہے۔ اسی لئے ان کا کلام بعض اوقات قاری کے لئے خوش گوار نہیں بلکہ بے آرام کرنے والا تجربہ بن جاتا ہے۔ اور شاید ایک بہترین ادب کی یہی ایک پہچان ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ سہلاتا نہیں، کبھی کبھی ہماری سہولت چھین لیتا ہے۔

پیام اعظمی کے یہاں زبان بھی اسی مقصد کی تابع ہے۔ وہ علمی بات کو خشک اصطلاحات میں قید نہیں کرتے اور جذبات کو فکری گہرائی سے محروم نہیں ہونے دیتے۔ ان کے یہاں فکر شعر میں آتی ہے تو موسیقیت اختیار کرتی ہے اور جذبہ نثر میں آتا ہے تو استدلال پیدا کرتا ہے۔ یہی امتزاج ان کی ادبی شخصیت کو منفرد بناتا ہے۔

ان کے کلام میں تاریخ صرف یاد کرنے کی چیز نہیں؛ اپنے زمانے کو سمجھنے کا آئینہ ہے۔ ماضی ان کے ہاں فرار کا راستہ نہیں بلکہ حال کی تفہیم کا وسیلہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام کو یاد کرنا اس لئے اہم نہیں کہ ایک عظیم واقعہ کبھی پیش آیا تھا؛ اس لئے اہم ہے کہ ہر عہد میں ظلم نئی زبان، نئے لباس اور نئے جواز کے ساتھ سامنے آسکتا ہے۔ کربلا کو زندہ رکھنے کا مطلب اسی انسانی سوال کو زندہ رکھنا ہے۔

اسی مقام پر پیام اعظمی کا ادب محض مذہبی ادب نہیں رہتا؛ وہ انسانی ضمیر کا ادب بن جاتا ہے۔

ان کی انقلابی قوت کا سرچشمہ بھی یہی ہے۔ وہ انسان کو بھیڑ اور ہجوم کا حصہ نہیں دیکھنا چاہتے؛ اسے صاحبِ شعور فرد بنانا چاہتے ہیں۔ ایسا فرد جو روایت کا احترام کرے مگر تقلید کا غلام نہ ہو، عقیدے سے وابستہ ہو مگر سوال کرنے سے نہ ڈرے، تاریخ سے محبت کرے مگر تاریخ کے نام پر ظلم کو مقدس نہ بنائے، اور مذہب کو مانے تو اس کے اخلاقی مطالبات بھی قبول کرے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پیام اعظمی کا قلم آج کے عہد سے براہِ راست مکالمہ کرتا ہے۔

آج جب الفاظ بہت ہیں مگر معنی کم، معلومات بہت ہیں مگر بصیرت کم، شور بہت ہے مگر سماعت کم، وابستگیاں بہت ہیں مگر کردار کم ایسے زمانے میں پیام اعظمی کی آواز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ادب کا مقصد صرف دل بہلانا نہیں؛ کبھی کبھی دل کو بے چین کرنا بھی ادب کی خدمت ہے۔ فکر کا مقصد صرف معلومات بڑھانا نہیں؛ کبھی کبھی انسان کے یقین کی بنیادوں کو ہلا کر اسے زیادہ پختہ یقین تک پہنچانا بھی فکر کا کام ہے۔

پیام اعظمی اسی بے قراری کے شاعر ہیں۔

وہ لفظ کو محض لفظ نہیں رہنے دیتے۔

اس میں سوال رکھتے ہیں۔

سوال میں اضطراب۔

اضطراب میں شعور۔

اور شعور میں عمل کی امکان پذیری۔

یہی ان کی ادبی شخصیت کا جوہر ہے۔

اسی لئے پیام اعظمی کو پڑھنا صرف ایک شاعر کو پڑھنا نہیں؛ اپنے اندر موجود سوئے ہوئے انسان کو آواز دینا ہے۔

اور شاید ایک سچے صاحبِ قلم کے لئے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں کہ اس کے بعد قاری کتاب بند کرے، مگر اس کے اندر موجود سوال بند نہ ہو۔

پیام اعظمی کا اصل پیام شاید یہی ہے: لفظ وہی زندہ ہے جو انسان کو اس کے ضمیر سے ملا دے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha