بدھ 30 ستمبر 2026 - 15:04
علامہ محمد تقی جعفری کی زندگی کا سبق آموز واقعہ؛ تقویٰ اور ولایت کی جھلک

حوزہ/ آیت اللہ علامہ محمد تقی جعفریؒ کی زندگی میں پیش آنے والا ایک سبق آموز واقعہ تقویٰ، نفس پر قابو اور اہل بیتؑ سے محبت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے جوانی میں ایک ایسے مکاشفے کا ذکر کیا جسے وہ اپنی زندگی کے اہم روحانی واقعات میں شمار کرتے تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ محمد تقی جعفریؒ نے نقل کیا کہ حوزہ علمیہ تبریز میں داخل ہونے سے ایک سال قبل انہوں نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے اپنے ہاتھوں سے انہیں دودھ کا پیالہ دیا اور انہوں نے اسے پی لیا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ یہ کس کا ہاتھ تھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا ہاتھ تھا۔

علامہ جعفریؒ نے اپنی طالب علمی کے زمانے کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نجف اشرف میں ایک سال شدید گرمی پڑی اور گرمی کی شدت سے کئی افراد کی موت بھی واقع ہوئی۔ ان کا حجرہ بھی اتنا گرم تھا کہ وہاں رہنا مشکل تھا، اس لیے وہ اپنے دوستوں کے حجرے میں وقت گزارتے تھے۔

ایک رات طلبہ جمع تھے۔ ایک طالب علم شیخ حیدر علی نے ایک اخبار کا ٹکڑا نکالا جس پر ایک خوبصورت خاتون کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ انہوں نے حاضرین سے مذاقاً پوچھا کہ اگر کسی کو اختیار دیا جائے کہ وہ اس خاتون کے ساتھ ایک ہزار سال شرعی اور قانونی زندگی گزارے یا صرف ایک مرتبہ حضرت علیؑ کا دیدار کرے تو وہ کیا انتخاب کرے گا؟

کچھ طلبہ نے دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ جب علامہ جعفریؒ کی باری آئی اور انہوں نے تصویر دیکھنے کے لیے ہاتھ میں لی تو اچانک ان کا چہرہ دوسری طرف ہوگیا۔ وہ فوراً اٹھ کر اپنے حجرے میں چلے گئے

علامہ جعفریؒ کے مطابق، حجرے میں بیٹھے ہوئے انہوں نے اچانک اپنے سامنے ایک شخص کو دیکھا اور ایک نوجوان کو بھی قریب پایا۔ انہوں نے نوجوان سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ جواب ملا: ’’خود امیرالمؤمنین علیؑ ہیں۔‘‘

علامہ جعفریؒ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت علیؑ کے چہرے میں ان تمام اوصاف کو دیکھا جو روایات میں آپؑ کے حلیے کے بارے میں بیان ہوئے ہیں۔ کچھ دیر بعد جب انہیں ہوش آیا تو خود کو حجرے میں تنہا پایا۔

وہ دوبارہ طلبہ کے پاس گئے اور وہاں موجود افراد نے ان کے بدلے ہوئے چہرے اور حالت کو دیکھ کر وجہ پوچھی۔ علامہ جعفریؒ نے واقعہ بیان کیا تو تمام طلبہ متاثر ہوئے اور اخبار کی تصویر کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔

اس واقعے کے بعد سید اسماعیل نے شیخ حیدر علی سے کہا کہ آئندہ اس طرح کا مذاق نہ کریں، کیونکہ ہم اس امتحان میں ناکام ہوگئے۔

علامہ جعفریؒ نے مزید بتایا کہ نجف کی شدید گرمی میں طلبہ رات کو پانی میں جسم کا کچھ حصہ ڈبو کر اور چراغ کی روشنی میں صبح تک مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کے دیدار کے بعد جب وہ کتابیں کھولتے تو انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ ان مطالب کو پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔

ماخذ: کتاب ’’یاد یار؛ 160 خاطرات از استاد علامہ جعفری‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha