تحریر: ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے تقریباً ایک صدی قبل ایک ایسا خواب دیکھا تھا جس کی معنویت آج عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں مزید نمایاں ہو رہی ہے۔
انہوں نے اپنی نظم ’’جمعیتِ اقوامِ مشرق‘‘ میں فرمایا تھا:
پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی مسخر
کیا ہو جو نگاہِ فلک پیر بدل جائے
دیکھا ہے ملوکیتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے
طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
یہ اشعار علامہ اقبالؒ کے مجموعۂ کلام ’’ضربِ کلیم‘‘ میں شامل ہیں، جو 1936ء میں شائع ہوا۔ اس وقت ایران میں نہ انقلابِ اسلامی آیا تھا، نہ امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی حکومت قائم ہوئی تھی، بلکہ ایران شاہی نظام کے زیرِ اثر تھا۔ ایسے حالات میں اقبالؒ کا تہران کو عالمِ مشرق کا جنیوا بنانے کا خواب دیکھنا یقیناً ان کی سیاسی بصیرت، فکری وسعت اور مستقبل بینی کا مظہر تھا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقبالؒ نے تہران ہی کو کیوں منتخب کیا؟ اس وقت ایران میں ایسی کون سی خصوصیت موجود تھی جس کی بنیاد پر وہ اسے عالمِ مشرق کے مستقبل کا مرکز سمجھ رہے تھے؟
اس سوال کا جواب محض اس زمانے کی ایرانی حکومت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے اقبالؒ کے تصورِ امت، مشرقی اقوام کی آزادی، اسلامی اتحاد اور مغربی استعمار کے خلاف ان کی فکری جدوجہد کو سمجھنا ضروری ہے۔
اقبالؒ کا خواب کسی ایک ملک کی سیاسی برتری کا خواب نہیں تھا، بلکہ وہ مشرقی اقوام کو ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد دیکھنا چاہتے تھے جہاں ان کے مسائل کا حل ان کے اپنے اجتماعی شعور، خودمختاری اور باہمی تعاون سے نکلے۔ جنیوا اس زمانے میں عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں کا اہم مرکز تھا۔ اقبالؒ چاہتے تھے کہ مشرقی اقوام کا بھی ایسا مرکز ہو جو مغربی طاقتوں کے زیرِ اثر عالمی نظام کا متبادل بن سکے۔
1.انقلابِ اسلامی ایران: اقبالؒ کے خواب کی ایک نئی تعبیر
1979ء میں امام خمینیؒ کی قیادت میں ایران میں انقلابِ اسلامی کامیاب ہوا۔ یہ انقلاب محض ایک بادشاہت کے خاتمے اور نئی حکومت کے قیام کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس نے عالمی سیاست میں ایک نئی فکری اور نظریاتی بحث کو جنم دیا۔
ایران نے اپنے نئے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں، سیاسی خودمختاری اور استعماری مداخلت کی مخالفت پر رکھی۔ انقلاب کے قائدین نے مظلوم اقوام کی حمایت، فلسطین کے مسئلے اور عالمی استکبار کے مقابلے کو اپنی خارجہ پالیسی کے نمایاں موضوعات میں شامل کیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب علامہ اقبالؒ کا تہران سے وابستہ خواب ایک نئے تاریخی تناظر میں دیکھا جانے لگا۔
انقلابِ اسلامی ایران نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کسی قوم کی سیاسی تقدیر لازماً عالمی طاقتوں کی مرضی سے متعین نہیں ہوتی۔ کوئی قوم اپنے نظریے، اجتماعی ارادے اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو تو وہ عالمی سیاست میں اپنا مستقل مقام بنا سکتی ہے۔
2.عالمی استعمار کی مخالفت اور آٹھ سالہ جنگ
انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران کو مختلف نوعیت کے سیاسی، اقتصادی اور عسکری دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 1980ء میں عراق کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کی گئی، جو تقریباً آٹھ سال تک جاری رہی اور 1988ء میں جنگ بندی پر منتج ہوئی۔
یہ جنگ ایران کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن مرحلہ تھی۔ ایران کو نہ صرف ایک طویل عسکری محاذ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس دوران اسے بین الاقوامی تنہائی، اسلحے کی فراہمی میں مشکلات اور اقتصادی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی جانب سے ایران پر وسیع اقتصادی اور مالی پابندیاں عائد کی جاتی رہیں۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت، تجارت، بینکاری اور عوامی زندگی کو متاثر کیا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے سیاسی نظام کو برقرار رکھا اور دفاعی، سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش جاری رکھی۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ایران کی تاریخ انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ، مزاحمت، مشکلات اور داخلی چیلنجوں کی تاریخ بھی ہے۔ اس کے باوجود اس کا عالمی سیاست میں ایک اہم فریق کے طور پر برقرار رہنا قابلِ توجہ ہے۔
3.مظلوموں کی حمایت اور فلسطین کا مسئلہ
انقلابِ اسلامی ایران کے بنیادی نظریاتی نعروں میں مظلوموں کی حمایت اور ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔
فلسطین کا مسئلہ ایرانی انقلاب کی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران نے فلسطینی عوام اور فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا۔ اس پالیسی پر عالمی سطح پر مختلف آرا اور اعتراضات بھی موجود ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فلسطین کا مسئلہ ایران کی علاقائی اور عالمی سیاست کا ایک مرکزی موضوع رہا ہے۔
امام خمینیؒ نے یومِ القدس کا تصور پیش کرکے فلسطین کے مسئلے کو محض عرب دنیا یا کسی ایک خطے کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے پوری امتِ مسلمہ اور انسانی ضمیر کا مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی۔
یہاں انقلابِ اسلامی کا ایک اہم نظریاتی پہلو سامنے آتا ہے کہ اس نے اپنی سیاست کو صرف قومی سرحدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عالمِ اسلام اور مظلوم اقوام کے مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی۔
4. قیادت، استقامت اور نظریاتی تسلسل
انقلابِ اسلامی ایران کی تاریخ میں امام خمینیؒ کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا دور بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے طویل عرصے تک ایران کی قیادت کی اور مختلف داخلی و خارجی بحرانوں کے دوران اسلامی جمہوریہ کے سیاسی اور ادارہ جاتی تسلسل کو برقرار رکھا۔
ان کی قیادت میں ایران نے دفاعی خودانحصاری، علاقائی اثرورسوخ، سائنسی ترقی اور عالمی سفارت کاری کے میدانوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی انقلاب کی کامیابی صرف اس کے ابتدائی دنوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کی اصل آزمائش آنے والے عشروں میں ہوتی ہے۔ سیاسی دباؤ، اقتصادی پابندیوں، جنگوں اور داخلی اختلافات کے باوجود کسی نظام کا قائم رہنا اس کے تاریخی سفر کا ایک اہم پہلو ہوتا ہے۔
5.بارہ روزہ جنگ سے چالیس روزہ جنگ تک: ایران کا نیا امتحان
حالیہ برسوں میں ایران کو ایک مرتبہ پھر براہِ راست عسکری تصادم اور غیر معمولی عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ جون 2025ء کی بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کو تبدیل کیا، جبکہ 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایک زیادہ وسیع اور طویل جنگی صورتِ حال پیدا ہوئی۔
اس جنگ کے ابتدائی چالیس دن اور اس کے بعد کے مراحل نے ایران کے سیاسی، عسکری اور سفارتی نظام کو ایک سخت امتحان سے گزارا۔
اس دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای، بعض اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کی شہادت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ عام شہریوں اور تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصانات نے بھی انسانی بحران کو مزید سنگین بنایا۔
ایران کے مخالفین کی جانب سے اس عسکری کارروائی کے مقاصد میں اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور اس کی قیادت و نظام کو کمزور کرنا شامل بتائے گئے۔ دوسری طرف ایرانی قیادت نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور سیاسی نظام کے خلاف جارحیت قرار دیا۔
تاہم جنگ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ شدید عسکری دباؤ کے باوجود ایران نے ہتھیار ڈالنے یا اپنی سیاسی خودمختاری سے دستبردار ہونے کا اعلان نہیں کیا، بلکہ جوابی کارروائی اور سفارتی مزاحمت دونوں راستے اختیار کیے۔
یہاں مزاحمت کا مفہوم صرف عسکری طاقت نہیں، بلکہ قومی خودمختاری، سیاسی ارادے اور اپنے مؤقف کے دفاع کی صلاحیت بھی ہے۔
6. آبنائے ہرمز: علاقائی تنازع سے عالمی معیشت تک
حالیہ جنگ میں آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
جنگ سے پہلے اس راستے سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار منتقل ہوتی تھی۔ لیکن جنگ کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی آمدورفت محدود کرنے اور اس کے نتیجے میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایران جغرافیائی اعتبار سے ایسی اہم پوزیشن رکھتا ہے جسے عالمی طاقتیں نظرانداز نہیں کر سکتیں۔
امریکی ناکہ بندی، ایرانی شرائط اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے معاملے پر اختلافات کے باوجود مختلف ممالک کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ قطر اور دیگر ثالثوں کی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کے باوجود مذاکرات کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔
7.ایران: مادی طاقت اور معنوی قوت
ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ستمبر 2026ء میں اپنے ایک پیغام میں ایران کی عالمی حیثیت کے بارے میں کہا کہ بعض لوگ اسے دنیا کی چوتھی بڑی طاقت سمجھتے ہیں، لیکن الٰہی پیمانوں کے مطابق ایران دنیا کی پہلی طاقت ہے۔
اس بیان کو مادی اور معنوی قوت کے فرق کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔
مادی طاقت کا تعلق معیشت، فوج، ٹیکنالوجی، صنعت اور عالمی اثرورسوخ سے ہے، جبکہ معنوی قوت کا تعلق نظریے، قومی عزم، فکری استقلال، اخلاقی اقدار اور اجتماعی حوصلے سے ہے۔
ایران کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے نظریاتی دعووں کو عوامی فلاح، معاشی استحکام، علمی ترقی، عدل و انصاف اور مظلوموں کی حقیقی حمایت میں کس حد تک تبدیل کر پاتا ہے۔
8. اقبالؒ کا خواب اور آج کا عالمی منظرنامہ
آج عالمی سیاست ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانے طاقت کے مراکز کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں عالمی طاقتوں کے کردار، خودمختاری، معاشی انصاف اور نئے عالمی نظام کے بارے میں بحث جاری ہے۔
ایسے ماحول میں علامہ اقبالؒ کا یہ خواب مزید اہم ہو جاتا ہے کہ مشرقی اقوام کو اپنا ایک ایسا مشترکہ مرکز قائم کرنا چاہیے جہاں وہ اپنے مسائل پر آزادانہ غور و فکر کر سکیں اور عالمی معاملات میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
البتہ اقبالؒ کے تصور کو صرف ایران یا کسی ایک ملک کی بالادستی تک محدود کرنا ان کے پیغام کی وسعت کو کم کرنا ہوگا۔ ان کا اصل پیغام اتحاد، خودی، آزادی، اجتماعی شعور اور امت کی بیداری تھا۔
آج دنیا کو ایسے ہی ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں ایران، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، عراق اور دیگر مشرقی ممالک اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مسائل کا حل تلاش کر سکیں۔
اختتامیہ
علامہ اقبالؒ نے 1935ء کے لگ بھگ جس تہران کا خواب دیکھا تھا، وہ اس وقت کی شاہی حکومت کا تہران نہیں بلکہ مستقبل کی آزاد، خودمختار اور بیدار مشرقی اقوام کا ایک علامتی مرکز تھا۔
1979ء کا انقلابِ اسلامی ایران اس خواب کی ایک نئی تعبیر بن کر سامنے آیا۔ اس کے بعد ایران نے جنگ، پابندیوں، سیاسی دباؤ اور علاقائی تنازعات کے باوجود عالمی سیاست میں اپنا مقام برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
حالیہ جنگ نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت نمایاں کی ہے کہ عالمی اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں ایران کو نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ تاہم کسی ملک کی حقیقی عظمت صرف جنگی صلاحیت یا عالمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانے سے نہیں، بلکہ عدل، علم، عوامی خوش حالی، انسانی وقار اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ سے بھی متعین ہوتی ہے۔
اقبالؒ کا خواب دراصل کسی ایک دارالحکومت کی عظمت کا نہیں بلکہ پوری مشرقی دنیا کی بیداری اور خودمختاری کا خواب تھا۔
اسی لیے آج بھی ان کا یہ شعر صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور مشرقی اقوام کے لیے ایک پیغام ہے:
طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے










آپ کا تبصرہ