ترجمہ و ترتیب: مولانا فرمان علی سعیدی شگری
حوزہ نیوز ایجنسی| ڈاکٹر ایناس زکریا کا سورۂ انبیاء کے بارے میں ایک نہایت عمدہ مضمون، جو واقعی قابلِ تحسین ہے۔جب اللہ تعالیٰ آپ کی تقدیر بدلنے سے پہلے آپ کے دل کی تربیت کرتا ہے۔
قرآنِ کریم کی بعض سورتیں آپ کو احکام سکھاتی ہیں اور بعض عقیدے کی وضاحت کرتی ہیں۔
لیکن سورۂ انبیاء ایک بالکل مختلف کام کرتی ہے۔ یہ سب سے پہلے آپ کے ذہن سے خطاب نہیں کرتی، بلکہ آپ کے دل کے پاس بیٹھ کر آہستہ سے کہتی ہے: اطمینان رکھو! تم جن حالات سے گزر رہے ہو، ان سے بہتر لوگ بھی گزر چکے ہیں، اور ان کی زندگی کا اختتام ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہوا۔
پہلی کنجی: اس سورت میں کسی نبی کی آزمائش آسان نہیں تھی۔
اگر آپ سورۂ انبیاء پر غور کریں تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔
اس سورت میں ہر نبی ایک الگ درد اور آزمائش سے دوچار نظر آتا ہے۔ کسی کی قوم اس کی مخالفت کرتی ہے، کوئی مچھلی کے پیٹ میں چلا جاتا ہے، کوئی بیماری سے نڈھال ہے، کسی کو تنہائی کا درد ستاتا ہے، کوئی بڑھاپے میں اولاد کا منتظر ہے، اور کوئی ایک ظالم و جابر بادشاہ کا سامنا کر رہا ہے۔
گویا اللہ تعالیٰ ہمیں یہ پیغام دینا چاہتا ہے:
آزمائش اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے ناراض ہے، بلکہ یہ وہ راستہ ہے جس پر میرے محبوب ترین بندے بھی چلے ہیں۔ لہٰذا اس راستے پر چلنے سے حیران نہ ہو جس پر انبیائے کرام علیہم السلام چل چکے ہیں۔
دوسری کنجی: ہر نبی کی دعا اس کے زخم کے مطابق تھی.
انبیائے کرام علیہم السلام کی دعائیں ایک جیسی نہیں تھیں، بلکہ ہر نبی نے اپنے حال اور کیفیت کے مطابق اللہ تعالیٰ سے عرض کیا۔
حضرت یونس علیہ السلام نے صرف یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب! مجھے نجات عطا فرما، بلکہ انہوں نے اپنی بندگی کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کیا:"لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔"ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔(سورۂ انبیاء، آیت 87)
کیونکہ انہوں نے یہ حقیقت پہچان لی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے سے پہلے اپنی بندگی اور اس کی عظمت کا اعتراف کرنا بھی دعا کی روح ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی بیماری کی تفصیلات بیان نہیں کیں، بلکہ صرف اتنا عرض کیا:"أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ۔"
ترجمہ: مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔(سورۂ انبیاء، آیت 83)
انہوں نے علاج کی کوئی خاص صورت متعین نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اپنا تعلق مضبوط رکھا۔
حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی عمر کے بڑھ جانے کی شکایت نہیں کی، بلکہ عرض کیا:"رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ۔"ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔(سورۂ انبیاء، آیت 89)
کیونکہ مومن صرف کسی چیز کا طلب گار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس چیز میں خیر اور بھلائی کا بھی طالب ہوتا ہے۔
تیسری کنجی: اللہ تعالیٰ نے قصوں کا اختتام کامیابی کے ذکر سے نہیں، بلکہ دعا کی قبولیت سے کیا۔
ان الفاظ کی تکرار پر غور کیجیے:"فَاسْتَجَبْنَا لَهُ۔"
ترجمہ: پس ہم نے اس کی دعا قبول کر لی۔
یہ الفاظ بار بار آتے ہیں، گویا سورۂ انبیاء آپ کو صرف انبیائے کرام علیہم السلام کے نام یاد نہیں کروانا چاہتی، بلکہ ایک اٹل حقیقت ذہن نشین کروانا چاہتی ہے:ہر وہ دعا جو سچے دل سے نکلتی ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے ایک مقررہ وقت سے وابستہ ہوتی ہے۔
ممکن ہے وہ وقت نہ ہو جو آپ چاہتے ہیں، لیکن وہ وقت ضرور ہو سکتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ کے لیے بھلائی جانتا ہے۔
چوتھی کنجی: سب سے بڑی معجزہ نما حقیقت دلوں کی اصلاح تھی.
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت صرف اس وجہ سے نہیں تھی کہ آگ انہیں جلا نہ سکی، بلکہ ان کی عظمت یہ بھی تھی کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے تھے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی عظمت صرف اس وجہ سے نہیں تھی کہ وہ بیماری سے شفا یاب ہوگئے، بلکہ اس میں بھی تھی کہ تکلیف کے باوجود انہوں نے اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن نہیں چھوڑا۔
حضرت یونس علیہ السلام کی کامیابی صرف اس وجہ سے نہیں تھی کہ وہ مچھلی کے پیٹ سے باہر آگئے، بلکہ اس میں بھی تھی کہ وہ باہر نکلنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرچکے تھے۔
حقیقی معجزہ یہ ہے کہ آزمائش کے عین درمیان بھی آپ کا دل زندہ رہے، آپ کا ایمان قائم رہے اور آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق برقرار رہے۔
پانچویں کنجی: تمام انبیاء کے پاس ایک چیز مشترک تھی اور وہ تھی امید۔
انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات ایک جیسے نہیں تھے۔ ان کی عمریں مختلف تھیں، ان کے مقامات مختلف تھے اور ان کی آزمائشیں بھی مختلف تھیں؛ لیکن ایک چیز ان سب میں مشترک تھی: انہوں نے آسمان کی طرف کھلنے والا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔
جب بھی زمین تنگ ہوئی، دعاؤں کے دامن وسیع ہوگئے۔
سورت کا ایک پوشیدہ راز.
غور کیجیے کہ اکثر مواقع پر کشادگی اس وقت آئی جب انسانی تدبیروں کے تمام راستے ختم ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں تھے، حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے، حضرت زکریا علیہ السلام انتہائی ضعیف العمر ہوچکے تھے، حضرت مریم علیہا السلام کے پاس کوئی مددگار نہ تھا اور حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بہت سی نعمتیں کھو چکے تھے۔
گویا اللہ تعالیٰ یہ پیغام دے رہا ہے:جب تمہاری قدرت اور طاقت ختم ہونے لگتی ہے، تو تمہاری آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
وہ پیغام جس پر شاید ہماری توجہ نہیں جاتی.
سورۂ انبیاء کا موضوع صرف انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ اس کا ایک بنیادی پیغام خود اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا لطف، اس کی دعا سننے کی صفت اور اس کا اپنے بندوں سے قرب بھی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعات میں دعا کی قبولیت کا ذکر فرمایا، تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ اصل سہارا اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے.
لہٰذا اگر کشادگی میں تاخیر ہو تو مایوس نہ ہوں، اگر غم بڑھ جائیں تو اپنے ہاتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اٹھائیں، اور اگر تنہائی محسوس ہو تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو تنہا نہیں چھوڑا۔
اور اگر کبھی ایسا محسوس ہو کہ زندگی کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں، تو سورۂ انبیاء کی تلاوت کیجیے، تاکہ آپ کو یاد آئے کہ اللہ تعالیٰ ان مقامات سے بھی نئی شروعات پیدا کرسکتا ہے جہاں لوگوں کو صرف اختتام دکھائی دیتا ہے۔
آپ نبی تو نہیں ہیں، لیکن انبیاء کے رب کی عبادت کرتے ہیں۔
وہی اللہ جس نے تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی، برسوں کی بیماری کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام کو راحت عطا فرمائی اور بڑھاپے میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔
وہی اللہ آج بھی آپ کی دعا سن رہا ہے۔
پس اس آنسو کو معمولی نہ سمجھیے جو آپ نے اس کے حضور بہایا، اور اس دعا کو حقیر نہ جانیے جسے آپ نے خاموشی سے صرف اپنے اور اپنے رب کے درمیان رکھا۔
ممکن ہے آج رات آپ کے دل سے نکلنے والا ایک ہی جملہ آپ کی زندگی میں اس نئی داستان کا آغاز بن جائے جس کا عنوان ہو:"فَاسْتَجَبْنَا لَهُ۔"ترجمہ: پس ہم نے اس کی دعا قبول کر لی۔
اور اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:"إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ۔"ترجمہ: بے شک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے، اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔(سورۂ انبیاء، آیت 90)










آپ کا تبصرہ