تحریر: ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری
رہنامہ چالیس جلدوں پر مشتمل ایک اہم فکری، تربیتی اور اسلامی مجموعہ ہے، جس کا مقصد اسلامِ نابِ محمدیؐ کے بنیادی عقائد، اصولوں، اقدار اور تعلیمات کو عصرِ حاضر کی ضروریات، سوالات اور چیلنجوں کے تناظر میں بیان کرنا ہے۔ یہ مجموعہ بالخصوص نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی، روحانی اور انقلابی تربیت کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔
مجموعۂ چالیس جلدی «رہنامہ» رہبرِ شہیدِ انقلاب کے ان بیانات کا حاصل ہے جو آپ نے برسوں کے دوران معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ متعدد ملاقاتوں اور مختلف نشستوں میں ارشاد فرمائے۔ اس مجموعے میں رہبرِ معظم و شہیدِ انقلاب کے افکار و نظریات کی روشنی میں ایک مؤمن اور انقلابی نوجوان کی فکر، کردار اور طرزِ زندگی کے خدوخال پیش کیے گئے ہیں۔
تعارف
رہنامہ میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے افکار، نظریات اور بصیرت افروز رہنمائی سے استفادہ کرتے ہوئے ایک مؤمن، باشعور، باعمل اور انقلابی نوجوان کی شخصیت اور طرزِ زندگی کی تشکیل پر توجہ دی گئی ہے۔ اس مجموعے میں اسلامی تعلیمات کو محض نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ انہیں فرد کی عملی زندگی، معاشرتی ذمہ داریوں اور اجتماعی ترقی سے مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس مجموعے کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو ایمان، علم، تقویٰ، بصیرت، خود اعتمادی اور احساسِ ذمہ داری سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی اصولوں کو اپناتے ہوئے معاشرے کی اصلاح اور ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
رہنامہ کا فکری و تربیتی سفر خودسازی، معاشرہ سازی اور تمدن سازی کے مراحل پر مشتمل ہے۔ خودسازی کے ذریعے انسان اپنی شخصیت، اخلاق اور کردار کو سنوارتا ہے؛ معاشرہ سازی کے ذریعے ایک صالح، عادل اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے؛ اور تمدن سازی کے ذریعے اسلامی اقدار اور اصولوں پر مبنی ایک ترقی یافتہ تہذیب کے قیام کی کوشش کرتا ہے۔
مزید برآں، یہ مجموعہ نوجوانوں کو حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کی تیاری کی جانب متوجہ کرتا ہے اور انہیں اس عظیم مقصد کے لیے فکری، اخلاقی، روحانی اور عملی طور پر آمادہ ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
مختصراً، رہنامہ کی چالیس جلدیں نوجوان نسل کے لیے ایک فکری و تربیتی رہنما ہیں، جو انہیں اسلامی شناخت، انقلابی شعور اور عملی ذمہ داریوں سے آشنا کرتے ہوئے خودسازی سے تمدن سازی اور آمادگیِ ظہور تک کے سفر میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
مجموعۂ رہنامہ، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رحمۃ اللہ علیہ) کے افکار پر تکیہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی آیات اور معصومین علیہم السلام کی احادیث سے بھی استفادہ کرتا ہے، جس سے اس کے علمی و فکری مضامین کی گہرائی اور وسعت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس مجموعے کے موضوعات ایک مؤمن اور صاحبِ فکر نوجوان کی صلاحیتوں، مقام اور حالات پر غور و فکر سے شروع ہوتے ہیں اور ایک منطقی ترتیب کے ساتھ اعتقادی مسائل، سماجی امور، طرزِ زندگی، تربیتی و اخلاقی مباحث، سیاسی موضوعات اور انقلابی افکار کے مختلف پہلوؤں تک پہنچتے ہیں۔
اس طرح یہ مجموعہ انقلابِ اسلامی کے نظری اور عملی افکار کا ایک جامع خاکہ پیش کرتے ہوئے اپنے قارئین کی علمی و عملی ترقی اور فکری ارتقا کے عمل کو آسان اور تیز تر بناتا ہے۔
رہنامہ ۱ — نوجوان
رہنامہ کا مقصد نوجوانوں کو ایمان، علم، بصیرت، اخلاق اور انقلابی شعور سے آراستہ کرنا اور انہیں ایک طویل، بلند اور شاندار سفر میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ یہ سفر خودسازی سے شروع ہوتا ہے، معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے مراحل سے گزرتا ہے اور تہذیب سازی تک پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مجموعہ نوجوانوں کو ظہورِ امام مہدیؑ کی تیاری کے لیے فکری، اخلاقی اور عملی طور پر آمادہ ہونے کی دعوت بھی دیتا ہے
مختلف مناسبتوں اور ملاقاتوں میں آپ نے سیاسی میدان سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی طرزِ فکر اور اس کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مختلف طبقات کو واضح اور قابلِ عمل رہنمائی فراہم کی ہے۔ ان ملاقاتوں میں طلبہ، بسیجیوں، کھلاڑیوں، فنکاروں، حکام، مسلح افواج کے اہلکاروں، مختلف شہروں کے عوام، مداحانِ اہلِ بیتؑ اور دیگر طبقات سے ہونے والی ملاقاتیں شامل ہیں۔
مجموعۂ رہنامہ میں ان بیانات کو موضوعاتی انداز میں جمع اور مرتب کیا گیا ہے، جس کے ذریعے آج کے ایران کے بیشتر اہم مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں سیاسی، دینی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور دیگر پہلوؤں سے اسلامی معاشرے کی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں رہبرِ انقلاب کے طرزِ فکر کو بیان کیا گیا ہے۔
ہمیں مجموعۂ رہنامہ کا مطالعہ کیوں کرنا چاہیے؟
رہنامہ محض پڑھنے، زیادہ سے زیادہ نوٹس لینے یا مط الب کو یاد کرنے کے لیے مرتب نہیں کیا گیا، بلکہ یہ بنیادی اور اہم تصورات پر غور و فکر کرنے اور ان عملی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا ایک فکری و تربیتی مجموعہ ہے جو اس کے قارئین اور مخاطبین سے متعلق ہیں۔ رہنامہ، انقلابِ اسلامی کے بنیادی اصولوں اور اقدار کو ایک جامع نظامِ فکر اور اجتماعی گفتمان کی حیثیت سے گہرائی کے ساتھ سمجھنے اور ان سے قلبی و عملی وابستگی پیدا کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
یہ مجموعہ ایرانی عوام کے شاندار انقلابِ اسلامی کے دوسرے مرحلے کے اعلامیے کو سمجھنے اور اس کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم اور بنیادی قدم ہے۔
مجموعۂ رہنامہ کن لوگوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے؟
انقلابِ اسلامی کا دوسرا مرحلہ، ایرانی قوم اور بالخصوص نوجوانوں کے نام ایک نئے آغاز کا پیغام ہے، جو خودسازی، معاشرہ سازی اور تمدن سازی کے دوسرے مرحلے کے لیے ایک جامع منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ انقلاب کا یہ دوسرا مرحلہ، اسلامی تہذیبِ نو کے قیام اور ولایتِ عظمیٰ (ارواحنا فداہ) کے آفتابِ ظہور کی تیاری جیسے عظیم اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت کا ذریعہ ہے۔
مجموعۂ رہنامہ اپنی چالیس جلدوں میں ایک مؤمن، باشعور، صاحبِ علم اور انقلابی نوجوان کی اس طویل اور شاندار سفر میں رہنمائی کرتا ہے جو خودسازی سے شروع ہو کر معاشرہ سازی، تمدن سازی اور ظہورِ امام مہدیؑ کی تیاری تک پہنچتا ہے۔
غیر فارمیٹ شدہ متن یہاں رکھیں
مجموعۂ چالیس جلدی «رہنامہ» کی جلدوں کے عنوانات
مجموعۂ چالیس جلدی «رہنامہ» کی تمام جلدوں کے فارسی عنوانات کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
1۔ روشنفکری ، روشن فکری
2۔ فلسطین
3۔ بصیرت ، بصیرت و آگاہی
4۔نبوت، نبوت
5۔سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینی (قدّسسرّه) ، امام خمینیؒ
6۔ رسانه و فضای مجازی ، ذرائع ابلاغ اور مجازی دنیا
7۔ اسلام ناب و اسلام آمریکایی ، اسلامِ ناب اور امریکی اسلام
8۔ دشمنشناسی ،دشمن شناسی
9۔ علم و فناوری، علم و ٹیکنالوجی
10۔ مهدویت ، مہدویت (امام مہدیؑ پر ایمان و اعتقاد)
11۔ حوزه و روحانیت، حوزۂ علمیہ اور روحانیت
12۔کار و تلاش ، کام اور جدوجہد
13۔هنر، فن و ہنر
14۔ سلامت و ورزش ، صحت اور ورزش
15۔ایمان ، ایمان
16۔ آزادی و استقلال ، آزادی اور خودمختاری
17۔غربشناسی ، مغرب شناسی
18۔ انقلاب اسلامی ، انقلابِ اسلامی
19۔ جوان ، نوجوان
20۔ همسرگزینی و همسرداری ، شریکِ حیات کا انتخاب اور ازدواجی زندگی
21۔ نماز، معنویت و مسجد ، نماز، روحانیت اور مسجد
22۔ آرمانگرایی و بسیج ، آرمان پسندی اور بسیج
23۔عاشورا ، عاشورا
24۔ اخلاق و تربیت ، اخلاق اور تربیت
25۔ شهروند تراز انقلاب اسلامی ،انقلابِ اسلامی کا مثالی شہری
26۔ اصولگرایی و اصلاحطلبی ، اصول پسندی اور اصلاح پسندی
27۔زندگی جہاد|جهادی، جہادی طرزِ زندگی
28۔ تمدن نوین اسلامی،اسلامی تہذیبِ نوین
29۔بیداری اسلامی، اسلامی بیداری
30۔ولایت و تشیع ، ولایت اور تشیع
31۔ امامان معصوم (ع) ، ائمۂ معصومینؑ
32۔تفکر، عقلانیت و آزاداندیشی ، تفکر، عقلانیت اور آزاد خیالی
33۔ پیامبر (ص) ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
34۔ زن و خانواده ، عورت اور خاندان
35۔ عدالت ، عدل و انصاف
36۔ ولایت فقیه، ولایتِ فقیہ
37۔ هویت ملی، قومی شناخت
38۔ قرآن ،قرآنِ کریم
39۔توحید ، توحید
40۔دین، دنیا، آخرت ، دین، دنیا اور آخرت
مجموعۂ چالیس جلدی رہنامہ سے ایک اقتباس
آج خوش قسمتی سے امتِ اسلامی کے درمیان ایسے اسلامی نعروں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے جو قوموں میں حرکت اور بیداری پیدا کرتے ہیں۔ متعدد ممالک میں یہ نعرے دیکھنے میں آ رہے ہیں اور آپ خود بھی انہیں دیکھتے اور ان کی خبریں سنتے ہیں۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تحریکیں جہاں زیادہ رونق، تازگی اور قوت رکھتی ہیں، جہاں ان کی کارکردگی اور اثر و نفوذ زیادہ ہے، اور جہاں دشمن، منافقین، مخالفین اور فریب کار عناصر سے ان کی تأثیر پذیری کم ہے، وہاں اسلامی نعرے، اسلامی مطالبات اور اسلامی خواہشات نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی قرآنی معارف کی خصوصیت ہے۔ ہمیں قرآنِ کریم سے آشنا ہونا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ