حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 26 ربیع الثانی 1448ھ، بمطابق 9 اکتوبر 2026ء، حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے خطبۂ جمعہ دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے نعمتِ الٰہی، گناہوں سے اجتناب، توبہ و استغفار، امتحانِ الٰہی، شہدائے مقاومت، فلسطین و مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، یمن اور سعودی عرب کے تنازع، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور معاشی مشکلات کے تناظر میں بچت و کفایت شعاری کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
خطبہ اول: نعمتِ الٰہی، توبہ اور امتحانِ الٰہی
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے پہلے خطبے میں مؤمنین کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے، اللہ تعالیٰ کا احترام کرنے اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا: تقویٰ الٰہی کامیابی کا راستہ ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، گناہوں اور امتحانِ الٰہی سے متعلق اپنی سابقہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ان تینوں موضوعات کے باہمی تعلق کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ان کی ضروریات کے مطابق نعمتیں عطا فرماتا ہے، حالانکہ مخلوق اپنی ذاتی حیثیت میں ان نعمتوں کی مستحق نہیں ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل، کرم اور رحمت ہے کہ وہ اپنی مخلوقات پر مسلسل عنایات فرماتا ہے۔ تاہم، انسان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اسی کی نافرمانی میں استعمال کرے۔
توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے توبہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: اگر انسان سے گناہ سرزد ہو جائے اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہو تو اسے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور اپنے بندوں کے لیے مغفرت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ توبہ صرف دل میں ندامت محسوس کرنے کا نام نہیں، بلکہ اگر کسی انسان کا حق تلف کیا گیا ہو یا اس کا مال چھینا گیا ہو تو اس کا حق واپس کرنا اور اس سے معافی طلب کرنا بھی توبہ کے تقاضوں میں شامل ہے۔
انہوں نے شبِ جمعہ، روزِ جمعہ، شبِ قدر، ماہِ رمضان، میدانِ عرفات، حج اور عمرے جیسے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ اوقات اور مواقع انسان کو اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے، مغفرت طلب کرنے اور اپنی زندگی کی اصلاح کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
انہوں نے اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت اور ان پر درود بھیجنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا: اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل، دین کی خدمت اور لوگوں کی صحیح رہنمائی مؤمن کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔
امتحانِ الٰہی مؤمن کے درجات کی بلندی کا ذریعہ
خطبے کے اہم حصے میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے امتحانِ الٰہی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: امتحان انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔ دنیاوی زندگی میں تعلیم، ملازمت اور مختلف ذمہ داریوں کے لیے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی انسان کو مختلف حالات کے ذریعے آزماتا ہے۔
انہوں نے قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیا جن میں خوف، بھوک، مال و جان اور ثمرات میں کمی کے ذریعے آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے اور صبر کرنے والوں کے لیے بشارت بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: انسان کی زندگی میں آنے والی مشکلات اور آزمائشیں بعض اوقات اس کے درجات کی بلندی اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا ذریعہ بنتی ہیں۔
علامہ شبیر میثمی نے وضاحت کی کہ مصیبت پیش آنے پر مؤمن کو مایوسی کے بجائے صبر، دعا اور خود احتسابی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انسان اپنے اعمال کا جائزہ لے، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔
انہوں نے کہا: اگر گناہ سرزد ہو جائے تو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ گناہ کے بعد توبہ اور اصلاح کی طرف پلٹنا ضروری ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کی محبت اور مغفرت پر یقین کو گناہوں کے ارتکاب کا جواز بھی نہیں بنانا چاہیے۔
گناہ گاروں کے ساتھ تحقیر آمیز رویے سے اجتناب
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے معاشرتی رویوں کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا: کسی گناہ گار انسان کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے اور نہ ہی اس کے لیے توبہ و اصلاح کے دروازے بند کرنے چاہییں۔ انسان کو اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بارش کی دعا اور ایک گناہ گار شخص کی توبہ سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی اور رحمت کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے عیوب پر پردہ رکھتا ہے، لہٰذا انسانوں کو بھی دوسروں کی عزت و آبرو کا خیال رکھنا چاہیے۔
خطیب جمعہ نے مزید کہا: مصیبت اور آزمائش کے وقت درود شریف پڑھنا، دعا کرنا، سجدے میں جا کر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا اور اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لینا مؤمن کے لیے مفید طرزِ عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامیدی درست نہیں، بلکہ امید اور خوف کے درمیان رہتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
خطبے کے اختتام پر انہوں نے مؤمنین کو نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے درست طور پر استفادہ کریں، ان کا شکر ادا کریں، گناہوں سے بچیں اور اگر لغزش ہو جائے تو فوراً توبہ کریں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ زمانے کے امام حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔
خطبہ ثانی: شہدائے مقاومت، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال
دوسرے خطبے میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے تقویٰ الٰہی کی تاکید کے بعد شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: ان شہداء نے مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت کی اور اپنی قربانیوں کے ذریعے اس راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جس کی مثال تاریخِ اسلام میں شہدائے کربلا کی قربانیوں سے ملتی ہے۔
انہوں نے 7 اکتوبر کے واقعات اور اس کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان، عراق، ایران و عراق جنگ، لیبیا، یمن، لبنان، فلسطین، شام اور کویت سمیت مختلف خطوں میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں، بچوں اور خواتین کی مشکلات اور عام شہریوں کی تکالیف پر تشویش کا اظہار کیا۔
علامہ میثمی نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں اور خطے میں جاری تنازعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا: عالمی معاملات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پس منظر، مفادات اور زمینی حقائق کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعووں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے اور کہا: مختلف خطوں میں انسانی جانوں کے ضیاع اور شہریوں کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یمن اور سعودی عرب کے تنازع کا حل مذاکرات سے نکالا جائے
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازع اور جنگی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ذرائع ابلاغ کی پیش کردہ معلومات کو بلا تحقیق قبول کرنے کے بجائے معاملات کو ان کے تاریخی پس منظر اور حقیقی حالات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا: جنگی تنازعات میں عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کا مقصد کسی ایک فریق کی غیر مشروط حمایت کرنا نہیں بلکہ مظلوموں کی مشکلات کو سمجھنا اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں تنازعات کے حل کی ضرورت اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے سورۂ حجرات کی ان تعلیمات کی طرف توجہ دلائی جن میں دو مسلمان گروہوں کے درمیان اختلاف اور لڑائی کی صورت میں اصلاح اور صلح کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں بھی مکالمے، مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
علامہ میثمی نے حکومتِ پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ مثبت اور مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا: جنگ بندی اور تنازعات کے خاتمے کے لیے کوششیں قابلِ قدر ہیں اور اس عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اسلامی ممالک کے درمیان تنازعات کے حل اور اتحاد کے فروغ کے لیے ایسے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔
انہوں نے مزید کہا: عام شہریوں کی مشکلات کم کرنے، مظلوموں کی حمایت کرنے اور انسانی ہمدردی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر کسی کے لیے عملی طور پر میدان میں نکلنا ممکن نہ ہو تو وہ دعا اور ذمہ دارانہ انداز میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مظلوموں کے حق میں آواز بلند کر سکتا ہے۔
معاشی مشکلات اور بچت کی اہمیت
خطبہ ثانی کے آخری حصے میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں کے تناظر میں عوام کو اپنے وسائل احتیاط سے استعمال کرنے اور بچت کی عادت اپنانے کی نصیحت کی۔
انہوں نے کہا: معاشی حالات کے پیش نظر طویل المدت منصوبہ بندی ضروری ہے اور حکومت کو عوام کی ضروریات، ملکی وسائل اور مستقبل کے چیلنجز کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہییں۔ انہوں نے وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو باہمی اختلافات کم کرنے، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے اور قومی مفادات کو ترجیح دینے کی تلقین کی۔
انہوں نے عوام کو بھی مشورہ دیا کہ اپنی جمع پونجی کے استعمال میں احتیاط کریں اور سرمایہ محفوظ رکھنے کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچیں۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں غیر ضروری اخراجات سے اجتناب اور مالی وسائل کی حفاظت اہم ہے۔
شادی بیاہ میں اسراف سے اجتناب کی تاکید
علامہ میثمی نے معاشرتی اصلاح کے حوالے سے شادی بیاہ کی تقریبات میں اسراف اور غیر شرعی امور سے بچنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا: فضول خرچی سے اجتناب کرنا چاہیے اور شادیوں کو سادگی، دینی اقدار اور اخلاقی حدود کے مطابق منعقد کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: معاشرے میں دینی تعلیمات پر عمل کا آغاز انفرادی اور خاندانی زندگی سے ہونا چاہیے۔ انسان کو اپنے معمولات، اخراجات اور تقریبات میں ایسے طرزِ عمل سے بچنا چاہیے جو دینی اصولوں سے متصادم ہو۔
خطبے کے اختتام پر علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مؤمنین کو تقویٰ الٰہی، توبہ، صبر، خود احتسابی، مظلوموں کی حمایت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور معاشی معاملات میں احتیاط کی تلقین کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قرآن مجید اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے معاشرے میں دینی و اخلاقی اصلاح، باہمی اتحاد اور انسانی ہمدردی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ