جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 18:42
ایامِ فاطمیہ میں تاریخی حقائق کو دلیل کے ساتھ بیان کریں، فرقہ وارانہ کشیدگی سے گریز کیا جائے، علامہ شبیر حسن میثمی

حوزہ / علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ کے دوران کہا: ایامِ فاطمیہ کے دوران حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، فضائل اور تاریخی مظالم کو مستند دلائل اور مثبت انداز میں بیان کیا جائے، طنز و تنقید اور اشتعال انگیز گفتگو سے اجتناب کیا جائے تاکہ دشمن کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے 23 اکتوبر 2026ء، بمطابق 11 جمادی الاول 1448ھ، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایامِ فاطمیہ اہلِ بیت علیہم السلام سے عقیدت و محبت کے اظہار اور سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و مظلومیت کو اجاگر کرنے کے اہم مواقع ہیں۔ ان ایام کو علمی، دینی اور مثبت انداز میں منانا چاہیے اور تاریخی واقعات کو دلائل و شواہد کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے پہلے خطبے میں تقویٰ الٰہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: کامیابی کا راستہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکام کا احترام کرنے میں ہے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے کو بیان کرتے ہوئے قرآن مجید کی متعدد آیات، بالخصوص سورۂ کوثر، آیتِ تطہیر، آیتِ مودت اور آیتِ مباہلہ کی طرف توجہ دلائی اور کہا: قرآن و روایات میں اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت و فضیلت کے متعدد شواہد موجود ہیں۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کو واضح کرتے ہوئے ان سے منسوب تاریخی واقعات پر تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت اور ان کے حقوق سے متعلق تاریخی مباحث کو علمی بنیادوں پر سامنے لانا ضروری ہے، تاہم اس عمل میں غیر ضروری اشتعال انگیزی اور کسی کی توہین سے اجتناب کیا جائے۔

انہوں نے کہا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حوالے سے تاریخی حقائق بیان کرنا ایک علمی و دینی ذمہ داری ہے۔ ان واقعات کو چھپانے کے بجائے مستند حوالوں اور دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے، تاکہ نئی نسل تاریخ سے آگاہ ہو اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بہتر طور پر استفادہ کر سکے۔

پاکستان میں امن و استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے پر زور

دوسرے خطبے میں علامہ شبیر حسن میثمی نے پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ذمہ دار حلقوں کو سنجیدگی، تدبر اور دانش مندی سے کام لینا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے۔

انہوں نے خطے کی صورتِ حال، ایران کے خلاف ممکنہ جارحیت اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: عالمی سیاسی و معاشی حالات کو محض ظاہری واقعات تک محدود ہو کر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ ان کے پس منظر اور وسیع تر اثرات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت متعدد ممالک کی سلامتی اور استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی مفاہمت خطے کے امن کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ملک کو مزید مشکلات سے دوچار کر سکتے ہوں، اور قومی مفادات، علاقائی امن اور مسلم ممالک کے باہمی تعاون کو پیش نظر رکھیں۔

یمن اور فلسطین سمیت خطے کے مسائل پر غیر جانب دارانہ جائزے کی ضرورت

خطیب جمعہ نے یمن کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: کسی بھی تنازعے کا جائزہ لیتے وقت اس کے آغاز، تاریخی پس منظر اور مختلف فریقوں کے کردار کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، یک طرفہ مؤقف اختیار کرنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر معاملات کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے عالمی سیاست اور معیشت میں طاقت ور ممالک کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مسلم ممالک کو اپنی خودمختاری، قدرتی وسائل اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بیدار رہنا چاہیے۔ انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے اور مسلم دنیا کی تقسیم کے تاریخی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے لیے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر جاری سیاسی کشمکش اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے باعث عوام کے لیے حقائق تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا: خبروں اور سیاسی دعوؤں کو تحقیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے، بلکہ معتبر ذرائع سے تصدیق اور ذمہ دارانہ تجزیے کو اہمیت دینی چاہیے۔

شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کی کوششوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل

علامہ شبیر حسن میثمی نے سوشل میڈیا پر شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے والی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بعض عناصر مذہبی و تاریخی مباحث کو فرقہ وارانہ تصادم میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کو ایسی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اختلافی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے تحمل، احترام اور علمی اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔

انہوں نے علماء کرام اور ذاکرین عظام سے خصوصی اپیل کی کہ ایامِ فاطمیہ کی مجالس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل، سیرت اور تاریخی مظالم کو واضح دلائل کے ساتھ بیان کریں، لیکن طنز، طعن و تشنیع اور اشتعال انگیز انداز اختیار نہ کریں۔

انہوں نے کہا: تاریخی حقائق بیان کرنا اور کسی کی تضحیک کرنا دو الگ امور ہیں۔ علمی اور تحقیقی انداز میں گفتگو کی جائے تو سامعین بات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، جبکہ غیر ذمہ دارانہ طرزِ بیان معاشرے میں غلط فہمیوں اور کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے مزید کہا: پاکستان کسی نئے داخلی انتشار یا فرقہ وارانہ تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کے موجودہ حالات میں تمام دینی و ملی حلقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی وحدت، امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمِ اسلام کے اتحاد، مسلم ممالک میں امن و استحکام اور جنگوں کے خاتمے کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مسائل کے حل اور امتِ مسلمہ کی وحدت کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha