حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایامِ فاطمیہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، فضائل اور تاریخ کے اہم واقعات کو علمی انداز اور احترام کے ساتھ بیان کیا جائے۔ انہوں نے اتحادِ امت، ایک دوسرے کے مقدسات کے احترام اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے بجائے درست انداز میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: منبرِ حسینی سے ایسا اندازِ بیان اختیار کیا جائے جو تبلیغِ دین اور لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔
خطیب جمعہ نے پہلے خطبے میں تقویٰ الٰہی، ایامِ فاطمیہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت اور تاریخِ اسلام کے اہم واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ دوسرے خطبے میں امتِ مسلمہ کی وحدت، خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال، ایران، فلسطین، خلیجی ممالک اور پاکستان کے داخلی و معاشی حالات پر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں تقویٰ الٰہی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: انسان کی کامیابی اور عاقبت بخیر ہونے کا راستہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیزگاری میں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ گناہوں کو معاف فرمائے، اسلام و مسلمین کو کامیابی عطا کرے، بیماروں کو شفائے کاملہ و عاجلہ نصیب فرمائے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت اور تاریخی واقعات
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے ایامِ فاطمیہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ان ایام میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت، سیرت اور تاریخِ اسلام کے اہم واقعات کا مطالعہ اور تذکرہ ضروری ہے۔
انہوں نے اتحاد و وحدت کے حوالے سے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: انہوں نے اتحادِ امت کا جو بیج بویا، وہ آج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
خطیب جمعہ نے کہا: بعض عناصر معاشرے میں انتشار اور اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن الحمدللہ پاکستان میں مسلمان ایک دوسرے کے جذبات اور عقائد کو سمجھتے ہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے بھی دوسروں کے مقدسات کی توہین سے اجتناب کی ہدایت فرمائی ہے۔ ہمیں اسی اصول کے تحت گفتگو کرنی چاہیے، کسی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے اور تاریخی حقائق کو درست، جامع اور باوقار انداز میں بیان کرنا چاہیے۔
انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس دور کے تاریخی حالات کو سمجھنے کے لیے مختلف واقعات اور روایات کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے واقعہ قرطاس، احادیث کی کتابت اور نقل و روایت پر عائد پابندیوں، نیز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے دروازے سے متعلق واقعات کا تذکرہ کیا۔
علامہ شبیر میثمی نے واقعہ فدک کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: قرآن مجید میں ذوی القربیٰ کو ان کا حق دینے کا حکم موجود ہے۔ فدک کا معاملہ عام جنگی غنیمت کی تقسیم سے مختلف تھا، کیونکہ یہ علاقہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بغیر جنگ کے آیا تھا اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو عطا فرمایا تھا۔
انہوں نے کہا: بعد ازاں فدک کو واپس لینے اور وہاں کام کرنے والے افراد کو بے دخل کرنے کا معاملہ پیش آیا تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنا حق لینے کے لیے مسجد تشریف لے گئیں۔ آپ سلام اللہ علیہا کی شخصیت وہ عظیم ہستی ہے جس کے احترام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تھے اور جس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ فاطمہ میرے بدن کا حصہ ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔
خطیب جمعہ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے علمی مقام اور خطابت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: آپ سلام اللہ علیہا نے مسجد نبوی میں ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں توحید، نبوت، امامت، عبادات کے فلسفے اور اسلامی عقائد کو نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کیا۔ یہ خطبہ اسلامی عقائد اور دینی تعلیمات کی بنیادی تشریح پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے معاملے میں قرآن مجید کی متعدد آیات سے استدلال کیا اور انبیائے کرام کی وراثت کے حوالے سے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعات پیش کیے۔ آپ سلام اللہ علیہا کا استدلال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات اور انبیائے الٰہی کی میراث کے بارے میں آپ سلام اللہ علیہا کا علم کس قدر بلند تھا۔
فدک کا مطالبہ تاریخی حقائق کی وضاحت کے لیے تھا
علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا: بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے کے بارے میں اتنے فضائل بیان کیے جاتے ہیں تو پھر آپ سلام اللہ علیہا فدک کا مطالبہ کرنے کیوں تشریف لے گئیں؟ اس کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا فدک کے لیے تشریف لے جانا محض ایک باغ یا زمین کے حصول کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ مدینہ کے لوگوں کے سامنے ایک تاریخی حقیقت واضح کرنے کا ذریعہ تھا۔ آپ سلام اللہ علیہا یہ بتانا چاہتی تھیں کہ جو لوگ فدک کے معاملے میں ایک طے شدہ حق کو نظرانداز کر سکتے ہیں، وہ غدیر خم کے موقع پر کیے گئے عہد کو بھی نظرانداز کر سکتے ہیں۔
خطیب جمعہ نے اس سلسلے میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے آخری ایام اور بعض تاریخی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: مختلف تاریخی مصادر میں آپ سلام اللہ علیہا کی ناراضی اور بعض شخصیات کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ موجود ہے۔ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے ضروری ہے کہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے بلکہ مستند حقائق کا احترام کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔
انہوں نے علماء، خطباء اور ذاکرین سے اپیل کی کہ مجالس میں گفتگو کا ایسا انداز اختیار کریں جو لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرے اور کسی کی غیر ضروری دل آزاری کا سبب نہ بنے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت اور تاریخی واقعات میں ایسی بہت سی حقیقتیں موجود ہیں جن کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
امتِ مسلمہ کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے
دوسرے خطبے میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے عالمی سیاسی صورتِ حال اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: مکہ معاہدے کو وسعت دینے اور ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ امتِ مسلمہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مظلوموں کے قتلِ عام اور خطے میں جاری جارحیت کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے کہا: اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان ممالک باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ یہ محض ممالک کی جنگ نہیں، بلکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک بڑی کشمکش ہے۔ تمام مسلمانوں کو اسلام اور مسلمین کی کامیابی، امن و سلامتی اور مظلوم انسانیت کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
خطیب جمعہ نے امریکی سیاسی صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ میں ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں جماعتوں کے ادوار میں مختلف جنگیں اور فوجی مداخلتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس لیے کسی ایک جماعت کی ممکنہ کامیابی سے غیر معمولی توقعات وابستہ کرنا درست نہیں۔ عالمی سیاست کو جذبات کے بجائے حقائق اور تاریخی تجربات کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: اسرائیلی قیادت یا امریکی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے جلد خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ کسی ایک حکمران کی تبدیلی سے ضروری نہیں کہ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف پالیسی بھی تبدیل ہو جائے۔ ہمیں سیاسی بیانات اور ذرائع ابلاغ کی خبروں کے بجائے عملی اقدامات اور پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
خلیج فارس کی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کے مفادات
علامہ میثمی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، خلیجی ممالک کی پالیسیوں اور خطے کی معاشی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: عالمی حالات انتہائی حساس رخ اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے خلیجی ممالک کی صورتِ حال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر سمیت خطے کے ممالک کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عالمی طاقتوں کو دی جانے والی بھاری رقوم ان کے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکیں۔
خطیب جمعہ نے کہا: خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یورپ سمیت پوری دنیا کی معیشت اور امن و سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کے معاشی مفادات اور جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں عام انسانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ بعض قوتیں ان حالات سے معاشی فائدہ حاصل کرتی ہیں۔
پاکستان کو داخلی مسائل حل کرکے مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے
پاکستان کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کا تاریخی موقع حاصل ہے، تاہم عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے سے پہلے ملک کے اندرونی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: مہنگائی، غربت اور بے روزگاری نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ خودکشیوں کے واقعات بھی معاشرے کی تشویش ناک صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جن سے عوام کو ریلیف ملے اور ملک سے مخلص عام شہریوں کی مشکلات کم ہوں۔
انہوں نے کہا: ملک کے مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے والے افراد بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے خاندان اور بچے ہیں اور وہ بھی معاشی مشکلات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جن سے عوام کو حقیقی سہولت حاصل ہو۔
انہوں نے سیاسی و تجزیاتی حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ملکی مسائل کو سیاسی بحثوں اور انتخابی تقابل میں الجھانے کے بجائے عوامی مشکلات کے حل کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان کے پاس عالمی سطح پر امن اور مصالحت کے فروغ کا ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر کوئی ملک یا قیادت خطے میں جنگ بندی اور مصالحت کے ذریعے لاکھوں انسانی جانیں بچانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ بہت بڑی خدمت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کا عظیم اجر ہے۔
امام زمانہ سلام اللہ علیہا کے ظہور کی تیاری عملی اقدامات سے کی جائے
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور اور اس کی تیاری کے حوالے سے کہا: ہمیں صرف زبانی طور پر امام (عجل) سے محبت اور انتظار کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی زندگیوں کو اس عظیم ذمہ داری کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا: اگر ہم امام زمانہ (عجل) کے ظہور کے منتظر ہیں تو ہمیں آج ہی سے اپنی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اپنے امام (عجل) سے تعلق مضبوط کریں، واجبات ادا کریں، گناہوں سے توبہ و استغفار کریں اور اہل بیت علیہم السلام سے عملی وابستگی اختیار کریں۔
انہوں نے مزید کہا: امام (عجل) کے ظہور کی تیاری کا مطلب دنیاوی زندگی اور ترقی سے کنارہ کشی اختیار کرنا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اس انداز میں پروان چڑھانا ہے کہ ظہور کے بعد امام (عجل) کے مشن میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں مہارت حاصل کریں
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیدا ہونے والے مسائل اور خطرات سے آگاہ رہنا اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے جدید شعبوں میں اعلیٰ درجے کی تربیت دلوائیں، تاکہ نئی نسل مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے معاشرے اور انسانیت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکے۔ ہمیں صرف حالات کا انتظار نہیں کرنا، بلکہ اپنی علمی، فنی اور عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہو گا۔
مستحق مومنین و مومنات کی مدد کی اپیل
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے آخر میں مومنین و مومنات کے معاشی حالات اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اہل خیر سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا: بہت سے مؤمنین اور مؤمنات سخت معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد اور دستگیری کریں۔
انہوں نے قرآن مجید کی آیت مبارکہ «وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ» کا حوالہ دیتے ہوئے نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی تاکید کی۔
انہوں نے ممتاز قرآنی شخصیت جناب حرمت علی وزیری کی علالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا: جناب حرمت علی وزیری نے شیعہ معاشرے میں حفظِ قرآن کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے اور فروغ دینے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ رہبر معظم کی جانب سے بھی ان کے قرآنی خدمات انجام دینے والے خاندان کی ایک صدی پر محیط خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
آخر میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جناب حرمت علی وزیری سمیت تمام بیماروں کی شفائے کاملہ و عاجلہ اور امتِ مسلمہ کی کامیابی و سربلندی کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ