پیر 26 اکتوبر 2026 - 05:13
حضرت فاطمہ زہرا (س) مسلمان خواتین کے لیے جامع نمونہ اور قرآنی خواتین میں ممتاز ترین ہستی ہیں

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے کہا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا قرآن کریم میں اپنے خصوصی مقام اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کی روشنی میں تمام نسلوں، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے لیے نمونۂ عمل ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے اتوار کے روز ٹیلی ویژن پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں قرآن کریم میں خواتین کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے اس آسمانی کتاب میں مذکور بعض خواتین کا تعارف کرایا اور ان کی زندگیوں سے حاصل ہونے والے اخلاقی و تربیتی اسباق بیان کیے۔

انہوں نے کہا: قرآن کریم میں متعدد خواتین کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک کی زندگی انسان کے لیے نمونۂ عمل بن سکتی ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مشترک اور خصوصی فضائل

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل کی دو اقسام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ سلام اللہ علیہا کے بعض فضائل پنجتنِ آلِ عبا یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مشترک ہیں۔ ان میں آیتِ مباہلہ اور آیتِ تطہیر جیسی آیات شامل ہیں جو اہل بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کے حوالے سے نازل ہوئی ہیں۔ دوسری قسم آپ سلام اللہ علیہا کے خصوصی فضائل پر مشتمل ہے جو آیات و روایات میں آپ کی شخصیت سے متعلق بیان ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ان خصوصی فضائل میں سے ایک سورۂ کوثر کی آیت ’’إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ‘‘ کی بعض تفاسیر اور روائی مصادر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر تطبیق ہے۔ اسی طرح متعدد روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی خوشنودی اور ناراضی کو اپنی خوشنودی اور ناراضی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ناراضی سے وابستہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح ’’فاطمة بضعة منی‘‘ یعنی فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہیں، جیسی تعبیریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آپ کے خصوصی مقام کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس دینی ماہر نے اپنی گفتگو کے دوران مزید کہا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل صرف شیعہ مصادر میں نقل نہیں ہوئے بلکہ اہل سنت کی کتابوں میں بھی آپ کے فضائل سے متعلق متعدد روایات موجود ہیں۔ اہل سنت کے بعض علماء نے بھی آپ کے فضائل پر مستقل کتابیں تحریر کی ہیں۔ مصری عالم جلال الدین سیوطی نے بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل پر کتاب لکھی ہے۔

قرآن کریم میں خواتین؛ زندگی کے لیے نمونۂ عمل

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے مزید کہا: قرآن کریم میں متعدد خواتین کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں بعض کو منفی کرداروں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جن میں ابولہب کی بیوی اور حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی ازواج شامل ہیں۔ اس کے برعکس، قرآن کریم میں ایسی خواتین کا بھی ذکر ہے جن کی زندگیاں اہل ایمان کے لیے سبق آموز ہیں۔

انہوں نے کہا: ان شخصیات کا مطالعہ کرنے کا مقصد صرف ان کی زندگی کے واقعات سے آگاہ ہونا نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی سے اخلاقی اور تربیتی سبق حاصل کرنا ہے۔

حجت الاسلام ڈاکٹر رفیعی نے ایک مثال حضرت حوا سلام اللہ علیہا کی پیش کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کو جنت میں سکونت اختیار کرنے کے الٰہی حکم کا ذکر کیا اور کہا: حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ حضرت حوا سلام اللہ علیہا کی زندگی اور دونوں کا اس جملے میں اپنی خطا کا مشترکہ اعتراف کرنا کہ ’’رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا‘‘ یعنی ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا‘‘، انسان کو ذمہ داری قبول کرنے اور توبہ کرنے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: انسان کو غلطی کرنے کے بعد اپنے عمل کا جواز پیش کرنے کے بجائے اپنی کوتاہی تسلیم کرنی چاہیے اور اس کی تلافی کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا؛ قرآنی معارف کی ممتاز ترین خواتین میں سے ایک

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے گفتگو کے اختتام پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو قرآنی معارف میں مذکور ممتاز ترین خواتین میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: سورۂ انسان، جسے سورۂ ہل اتی بھی کہا جاتا ہے، کو اہل بیت علیہم السلام بالخصوص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے والی سورتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اسی لیے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت ایمان، ایثار، اخلاص اور ضرورت مندوں کی خدمت کے حوالے سے ایک مثالی نمونہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha