ہفتہ 24 اکتوبر 2026 - 16:41
شہداء کی یاد منانا درحقیقت ان کے مشن، فکر اور نظریات کو زندہ رکھنے کا عہد ہے، مولانا ذوالفقار علی سعیدی

حوزہ/شہدائے چھلگری کی گیارہویں برسی کے سلسلے میں مزارِ شہداء چھلگری، بھاگ میں سالانہ مجلسِ عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، مذہبی و سیاسی رہنماؤں، عزاداروں، سماجی شخصیات اور شہداء کے عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے مجالس و عزاداری کا اہتمام کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہدائے چھلگری کی گیارہویں برسی کے سلسلے میں مزارِ شہداء چھلگری، بھاگ میں سالانہ مجلسِ عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، مذہبی و سیاسی رہنماؤں، عزاداروں، سماجی شخصیات اور شہداء کے عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے مجالس و عزاداری کا اہتمام کیا گیا۔

مجلسِ عزا سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی، مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ سہیل اکبر شیرازی، عزاداری ونگ بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی، مجلس علمائے مکتبِ اہل بیتؑ بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ ذوالفقار علی سعیدی، علامہ علی نواز عرفانی، علامہ سیف علی ڈومکی، مولانا محمد یونس جمالی اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔

اس موقع پر مجلس علماء مکتب اہلبیت کے صوبائی صدر علامہ ذوالفقارعلی سعیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کی یاد منانا درحقیقت ان کے مشن، فکر اور نظریات کو زندہ رکھنے کا عہد ہے۔ شہداء نے اپنے خون سے تاریخ میں قربانی، استقامت اور حق پرستی کی روشن مثالیں قائم کیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ ذوالفقار علی سعیدی نے مزید کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہماری اجتماعی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ نئی نسل کو شہداء کی زندگی، ان کے کردار اور ان کی قربانیوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے، تاکہ نوجوان حق پرستی، استقامت، ایثار اور انسانی خدمت جیسے اعلیٰ اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں۔ شہداء کا پیغام صرف یاد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں اپنانے کے لیے ہے۔

مقررین نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے پیغام کو معاشرے میں عام کیا جائے اور ظلم، ناانصافی، نفرت اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتحادِ امت، باہمی احترام، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور تمام مکاتبِ فکر کو مشترکہ مسائل کے حل اور معاشرتی امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha