منگل 27 اکتوبر 2026 - 09:56
ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

حوزہ/آیت الله باقر مقدسی نے مدرسہ علوم اسلامی قم میں منعقدہ علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ولایتِ فقیہ محض ایک تجریدی فقہی نظریہ نہیں، بلکہ عصرِ غیبت میں اسلامی معاشرے کی سربراہی، احکامِ الٰہی کے نفاذ اور دینی، علمی، ثقافتی، سماجی و تربیتی ذمہ داریوں سے مربوط ایک جامع نظریہ ہے۔ اس کے صحیح فہم کے لیے فقہِ شیعہ کے علمی ورثے، اسلامی حکومت کے تاریخی تجربے اور رہبرِ شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے فقہی و تربیتی افکار کا مطالعہ ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله باقر مقدسی نے ’’رہبرِ شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے فقہی افکار میں ولایتِ فقیہ کے فقہی مبانی اور تربیتی کردار‘‘ کے عنوان سے منعقدہ علمی نشست سے گفتگو کرتے ہوئے ولایتِ فقیہ کے تاریخی پس منظر، فقہی و عقلی دلائل، ولایتِ مطلقۂ فقیہ کے مفہوم اور اس نظریے کے تربیتی، علمی، ثقافتی، معاشی اور سماجی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

انہوں نے کہا کہ ولایتِ فقیہ فقہِ شیعہ میں ایک تاریخی پس منظر رکھتی ہے اور مختلف ادوار میں فقہائے شیعہ نے فقیہ جامع الشرائط کے اختیارات، امورِ حسبیہ، قضاوت، احکامِ شرعی کے نفاذ اور علما کی سماجی ذمہ داریوں پر بحث کی ہے۔ اس سلسلے میں شیخ مفید، شیخ طوسی، سید مرتضیٰ، محقق حلی، علامہ حلی، محقق کرکی، ملا احمد نراقی، صاحبِ جواہر اور امام خمینی جیسی علمی شخصیات کی آرا اہمیت رکھتی ہیں۔

استاد حوزہ نے وضاحت کی کہ امام خمینیؒ کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے ولایتِ فقیہ اور اسلامی حکومت کے نظریے کو عملی صورت دی اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کے ذریعے اسے ایک مستحکم سیاسی نظام کی شکل میں پیش کیا۔ ان کے بعد رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای نے قیادت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے علمی ترقی، سماجی عدل، باصلاحیت افراد کی تربیت، سیاسی خودمختاری اور تسلط پسند قوتوں کے مقابلے میں استقامت جیسے موضوعات پر توجہ دی۔

ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

آیت اللہ باقر مقدسی نے عصرِ غیبت میں فقہا کے مقام پر گفتگو کرتے ہوئے امام صادق علیہ السلام سے منقول روایت ’’أَمَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِنًا لِنَفْسِهِ، حَافِظًا لِدِينِهِ، مُخَالِفًا عَلَى هَوَاهُ، مُطِيعًا لِأَمْرِ مَوْلَاهُ‘‘ اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے توقیعِ شریف ’’وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا‘‘ کی اہمیت بیان کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان روایات کے مطالعے میں دینی مرجعیت، تقلید، قضاوت، امورِ حسبیہ اور حکومتی ولایت کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر ایک کے اثبات کے لیے متعلقہ دلائل اور ان کی دلالت کا الگ الگ جائزہ لینا پڑتا ہے۔

انہوں نے ولایتِ مطلقۂ فقیہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس اصطلاح کا مطلب شریعت، قانون اور اخلاقی اصولوں سے آزاد یا لامحدود اختیار نہیں، بلکہ اسلامی حکومت کے انتظام اور اجتماعی احکام کے نفاذ کے لیے ضروری اختیارات کی وسعت ہے۔ اس نظریے کے مطابق فقیہ جامع الشرائط کی قیادت، شرعی اصولوں کی رعایت اور اجتماعی مصالح کے تحفظ کے دائرے میں سمجھی جاتی ہے۔

علمی و اخلاقی تربیت؛ اسلامی نظام کا بنیادی تقاضا

آیت الله مقدسی نے ولایتِ فقیہ کے تربیتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تربیت صرف معلومات کی منتقلی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد انسان کی عقلی، اخلاقی، علمی اور سماجی نشوونما کے ساتھ اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہے۔ اس تناظر میں دینی قیادت کا کردار معاشرے کی اخلاقی و ثقافتی رہنمائی، عدل پسندی، عوام کے حقوق کے احترام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے فروغ سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے علمی ترقی اور تحقیق کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حوزہ ہائے علمیہ، یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز ایسے افراد کی تربیت کے مراکز ہونے چاہییں جو تنقیدی فکر، تجزیاتی صلاحیت، علمی خودمختاری اور مسائل کے حل کی استعداد رکھتے ہوں۔ اسی طرح حوزوی تعلیم میں فقہ، اصول، قرآن، حدیث اور اخلاقی تزکیے کے ساتھ جدید فکری و سماجی مسائل سے واقفیت اور ان کے مستدل جوابات پیش کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

آیت اللہ باقر مقدسی کے مطابق، نوجوانوں کی تربیت میں صحت مند دینی و ثقافتی شناخت، قوتِ فکر، مکالمے کی صلاحیت اور سماجی ذمہ داری کا احساس بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مطلوبہ تربیت ایسے افراد تیار کرتی ہے جو علم و اخلاق کی بنیاد پر مسائل کا تجزیہ کریں، صحیح اور غلط میں فرق کرسکیں اور معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔

میڈیا، مصنوعی ذہانت اور جہادِ تبیین کی اہمیت

انہوں نے ثقافت اور میڈیا کے میدان میں تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ حاضر میں میڈیا، سماجی رابطوں کے ذرائع اور ڈیجیٹل ماحول انسانی فکر و تربیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لیے جہادِ تبیین کے تحت مسائل کی مستند اور مدلل وضاحت، غلط معلومات کی شناخت اور علمی مکالمے کے فروغ پر توجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل خواندگی، جعلی مواد کی شناخت، ذاتی معلومات کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کی تعلیم دینا ناگزیر ہے۔ حوزہ ہائے علمیہ اور یونیورسٹیوں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے علمی اور اخلاقی انداز میں استفادہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

اقتصادی خودمختاری اور مقاومتی جذبے کا فروغ

آیت اللہ باقر مقدسی نے معاشی خودمختاری کے تربیتی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادِ مقاومتی کا تعلق صرف مالیاتی پالیسیوں سے نہیں، بلکہ کام کی ثقافت، پیداوار، مہارت آموزی، جدت، علم پر مبنی معیشت اور معاشی ذمہ داری سے بھی ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے اخلاقی نصیحتوں کے ساتھ درست پالیسی سازی، شفافیت، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، مواقع میں انصاف اور ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ بھی ضروری ہے۔

ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی فکر میں مقاومت کو عدل پسندی، انسانی حقوق کے دفاع، تسلط کے مقابلے اور مظلوم اقوام کی حمایت کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں افراد کی تربیت علمی شعور، اخلاقی جرأت، تاریخی آگاہی اور ذمہ دارانہ تجزیے کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ محض جذباتیت یا بے ضابطہ دشمنی کی بنیاد پر۔

اسلامی وحدت اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مسائل

استاد حوزہ نے اسلامی وحدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے دینی و سیاسی افکار میں مسلمانوں کی وحدت اور مذہبی اختلافات کو مزید گہرا کرنے والے اقدامات سے اجتناب کو اہم مقام حاصل رہا ہے۔ اس سلسلے میں اہلِ سنت کے مقدسات کی توہین کی حرمت سے متعلق ان کا فتویٰ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے سورۂ انعام کی آیت 108 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم دینی گفتگو میں اخلاقی آداب کی رعایت اور ایسے طرزِ عمل سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے جو دشمنی اور نزاع کا سبب بنے۔ اسلامی وحدت کا مطلب اعتقادی اور تاریخی اختلافات کا انکار نہیں، بلکہ اختلافات کو ذمہ دارانہ انداز میں سنبھالنا اور انہیں دشمنی و تفرقے میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔

ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

آیت اللہ باقر مقدسی نے مسئلۂ فلسطین اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کو بھی رہبرِ شہید کے افکار کا ایک نمایاں موضوع قرار دیا اور کہا کہ امتِ مسلمہ کے مشترکہ مسائل، جنگ، قبضے، غربت، علمی پسماندگی اور انسانی بحرانوں کے حوالے سے شعور و احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ضروری ہے۔

ماہر اور جواب دہ قیادت کی تربیت ضروری

انہوں نے کہا کہ معاشرے کی پائیدار ترقی کے لیے ایسے مدیران اور نخبگان کی تربیت ضروری ہے جو تخصص، اخلاقی دیانت، فیصلہ سازی، اجتماعی تعاون اور عمومی مسائل کی سمجھ رکھتے ہوں۔ انتظامی تربیت میں پیشہ ورانہ دیانت، شفافیت، جواب دہی، قانون کی پابندی، عوام کے حقوق کا احترام اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

نشست کے اختتام پر آیت اللہ باقر مقدسی نے زور دیا کہ ولایتِ فقیہ کے تربیتی کردار کو سمجھنے کے لیے اس کے نظریاتی مبانی، تربیتی رہنمائی اور عملی نتائج کے درمیان تعلق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ علمی تربیت علم کی ترقی، اخلاقی تربیت کردار اور عدل، سماجی تربیت احساسِ ذمہ داری اور سیاسی تربیت باشعور شرکت و عوام کے حقوق کے احترام کا ذریعہ بننی چاہیے۔

ولایتِ فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ دینی، علمی اور سماجی تربیت کا مؤثر نظام ہے: آیت الله باقر مقدسی

انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کے فقہی اور تربیتی افکار پر مستند تحقیق، علمی مکالمے اور منصفانہ تجزیے کے ذریعے فقہِ سیاسی شیعہ کی شناخت کو گہرا کرنے، تعلیمی و تربیتی نظاموں کو بہتر بنانے اور باشعور، اخلاقی اقدار کے حامل اور ذمہ دار افراد کی تربیت کے لیے مؤثر پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

اس علمی نشست میں طلاب نے بھرپور شرکت کی اور نشست کے علمی سیکرٹری ڈاکٹر مولانا محمد لطیف مطہری تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha