ہفتہ 24 اکتوبر 2026 - 11:47
ایران-پاکستان کے درمیان براہِ راست روابط کا فروغ انتہائی اہم اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے، پاکستانی سفیر؛ عمران احمد صدیقی

حوزہ / اسلامی جمہوریہ ایران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی نے قم کے دورہ کے موقع پر صوبائی گورنر اکبر بہنام جو سے ملاقات کی اور قم میں مقیم پاکستانی شہریوں کو سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی نے قم کے دورہ کے موقع پر صوبائی گورنر اکبر بہنام جو سے ملاقات کے دوران ایران اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان براہِ راست روابط کے فروغ کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

انہوں نے قم میں مقیم پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ماہ قونصلر خدمات فراہم کرنے کے سفارت خانے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔

عوامی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہیں

عمران احمد صدیقی نے کہا: تہران میں پاکستانی سفارت خانہ ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان پہلے سے موجود تعلقات کو بحال کرنے اور مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہماری توجہ صرف دونوں ممالک کی حکومتوں کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں اور براہِ راست روابط کو فروغ ملے۔

قم میں پاکستانی شہریوں کو ماہانہ قونصلر خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ

پاکستانی سفیر نے قم میں مقیم پاکستانی شہریوں کی ضروریات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی شہری زیارت کے لیے قم آتے ہیں جبکہ ایران میں مقیم پاکستانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس شہر سے وابستہ ہے۔ اس لیے سفارت خانے کی ترجیحات میں قم کے پاکستانی شہریوں کو ضروری قونصلر خدمات فراہم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا: بہت سے پاکستانی خاندان سفری و مالی مشکلات کے باعث بار بار قم سے تہران سفر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ خصوصاً خواتین، بچوں اور بڑے خاندانوں کے لیے یہ سفر دشواری کا باعث بنتا ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر ایرانی حکام سے قم میں عارضی قونصلر مرکز قائم کرنے کی اجازت طلب کی گئی، جس کی منظوری کے بعد خدمات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔

عمران احمد صدیقی کے مطابق، سفارت خانے نے آئندہ ہر ماہ قم آ کر پاکستانی شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان خدمات میں پاسپورٹ، دستاویزات کی تصدیق اور سفری دستاویزات سے متعلق امور شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ہفتہ قونصلر خدمات کی فراہمی کے لیے منعقدہ کیمپ میں تقریباً ایک ہزار افراد نے رجوع کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

پاکستانی زائرین کی خدمت دینی فریضہ ہے

پاکستانی سفیر نے قم کی مذہبی اور روحانی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنا محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ وہ اسے دینی فریضہ بھی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: پاکستانی زائرین اس شہر میں آپ کی زیارت کے لیے آتے ہیں لہٰذا ان زائرین اور یہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی خدمت کرنا ہمارے لیے باعثِ افتخار اور دینی ذمہ داری ہے۔

قم میں مقیم پاکستانی شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت

عمران احمد صدیقی نے قم میں پاکستانی برادری سے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ وہاں مقیم پاکستانی شہریوں نے اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق، پاکستانی شہری ایرانی حکام کی جانب سے ان کی ضروریات پر توجہ دینے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم ان کی ایک اہم مشکل تہران میں واقع پاکستانی سفارت خانے تک رسائی ہے۔

انہوں نے کہا: قم میں قونصلر خدمات کی فراہمی سے پاکستانی شہریوں کو اپنے ضروری دستاویزات اور دیگر معاملات کے لیے بار بار تہران جانے کی ضرورت کم ہوگی۔ اس اقدام سے بالخصوص ان خاندانوں کو سہولت میسر آئے گی جن کے لیے طویل سفر کرنا مالی اور عملی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

پاکستانی سفیر نے قم کے صوبائی گورنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مقامی حکام کے تعاون سے پاکستانی شہریوں کو مزید سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو وسعت ملے گی۔

ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی اور مذہبی روابط

عمران احمد صدیقی نے قم کی تاریخی اور روحانی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس شہر کو اپنے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز قرار دیا۔ ان کے مطابق، قم سے بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کا مذہبی تعلق اور آمدورفت دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عوامی سطح پر رابطوں کو وسعت دینا ضروری ہے، تاکہ دونوں ممالک کے شہری ایک دوسرے کے حالات، ثقافت اور معاشرتی زندگی سے زیادہ قریب سے واقف ہو سکیں۔

پاکستانی سفیر کے اس دورہ اور قم میں ماہانہ قونصلر خدمات کی فراہمی کے منصوبے کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ اور ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی مشکلات کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست روابط کا فروغ انتہائی اہم اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے، پاکستانی سفیر؛ عمران احمد صدیقی

قم کے گورنر اکبر بہنام جو نے پاکستانی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات اور گہرے روابط پر زور دیا اور کہا: دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے بھی اشارہ کیا، مقدس شہر قم اور حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے نے ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی زائرین کی قم آمد کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: ہر سال پاکستان سے بہت سے افراد زیارت کے لیے قم کا سفر کرتے ہیں۔ مختلف مناسبتوں پر بھی اس شہر میں پاکستانی زائرین اور مسافروں کی آمد دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد دینی علوم کی تحصیل کے لیے قم میں مقیم ہے جبکہ کچھ دیگر افراد روزگار کے سلسلہ میں بھی اس صوبے میں رہائش پذیر ہیں۔

قم کے گورنر نے اس شہر کی زیارتی حیثیت بیان کرتے ہوئے کہا: قم، مشہد کے بعد ایران کا دوسرا بڑا زیارتی مرکز ہے۔ ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ مسافر اس صوبے کا سفر کرتے ہیں جن میں سے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 لاکھ غیر ملکی شہری ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے قم کو دینی اور مذہبی شعبے میں ملک بھر میں اولین مقام حاصل ہے۔ زیارت اور حوزاتِ علمیہ کی موجودگی اس شہر کی اہم ترین خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

اکبر بہنام جو نے دونوں قوموں کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور ہمیں اس صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی روابط کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود میں اضافے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ اس ذمہ داری پر میری موجودگی اور ایران میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے آپ کے دورانِ ذمہ داری ہم دونوں قوموں کے درمیان تعلقات کو پہلے سے زیادہ وسعت دے سکیں گے اور دونوں ممالک کے عوام کے حالات بہتر بنانے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ قم کے گورنر نے اس ملاقات میں پیش کی گئی درخواستوں اور اٹھائے گئے امور کی پیروی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: پاکستانی شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور دیگر زیرِ بحث مسائل سے متعلق امور کو متعلقہ حکام کے تعاون سے آگے بڑھایا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha