حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مقدس شہر قم میں پاکستانی سفارت خانے تہران کی جانب سے پہلی بار ایک روزہ قونصلر سروسز کیمپ منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ، علماء کرام، ان کے اہل خانہ اور دیگر پاکستانی شہریوں نے شرکت کرکے پاسپورٹ، شناختی کارڈ، دستاویزات کی تصدیق اور دیگر قونصلر امور سے متعلق خدمات حاصل کیں۔ 22 اکتوبر 2026ء کو ہوٹل صفا، خیابان معلم، قم میں منعقد ہونے والے اس کیمپ سے تقریباً ایک ہزار افراد نے استفادہ کیا۔

پاکستانی سفارت خانے نے حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران اور مقامی حکام کے تعاون سے اس کیمپ کا انعقاد کیا، تاکہ قم اور اس کے نواحی علاقوں میں مقیم پاکستانی شہریوں کو ضروری قونصلر خدمات ان کے قریب فراہم کی جا سکیں اور انہیں ان امور کے لیے تہران کا سفر نہ کرنا پڑے۔ کیمپ میں شناختی کارڈ (CNIC/NICOP)، پاسپورٹ، دستاویزات کی تصدیق اور دیگر ضروری قونصلر معاملات سے متعلق خدمات فراہم کی گئیں۔
ایران میں پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی نے اس اقدام کو قم میں مقیم پاکستانی برادری کی ضروریات پوری کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے پاکستانی خاندان مالی مشکلات، طویل سفر اور دیگر مجبوریوں کے باعث بار بار قم سے تہران نہیں جا سکتے۔ بالخصوص خواتین، بچوں اور بڑے خاندانوں کے لیے یہ سفر دشوار ہوتا ہے، اس لیے قم میں قونصلر خدمات کی فراہمی ضروری تھی۔

انہوں نے بتایا کہ سفارت خانے نے آئندہ ہر ماہ قم آکر پاکستانی شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے ان کے سفری اخراجات اور وقت کی بچت ہوگی۔
پاکستانی سفیر نے قم کی مذہبی و روحانی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کی زیارت کے لیے بڑی تعداد میں پاکستانی زائرین اس شہر میں آتے ہیں، جبکہ بہت سے پاکستانی شہری یہاں مقیم بھی ہیں۔ ان کی خدمت محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔

عمران احمد صدیقی نے قم میں مقیم پاکستانی شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے اور قونصلر خدمات کی فراہمی میں تعاون پر ایرانی حکام، بالخصوص قم کے صوبائی گورنر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستانی شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی اور ایران و پاکستان کے درمیان عوامی روابط مزید مستحکم ہوں گے۔










آپ کا تبصرہ