منگل 27 اکتوبر 2026 - 06:03
امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت خشوع و خضوع، زہد و تقویٰ اور عبادت و بندگی کے حوالے سے ضرب المثل ہے

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: امام زین العابدین علیہ السلام نے دعاؤں اور مناجات کے ذریعہ انسان کو اپنے خالق سے براہِ راست رابطہ اور ہم کلامی کا طریقہ سکھایا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 15 جمادی الاول، امام چہارم حضرت امام علی بن حسین زین العابدین علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: امام زین العابدین علیہ السلام کی پوری زندگی صبر و استقامت، زہد و تقویٰ، عبادت و بندگی اور اعلیٰ اخلاق کا روشن نمونہ ہے۔ آپ علیہ السلام نے ولادت سے لے کر واقعۂ کربلا اور اس کے بعد آخری سانس تک انتہائی کٹھن اور سنگین حالات کا سامنا کیا اور عالم انسانیت کے لیے صبر و استقامت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جن سے ہر دور کا انسان رہنمائی حاصل کرتا اور حق پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ پاتا ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا: امام زین العابدین علیہ السلام بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپ علیہ السلام کی شخصیت خشوع و خضوع، زہد و تقویٰ اور عبادت و خدا پرستی کے حوالے سے ضرب المثل بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو زین العابدین، یعنی عبادت گزاروں کی زینت، کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: امام سجاد علیہ السلام واقعۂ کربلا کے عینی شاہد تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے بیانات، کردار اور مخصوص انداز کی دعاؤں و مناجات کے ذریعہ دنیا کو واقعۂ کربلا کے حقائق سے آگاہ کیا اور ان غلط پروپیگنڈوں کے اثرات زائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو جاہل اور متعصب عناصر کی جانب سے پھیلائے گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے کردار و عمل سے یزیدی طرزِ فکر کو بے نقاب کیا اور حسینی تعلیمات کے خدوخال اس انداز میں واضح کیے جو باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے لیے آج بھی رہنما حیثیت رکھتے ہیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: امام زین العابدین علیہ السلام نے زہد و تقویٰ اور روحانیت کے ایسے راستے متعین کیے جو انسان کے اذہان و قلوب کو جلا بخشتے، باطن میں نور پیدا کرتے، نفسِ امارہ پر قابو پانے اور خدا سے مضبوط تعلق استوار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے دعاؤں اور مناجات کا ایسا عظیم ذخیرہ امت کے حوالے کیا ہے جس سے موجودہ دور کی مادیت زدہ زندگی میں استفادہ کرکے دنیا و آخرت کی نجات کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دو قطروں کو خاص محبوبیت کا حامل قرار دیا ہے؛ ایک وہ قطرۂ خون جو راہِ خدا میں شہید کے جسم سے گرتا ہے اور دوسرا وہ آنسو جو رات کی تاریکی میں خوفِ خدا اور قربِ الٰہی کی خاطر بہتا ہے۔ یہ تعلیم انسان کو ایثار، اخلاص، عبادت اور معرفتِ الٰہی کی اہمیت سے روشناس کراتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امام چہارم علیہ السلام کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ آپ علیہ السلام نے دعاؤں اور مناجات کے ذریعہ انسان کو اپنے خالق سے براہِ راست رابطہ اور ہم کلامی کا سلیقہ سکھایا، جبکہ عبادات کے ذریعہ نفس پر قابو پانے اور اپنی زندگی کو الٰہی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی تربیت فراہم کی۔ آپ علیہ السلام کی دعاؤں اور مناجات میں توحید کا تصور، رسالت و امامت کا مقام، دین مبین کی بنیادیں، انسانی مشکلات کا ادراک، انفرادی و اجتماعی مسائل کی نشاندہی، ان کے حل کے لیے جدوجہد اور اپنی خامیوں و غلطیوں کی اصلاح کے عملی طریقے موجود ہیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: صحیفۂ کاملہ/سجادیہ امام زین العابدین علیہ السلام کی ان عظیم تعلیمات کا گراں قدر سرمایہ ہے جس سے استفادہ کرکے انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ ان دعاؤں اور مناجات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے سے نفس پر قابو پانے، اخلاقی بلندی حاصل کرنے، صبر و حکمت کے ساتھ مسائل کا سامنا کرنے اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرنے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

علامہ ساجد نقوی نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں انسانیت کو مختلف فکری، تہذیبی اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ ان کے بقول لادین اور غیر انسانی قوتیں عالم اسلام کی دینی، علمی، ثقافتی اور تہذیبی روایات، آزادی و استقلال اور وسائل کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ ایسے کٹھن حالات میں امام سجاد علیہ السلام کی تعلیمات اور ان کے عطا کردہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا: امام زین العابدین علیہ السلام کے سیرت و کردار اور تعلیمات کی روشنی میں نئے روپ میں سامنے آنے والی یزیدی روش کو بے نقاب کرنے، امت مسلمہ کی محرومیوں کو اجاگر کرنے اور معاشرے میں شعور و بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ امام علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہی صبر، استقامت، حکمت، روحانیت اور حق شناسی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور انسانیت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha