ہفتہ 24 اکتوبر 2026 - 01:34
حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

حوزہ/ امام جمعہ کریم پور کرناٹک حجۃ الاسلام مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے خطبۂ جمعہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت، دفاعِ ولایت اور تحفظِ امامت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی سیرت حق کی حمایت، ظلم کے خلاف استقامت اور قیامِ عدل کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں مظلوموں کے حقوق کے تحفظ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عدل و انصاف کے قیام پر بھی زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور-کرناٹک/ ایامِ شہادتِ بنتِ رسول، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے کریم پور، کرناٹک میں امام جمعہ حجۃ الاسلام مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے خطبۂ جمعہ کے دوران حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت، مقامِ عصمت، دفاعِ ولایت اور تحفظِ امامت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مومنین، علماء کرام اور مراجع عظام کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے بالخصوص حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں ہدیۂ تعزیت پیش کیا۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

مولانا وصی حیدر رضوی اعظمی نے اپنے خطبے میں قرآن مجید اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بلند مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی شخصیت کو محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی ہونے کے حوالے سے نہیں، بلکہ مقامِ طہارت، عصمت اور ولایت کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

آیتِ تطہیر اور عظمتِ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا

خطیبِ جمعہ نے سورۂ احزاب کی آیتِ تطہیر کا حوالہ دیتے ہوئے اہلِ بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت پر گفتگو کی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعا کا ذکر کیا جس میں آپؐ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام کو اپنی خصوصی اہلِ بیت میں شامل فرمایا۔ اس سلسلے میں صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، اور جامع ترمذی کی روایات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا» یعنی ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں، جس چیز سے انہیں اذیت پہنچتی ہے، اس سے مجھے اذیت پہنچتی ہے‘‘، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی غیر معمولی عظمت اور رسول اللہؐ کے نزدیک آپؑ کے خصوصی مقام کو واضح کرتا ہے۔

مولانا نے سوال اٹھایا کہ رسول اللہؐ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اذیت کو اپنی اذیت کیوں قرار دیا؟ کیا یہ محض باپ اور بیٹی کا تعلق تھا؟ انہوں نے وضاحت کی کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا احترام صرف نسبتِ پدری کی بنا پر نہیں، بلکہ آپؑ کے عظیم روحانی مقام، طہارت اور مقامِ ولایت کے سبب بھی ہے۔ آپؑ چودہ معصومین علیہم السلام میں شامل اور ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی مادرِ گرامی ہیں۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

غضبِ فاطمہؑ اور رضائے الٰہی

خطیبِ جمعہ نے حدیثِ نبوی «إِنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِ فَاطِمَةَ وَيَرْضَى لِرِضَاهَا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ناراضی اور رضامندی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان آپؑ کی عظمت کو نمایاں کرتا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر آیتِ کریمہ «إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» (سورۂ احزاب: 57) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچانے کی مذمت قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہؐ کی تعلیمات کی روشنی میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام کو سمجھنا اور آپؑ کے حقوق و حرمت کا احترام کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

دفاعِ ولایت؛ سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا کا بنیادی پیغام

مولانا وصی حیدر رضوی اعظمی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی جو مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام میں دفاعِ ولایت اور تحفظِ امامت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی جدوجہد کو صرف ایک گھریلو یا شخصی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ حق، عدل اور امامت کے تحفظ سے وابستہ ایک اہم تاریخی و دینی مسئلہ ہے۔

انہوں نے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق واقعات کے ضمن میں ناراضیِ زہرا سلام اللہ علیہا اور آپؑ کے موقف کا ذکر کیا اور کہا کہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام میں ولایت کی حفاظت کو دین کی بقا اور امت کی صحیح رہنمائی کے لیے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی حمایت، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور امامِ برحق کی معرفت و حمایت، دینی زندگی کے اہم تقاضے ہیں۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

محبتِ اہلِ بیتؑ، اجرِ رسالت اور معرفتِ امامؑ

خطبۂ دوم میں مولانا نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو قرآن مجید کی آیتِ مودّت کے تناظر میں بیان کیا:

«قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ» (سورۂ شوریٰ: 23)

انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت، مودّت اور ان کی تعلیمات پر عمل، اسلامی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان عدل، حق شناسی، تقویٰ اور ولایت سے وابستگی کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دے۔

مولانا نے امام کی معرفت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے معروف حدیث کا حوالہ دیا:

«مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»

انہوں نے کہا کہ امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی معرفت، ان کی اطاعت اور ان کے ظہور کے لیے آمادگی، مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے بنیادی موضوعات میں سے ہیں۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں حق کی شناخت اور امامِ برحق کی حمایت کا درس دیتی ہے۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

موجودہ عالمی حالات اور اسلامی تعلیماتِ عدل

خطبے کے ایک اہم حصے میں مولانا وصی حیدر رضوی اعظمی نے موجودہ عالمی حالات، جنگوں اور انسانی حقوق کی پامالی پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت «وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ» (سورۂ بقرہ: 190) پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کسی بھی صورت میں ظلم، زیادتی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدل و انصاف کا قیام اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے، خواہ معاملہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے ساتھ ہو، شوہر اور زوجہ کے تعلقات کا ہو یا ایک ملک کا دوسرے ملک کے ساتھ۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں جاری جنگوں اور تنازعات کے بنیادی اسباب میں توسیع پسندی، دوسروں کے حقوق کی پامالی اور طاقت کے ناجائز استعمال جیسے عوامل شامل ہیں۔ امریکہ کی فوجی مداخلتوں اور فلسطین میں اسرائیلی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ظلم و جارحیت کے خاتمے اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔

مولانا نے تاکید کی کہ عدل کا آغاز اپنے گھر اور اپنے معاشرے سے ہونا چاہیے۔ انسان اگر قناعت، توکلِ الٰہی، احترامِ حقوق اور انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف اس کی ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی امن و سکون کو فروغ مل سکتا ہے۔

حضرت زہرا (س) کی سیرت، تحفظِ امامت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے؛ مولانا سید وصی حیدر رضوی

دعا برائے سربلندیِ اسلام اور تعجیلِ ظہورِ امامؑ

خطبے کے اختتام پر مولانا وصی حیدر رضوی اعظمی نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پرچمِ اسلام کو سربلند فرمائے، اسلامی جمہوریہ کو کامیابی و استحکام عطا کرے، شیطانی طاقتوں اور ظلم و فساد کے اسباب کو نیست و نابود فرمائے، اور حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

انہوں نے دعا کی کہ پروردگارِ عالم تمام مومنین کو حقیقی عزادارِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا قرار دے، ان کی رضا و خوشنودی نصیب فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha