حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا ناظم علی خیرآبادی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی شخصیت علم، عصمت، طہارت اور الٰہی معرفت کا روشن نمونہ ہے۔ آپؑ کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی روایات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل اور عظمت کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لقب ’’مُحَدثہ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ روایات کے مطابق فرشتے آپؑ سے کلام کرتے تھے اور آپؑ کو الٰہی معارف حاصل ہوتے تھے۔ تاہم، اس مقام کو نبوت سے الگ سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ آپؑ نبی نہیں تھیں۔
مولانا ناظم علی خیرآبادی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، مَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کا حصہ ہیں اور آپؑ کو اذیت دینا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔ یہ حدیث آپؑ کی عظمت اور حرمت کو واضح کرتی ہے۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ازدواجی زندگی کو اسلامی خاندان کے لیے نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان ہم آہنگی ایمان، علم، تقویٰ، کردار اور دینی ذمہ داریوں میں نمایاں تھی۔
مولانا ناظم علی خیرآبادی نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مختصر زندگی میں خواتین اور پورے معاشرے کے لیے بہت سے سبق موجود ہیں۔ آپؑ کی عبادت، صبر، علم، حیا، حق گوئی، خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور معاشرتی شعور قابلِ تقلید ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق شبہات کا جواب محض جذباتی ردِعمل کے بجائے علمی تحقیق، معتبر تاریخی منابع، احادیث اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ فاطمہ شناسی کا مقصد صرف آپؑ کے فضائل بیان کرنا نہیں، بلکہ آپؑ کی سیرت کو سمجھ کر عملی زندگی میں اپنانا بھی ہے، تاکہ نئی نسل آپؑ کے کردار سے رہنمائی حاصل کرسکے۔










آپ کا تبصرہ