جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 15:46
ایران کی اسٹریٹجک صبر کی پالیسی ختم ہو چکی ہے/ امریکہ کی دس کمزوریاں سامنے آ گئیں: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ قم کے امام جمعہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ نے امریکہ کی فوجی، اقتصادی اور سیاسی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب دشمن کے مقابلے میں اسٹریٹجک صبر اور مصلحتوں کے نام پر پیچھے ہٹنے کی پالیسی جاری نہیں رکھے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے 23 اکتوبر 2026 کو قم کے مصلیٰ قدس میں نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران اور محورِ مزاحمت پر جنگ مسلط کی، ایران جنگ شروع کرنے والا ملک نہیں تھا، بلکہ مذاکرات کے دوران معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایران اور امتِ اسلامیہ کو جھکنے پر مجبور کرنا تھا، لیکن آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مخالفین اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ ایرانی عوام اور محورِ مزاحمت نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اپنی مزاحمت جاری رکھی۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ امریکہ اپنی وسیع فوجی اور انٹیلی جنس طاقت کے باوجود کمزوریاں رکھتا ہے اور حالیہ جنگ میں اس کی کئی کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔

امریکہ کی دس کمزوریاں

1۔ دنیا میں امریکہ سے نفرت میں اضافہ: آیت اللہ اعرافی کے مطابق، امریکہ پر عالمی اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے اور دنیا میں اس کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی حکومت کے لیے یہ صورت حال سنگین ہے جو خود کو عالمی طاقت سمجھتی ہے۔

2۔ فوجی طاقت کے باوجود کمزوری: انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ کے پاس بڑے بحری بیڑے، جدید ہتھیار اور وسیع انٹیلی جنس وسائل ہونے کے باوجود وہ غیر روایتی جنگ میں کمزور ہے۔

3۔ ایران کے نئے مؤثر ذرائع: ان کے مطابق، آبنائے ہرمز، تیل کی قیمتوں، عالمی منڈیوں اور اقتصادی راستوں کی اہمیت نے واضح کر دیا کہ ایران اور محاذ مزاحمت کے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

4۔ امریکہ اور اسرائیل میں داخلی اختلافات: آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ جنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے اندر سیاسی اختلافات اور گروہ بندی میں شدت آئی ہے، جس سے ان کے داخلی مسائل مزید نمایاں ہوئے ہیں۔

5۔ اہداف کی فہرست میں اضافہ: انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں مخالفین کے ممکنہ اہداف کی فہرست مزید وسیع ہو گئی ہے اور اگر انہوں نے دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

6۔ حملہ کرکے نکل جانے کا دور ختم: آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ اب ایران پر حملہ کرکے بغیر کسی جواب کے واپس چلے جانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ایران کی مسلح افواج اور عوام اپنے رہبر کے احکامات کے مطابق جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

7۔ ایران کی اسٹریٹجک صبر کی پالیسی کا خاتمہ: انہوں نے کہا کہ ایران اب ہمسایہ ممالک یا دیگر مصلحتوں کا خیال کرتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں اپنی پالیسی محدود نہیں رکھے گا۔

8۔ اسرائیل کی بنیادیں کمزور: ان کے مطابق، اسرائیل بعض محاذوں پر کامیابیوں کے باوجود اندرونی طور پر کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے اور اسے مستقبل کی ایک ناقابلِ شکست طاقت نہیں سمجھا جا سکتا۔

9۔ امریکی معیشت کی کمزوریاں: آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ امریکہ کی معیشت بڑی ضرور ہے، لیکن اسے بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشت کے ایک دوسرے سے جڑے ہونے کے باعث دوسرے ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں۔

10۔ امریکہ کے ظلم اور غرور کا انکشاف: انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے دنیا کے سامنے امریکہ کے غرور، طاقت کے نشے اور دوسری قوموں پر اس کے دباؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

قومی اتحاد اور دفاعی تیاری پر زور

آیت اللہ اعرافی نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا مظاہرہ نہ کریں اور ملک کے دفاع، معیشت اور عوامی ضروریات کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اقتصادی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دشمن کسی بھی غلط اندازے سے گریز کرے۔

انہوں نے قومی اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، اسلام اور رہبرِ انقلاب کی قیادت کے محور پر اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے مسلح افواج کو تیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ نماز جمعہ، مذہبی اجتماعات اور اسلامی شعائر کے تحفظ کے ذریعے اپنی موجودگی اور اتحاد کا اظہار جاری رکھیں۔

آذربائیجان میں حجاب اور سعودی عرب و بحرین میں قیدیوں کا مسئلہ

قم کے امام جمعہ نے جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حجاب سمیت اسلامی اقدار کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حجاب کے خلاف اقدامات بند کیے جائیں گے اور مسلمان خواتین کے مذہبی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

انہوں نے سعودی عرب اور بحرین میں علما اور نوجوانوں کو طویل عرصے تک قید رکھنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی حکومتوں کو ظلم پر مبنی اس طرزِ عمل کو ختم کرنا چاہیے اور ایران سمیت عالمِ اسلام کے سفارتی اداروں کو قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت اور مقام

آیت اللہ اعرافی نے خطبۂ اول میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان بعض اختلافات کے باوجود آپؑ کی شخصیت اور فضائل کے بارے میں بہت سے مشترکہ عقائد موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مجمعِ جهانی تقریب مذاہب اسلامی کے تعاون سے تیار ہونے والی کتاب «السنة النبویة فی مصادر المذاهب الاسلامیة» کی ساتویں جلد میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و خصوصیات سے متعلق شیعہ اور اہل سنت کی معتبر کتابوں سے 800 سے زیادہ روایات جمع کی گئی ہیں۔ ان روایات میں آپؑ کے سو سے زیادہ فضائل اور امتیازات کا ذکر ہے۔

انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو علم، عبادت، پاکیزگی، حیا، عفت، حجاب اور تربیت کا کامل نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی زندگی خواتین اور مردوں، دونوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپؑ نے گھر اور معاشرے میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کی، مجاہدین کی مدد کی اور ولایت کا دفاع کیا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے بحرانوں میں حق اور ولایت کی حفاظت کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔ آپؑ نے مشکلات اور مظلومیت کے باوجود حق کا پرچم بلند رکھا اور امت کو گمراہی سے بچانے کی کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی ترقی کا راستہ علم و معرفت سے دوری اختیار کرنا نہیں، بلکہ علم، روحانیت، عفت اور معاشرتی کردار کو یکجا کرنا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک خاتون پاکیزگی اور حجاب کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے علم، سماجی خدمت اور قیادت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha